چھوٹا ہونے کیلئے لوٹا ہونا ضروری نہیں
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 10 فروری ، 2009
جو کچھ اوکاڑہ میں پیپلزپارٹی کے وزیر منظور وٹو اور ثمینہ گھرکی کے ساتھ ہوا ہے اب لوگوں کا وزیروں کیلئے ’’جھاکا‘‘ اُتر گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے مقامی رہنما سبطین بھٹی نے منظور وٹو کو لوٹا کہہ دیا۔ اس پر کوئی احتجاج نہیں ہوا بلکہ لوگوں نے بھٹی صاحب کے حق میں نعرے لگائے۔ پہلے وزیر شذیر اپنے آپ کو کچھ اور ہی مخلوق سمجھنے لگے تھے ۔ سیاسی خواتین و حضرات وزیر شذیر صرف سیاسی کاروبار چمکانے کیلئے بنتے ہیں۔ اب بھی ان کے آگے پیچھے ہاتھ باندھ کر چلنے والے خوشامدیوں کی کمی نہیں مگر اب ان لوگوں کی کمی بھی نہیں جو ان کے منہ پر سچی بات کرتے ہیں۔منظوروٹو کے ساتھ ساتھ ثمینہ گھرکی بھی تنقید کا نشانہ بنیں۔ اس کا شوہر خالد گھرکی صدر زرداری کا دوست ہے۔ ہمارے ہاں وزارتوں اور افسروں کیلئے یہی معیار ہے۔ اگر پاکستان کی سیاسی اور فوجی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو چند لوگوں کو چھوڑ کر ایک بھی وزیر نہیں ہے جو قابل ذکر ہو اور اس نے کوئی ایک بھی ایسا کام کیا ہو جو لوگوں کو یاد ہو۔ثمینہ گھرکی بہرحال پیپلزپارٹی میں تو ہیں جبکہ عورتوں کو ہمارے ہاں بیوی یا بیٹی ہونے کی وجہ سے وزارت ملتی ہے۔ جھنڈے والی کار میں بیٹھنا کس قدر مشکل ہے اور کتنا آسان ہے۔ یہ بات متضاد نہیں ہے۔ منظور وٹو بھی وفاقی وزیر بڑی مشکل سے بنے ہیں۔ یہ مشکل وٹو صاحب نے بڑی آسانی سے دور کر لی۔ صدر زرداری کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوئے کہ وہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کی حکومت بنوا سکتے ہیں اس سے پہلے کہ وہ وزیراعلیٰ بننے کی شرط لگا دیتے ۔ پہلے صدر زرداری نے انہیں مشیر اور پھر وزیر بنا دیا‘ اب ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔ بلکہ کئی وزیر اب مشیر بننے کی کوشش کر رہے ہیں مگر رحمان ملک ان کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔رحمان ملک نے اپنا وزیر داخلہ نہیں بننے دیا ایک اور ’’نان ممبر اسمبلی‘‘ شوکت ترین کو مشیر خزانہ بنایا تاکہ کوئی ممبر اسمبلی وزیر خزانہ بننے کی خواہش بھی نہ کرے۔ انہیں نوید قمر کا انجام یاد ہے۔ بیچارے کو اپنا آپ چھپانے کیلئے قومی اسمبلی میں وزیراعظم مخدوم گیلانی کی تقریر کے دوران نیند کی آغوش میں روپوش ہونا پڑا۔ حالانکہ بیچارے گیلانی صاحب نے نوید قمر پر کوئی تنقید نہیں کی۔ سنا ہے اب وہ صدر زرداری کے کچھ وزیروں کو ہٹانے والے ہیں۔
لفظ ’’لوٹا‘‘ سب سے پہلے منظور وٹو کیلئے استعمال کیا گیا۔ منظور وٹو اس حوالے سے اس مقام پر ہیں کہ کوئی ان کا مدمقابل نہیں۔ انہوں نے اپنی ہی جماعت کے اندر ساری کارروائی کی۔ وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں کا تختہ الٹا کے صرف 18 ممبران کے ساتھ انہوں نے پیپلزپارٹی کے ایک سو کے قریب ممبران کو اپنے ساتھ ملا لیا اور خود وزیراعلیٰ بن گئے۔ لوگ کہتے ہیں کہ تب وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی ہوتے تو منظور وٹو کامیاب نہ ہوتے۔ اب بھی پیپلزپارٹی سے پہلے انہوں نے (ن) لیگ میں جانے کی بہت کوشش کی پیپلزپارٹی میں جانے کے بعد ’’ماہر پنجابیات‘‘ کے طور پر اپنا سکہ چلانا چاہا۔ان کے سامنے اب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف ہیں۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے بھی محسوس کیا کہ اب منظور وٹو ایک چلے ہوئے کارتوس ہیں۔ چنانچہ اب ان کا کوئی کردار پنجاب میں نظر نہیں آتا۔ چودھری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی بھی سلمان تاثیر سے بات کرتے ہیں وہ بھی منظور وٹو کو کسی قابل نہیں سمجھتے اور نہ ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ جب اٹھارہ ساتھیوں کے ساتھ منظور وٹو وزیراعلیٰ بنے تو میں نے لکھا تھا کہ ہمیشہ نہریں نالے دریا میں گرتے ہیں پنجاب میں اب کے دریا نالے میں گر گیا ہے۔ کچھ عرصے کے بعد حامد ناصر چٹھہ‘ منظور وٹو سے بھی سیاسی حسد کرنے لگے اور ایسا چکر چلایا کہ نالا گندا نالا بن گیا۔ منظور وٹو کے لئے اب بھی پرانی گندگی کو نیا پن چٹھہ صاحب نے دیا ہے اور مسلم لیگ (ق) اور پیپلزپارٹی کے معاملات میں گندے نالے جیسا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ سلمان تاثیر ایم این اے چودھری پرویز الٰہی سے ملے ہیں۔ ایم پی اے حامد ناصر چٹھہ سے نہیں ملے۔
صوبائی وزیر اشرف سوہنا نے بتایا ہے کہ وٹو صاحب نے اپنی پارٹی کے ایک ورکر کی طرف سے اپنے آپ کو لوٹا کہنے کا بالکل بُرا نہیں منایا۔ اب لوٹا کے طعنے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ لوٹا ازم ایک سیاسی کلچر بن چکا ہے۔ اب تو پارٹی کے اندر بھی لوٹا ازم کی بات شروع ہو گئی ہے۔ پیپلزپارٹی میں سب لوگ صدر زرداری کے ساتھ تھے۔ اب کئی لوگ وزیراعظم مخدوم گیلانی کے ساتھی بنتے جا رہے ہیں۔ یہ کیسا وزیراعظم ہے جو اپنی عزتِ نفس کی حفاظت کرنا بھی جانتا ہے‘ اپنے منصب اور اپنی شخصیت کے وقار اور اعتبار کو بے توقیر نہیں ہونے دیتا۔ یہ کام تو وہ بھی نہ کر سکے جو کبھی لوٹے نہیں بنے۔ پس ثابت ہوا کہ چھوٹا ہونے کیلئے لوٹا ہونا ضروری نہیں۔
٭٭٭٭٭
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں