پاکستان کی ماں بھی مر گئی پاکستان کے باپ کے بعد
کس نے سر پر ہاتھ نہ رکھا قائداعظمؒ! آپ کے بعد
سر پر ہاتھ جو رکھنے آئے آنکھ بچا کر ”کر گئے ہاتھ“
جو کچھ اُن کے ”ہاتھ لگا“ جب گئے تو سب کچھ لے گئے ساتھ
کچھ نہیں رہتا باقی ”چیمہ!“ مائیں جب مر جاتی ہیں
رہتی ہیں باقی جو دعائیں جیتے جی کر جاتی ہیں
ہم نے بابا قائداعظمؒ، مادرِ ملت فاطمہؒ سے
زندہ رہنے، دُکھ سُکھ سہنے کے انداز نہیں سیکھے
ہم ناخلف رہے جمہوری تربیت نہیں ہو پائی
حلف اُٹھا کر نیکی کا، اچھی نیت نہیں ہو پائی
”بابا، ماں“ کے نقشِ قدم پر چلنا ہم نے چھوڑ دیا
پختہ ہوئی جو عادت بُری بدلنا ہم نے چھوڑ دیا
یہ سچ ہے کہ سر پہ کسی کے سدا نہیں رہتے ماں باپ
لیکن اُن کے نیک عمل کو زندہ رکھ سکتے ہیں آپ
گِر کر کبھی سنبھل پانے کی کوشش بھی نہیں ہم نے کی
جس سے ڈسے گئے پھر اُنگلی اُس سوراخ میں ہم نے دی
اب بھی وقت ہے ہم ”بابا اور ماں“ کی باتیں یاد کریں
اپنی حالت آپ سنواریں، غیر سے کیوں فریاد کریں
رب کے دئیے وسائل کی اس ملک میں کوئی کمی نہیں
یہ بھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس مٹی میں نمی نہیں
کمی ہے بس احساس کی ہم میں اِسی لئے بے آس ہیں ہم
جہاں سے منزل دُور نہیں اب اُس رستے کے پاس ہیں ہم
وہ رستہ ہے خودداری کا سر کو اُٹھا کر جینے کا
بہتر ہے اب ساتھ نہ دیں ہم کسی بھی یار کمینے کا