اپنے چہرے سے خوف کیوں؟

ـ 9 مارچ ، 2010
رفیق ڈوگر
وعدے اور معاہدے پورے کرنا، ہر حال میں سچ کا علم بلند رکھنا، کسی کو دھوکہ نہ دینا، انسانی اخلاقیات کی مسلمہ بنیادی قدریں ہیں جبکہ حکمرانوں کی اخلاقی قدروں میں سب کے حقوق کی حفاظت کرنا سب کے حقوق ادا کرنا آئین اور قانون کی پابندی کرنا گڈ گورننس کا قیام عوام کے مصائب کو دور کرنا ملک اور قوم کے اجتماعی مفاد پر اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کو قربان کردینا بھی شامل ہوتا ہے۔ حکمران ہی ماتحتوں کے لئے اخلاقیات کا اعلیٰ نمونہ قائم کرتے ہیں کیا غیر قانونی این آر او کے ذریعے اقتدار میں آئے حکمرانوں نے قوم کے سامنے اپنے ایسے اخلاقی کردار کی کوئی اعلیٰ مثال قائم کی ہے؟ 17 ویں ترمیم ختم کردینے کا وعدہ پورا کردیا ہے؟ 58 ٹو بی کے تحت آمر پرویز مشرف والے اختیارات بھٹو جمہوریت کے علمبرداروں نے چھوڑ دینے کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک وعدہ پورا کردیا ہے؟ نہیں تو کیوں نہیں؟ کونسی مشکلات تھیں ایسے وعدے پورے کرنے میں؟ 18 ویں ترمیم کاکیا تعلق تھا 17ویں ترمیم اور 58 ٹو بی کے خاتمہ سے؟ کیا یہ تعلق سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قائم نہیں کیا گیا؟ 1973ءکا آئین ذوالفقار علی بھٹو کی دین ہے تو کیا رکاوٹ تھی اسے پہلے ہی روز بحال کردینے میں؟ ملک میں عام انتخابات ہوئے پچیس ماہ ہو رہے ہیں اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود جمہوریت کے پارلیمنٹ کے آزاد اور خود مختار ہونے کے بنیادی اصول کی ابھی تک خلاف ورزی کی جا رہی ہے؟ کیا عوام سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزیاں نہیں کی گئیں اور کی جا رہیں؟ این آر او کو غیر قانونی قرار دیئے کتنا عرصہ ہوگیا ہے؟ کیا اس فیصلے پر عملدرآمد کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کردی گئی ہیں اگر نہیں تو کیوں؟ کیوں نہیں بتایا جا رہا قوم کو اس بارے میں سچ؟ کس کو دھوکہ دیا جا رہا ہے؟ مبینہ کرپشن کے وہ مقدمات جن سے ساری دنیا آگاہ ہے وہ الزامات جو طویل سماعتوں کے باوجود غلط ثابت نہیں کئے جاسکے تھے کیوں نہیں وہ مقدمات بحال کرانے کے عدالتی حکم پر عمل کیا جارہا؟ وہ سب افراد جن کے خلاف ایسے مقدمات اور الزامات ہیں کیوں ملک کے اہم منصبوں پر فائز کردیئے گئے ہیں؟ کونسی اخلاقیات کی قدروں کی ہے یہ سربلندی؟ نہ قوانین کی پابندی نہ حکمرانی کے اصولوں کا کوئی بھی خیال نہ ملک اور معاشرے کی مسلمہ اخلاقی قدروں پر عمل۔ کیا اعلیٰ اخلاقی نمونہ پیش کیا جا رہا ہے عوام کے سامنے اور ساری دنیا کے سامنے؟ غیر قانونی، غیر اخلاقی ،غیر اصولی، غیر جمہوری اور غیر قومی این آر او کے نتیجے میں چیف ایگزیکٹو بنے مبلغ اخلاقیات اپنے پہلے خطبہ جمعہ میں فرما رہے تھے کہ” ہماری نیت صاف ہے ہمارا دامن صاف ہے اور ہمارا ضمیر مطمئن ہے“ اس پر انا للہ نہ بھی کہیں تو یہ تو پوچھا ہی جاسکتا ہے کہ کیا دیتی ہے آپ کی دو سال کی حکمرانی اس کی گواہی؟ نیت صاف ہے تو آمریت کا گند کیوں نہیں صاف کیا گیا ابھی تک؟ کیوں نہیں مل سکی جمہوریت کو ابھی تک آزادی پرویز مشرف کی وراثت سے؟ کس مقصد کے حصول کیلئے دی گئی ہے اتنے وسیع پیمانے پر وزارتوں مشاورتوں کی رشوت؟ ہم نہیں کہتے کہ حکمرانی کے اتنے بلند منبر سے خطبہ دیتے ہوئے سید اورگیلانی نے اپنی نیت کی صفائی کے بارے میں کوئی غلط بات کہی تھی ہوسکتا نیتوں کو ناپنے کا ان کا کوئی اپنا پیمانہ ہو۔ عوام سے الگ۔ وہ صرف اتنا بتا دیں اس خطبہ میں کہ دو سال کے حالات و واقعات اور شریفین اور سول سوسائٹی والے اور کالا کوٹ برادری اور ماہرین قانون ان کی پارٹی اس کے مالک و مختار کی حکمرانی کی نیت کی صفائی کی گواہی میں ان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے کیوں نہیں ہو رہے؟ ہم کیا کریں؟ ان کو سچا مانیں یا نہ مانیں؟ آپ فرما تے ہیں ہمارا دامن صاف ہے تو پھر کیوں نہیں حاصل کرلیتے اتنی بڑی صفائی کے سرٹیفکیٹ بیرون ملک کی عدالتوں سے بھی؟ دامن صاف ہے تو پھر استثنیٰ کا دعویٰ کس لئے؟ کیوں نہیں کیا جا رہا عدالت عالیہ کے فیصلے اور احکام پر عمل؟ آپ نے فرمایا ہے کہ ججوں کو ہم نے بحال کیا تھا۔ مان لیں اس کو بھی حاکمانہ سچ؟ آپ نے فرمایا کہ ججوں کی تقرری آپ کا ہی سنہری کارنامہ ہے۔ اور کسی سے نہیں تو شریف برادران سے ہی لے دیں اس بارے میں کوئی تصدیقی سند اگر میڈیا والے پوچھ لیتے ہیں کہ وعدے پورے کیوں نہیں کئے جا رہے۔ سرکاری سچ کے معروضی حقائق تصدیق کیوں نہیں کرتے۔ حکمران ایسی اعلیٰ اخلاقی قدروں کی کوئی مثال کیوں قائم نہیں کرسکے جس کی ساری قوم بشمول میڈیا پیروی کرے۔ این آر او قبیلہ اور حکمرانوں کی حفاظت کے لئے مسلمہ اعلیٰ قانونی انسانی حکمرانی اور اخلاقی اصولوں کا کیوں خون بہایا جا رہا ہے؟ پارلیمنٹ کو آزاد اور خود مختار بنانے کے وعدے کیوں پورے نہیں کئے گئے ملک میں سب مصائب صرف عوام ہی کے لئے کیوں ہیں؟ حکمرانوں اور ان کے اقارب کے حقوق باقی انسانوں سے اور ملک کے عوام سے مقدس کیوں بنا دیئے گئے ہیں؟ این آر او کے کالعدم قراردیئے جانے کے باوجود اس کے کرنے والوں کے سامراجیوں سے کئے وعدے کیوں پورے کئے جا رہے ہیں تو اس سے کونسی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہو جاتی ہے؟ کیا بتائیں گے ہمارے فرض کی اخلاقی حدود مبلغ اخلاقیات اگلے خطبہ جمعہ میں؟ تین سال بعد عوام کی عدالت میں جانے کے پہاڑوں پر زور زباں و بیاں ضائع کرنے کی بجائے قانون اور انصاف کی عدالت سے فرار کی راہیں کیوں ڈھونڈی جا رہی ہیں؟ کیوں نہیں لیا جاتا ان عدالتوں سے فیصلہ کہ باقی تین سالوں میں کسی کو حکمرانوں کے کردار کی طرف انگلی اٹھانے کی جرا¿ت ہی نہ ہو؟ آئینے سے خوف تو اپنے ہی چہرے سے خوف ہوتا ہے حکمرانی کے جس چہرے سے خود حکمران خوفزدہ ہیں کیسے ہو جائیں سارے محکوم اس کے عاشق؟ کیسے بن جائیں وہ بھی سید یوسف رضا گیلانی؟ حزب اختلاف والے میڈیا والے عوام والے سب کیسے بن جائیں سید یوسف رضا گیلانی؟ ملتان کو اپنی محفوظ سیاسی گدی بنانے پر عوام کے خون پسینے کی کمائی کیسے بہائی جا رہی ہے اور ملک کے باقی شہروں سے کیا سلوک کیا جا رہا ہے اس فرق کی ہی تفصیلات بتا دیں دامن کی صفائی مزید واضح ہو جائے گی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں