نظامی برادران اور پاکستانی برادری
ـ 9 مارچ ، 2010
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
یوم حمید نظامی پر ایک یادگار اور شاندار تقریب ہوئی، مقررین نے حمید نظامی کی یاد میں مجید نظامی کے ذکر کو شامل کیا، نظامی صاحبان صحافی برادری کے لئے اعتبار، وقار اور جرا¿ت اظہار کی ایک زندہ روایت کی طرح ہیں۔ ممتاز شاعرہ، ادیبہ، خطیبہ، کالم نگار، ایم این اے اور بُلبلِ پاکستان بشریٰ رحمان نے کہا کہ نظامی وہ ہے جو نظام بدلنے کی آرزو اور ارادہ سے لبریز ہو۔ آرزو ہی ارادہ بنتی ہے تو قدرت اس کی مددگار ہو جاتی ہے۔ اپنے بڑے بھائی حمید نظامی کی یاد سے مجید نظامی نے دلوں کو آباد رکھا ہے۔ 23 مارچ 2010ءکو نوائے وقت کی اشاعت کو 70 برس ہو رہے ہیں جس میں سے پچاس مجید نظامی کے ہیں۔ اللہ انہیں سلامت رکھے (آمین)۔ حمید نظامی نوائے وقت کے بانی ہیں، نوائے وقت کے دور ثانی کے بانی مجید نظامی ہیں۔ نصف صدی کی حکایت کو حقیقت بنانے میں وہ سرخرو اور سرشار ہوئے ہیں۔
جنرل حمید گل نے مجید نظامی کو حمید نظامی کا تسلسل قرار دیا۔ جنرل حمید گل کو ریٹائرڈ جنرل کہنے کو جی نہیں چاہتا۔ شاہد رشید انہیں ”غازی پاکستان“ کہتے ہیں۔ امریکہ اور بھارت صرف دو آدمیوں سے ڈرتے ہیں مجاہد ملت مجید نظامی اور جنرل حمید گل سے مجید نظامی کہتے ہیں کہ حمید نظامی میرے بڑے بھائی تھے۔ حمید گل میرے چھوٹے بھائی ہیں۔ دونوں صاحب سیف وقلم ہیں....
یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
ج: سے جج، جرنیل اور جرنلسٹ تو سنا تھا، جنرل حمید گل نے کہا کہ ج سے جہاد، جمہوریت اور جوہری صلاحیت بنے۔ یہ بھی کہا گیا کہ نوائے وقت ایٹم بم ہے۔ مجید نظامی نے کئی بار کہا کہ میں ایٹم بم بن کر بھارت پر گِرنا چاہتا ہوں۔ وہ پاکستان میں جہاد اور جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ چیلنجز سے نبٹنے کے لئے حمید نظامی کی سوچ کو اپنایا جائے۔ مجید نظامی نے حمید نظامی کے مشن کو آگے بڑھایا ہے۔ جنرل حمید گل نے بہت خوب بات انگریزی کے محاورے کے حوالے سے کی کہ King is dead Long live king بادشاہ مر گیا اللہ بادشاہ کی زندگی دراز کرے۔ حمید نظامی چلے گئے، مجید نظامی موجود ہیں اللہ انہیں دیر تک ہمارے درمیان موجود رکھے۔ یہ ایک تسلسل ہے جو ہمیشہ جاری رہے گا۔ سی پی این ای کے صدر لیڈر صحافی خوشنود علی خان نے کہا کہ اللہ کرے ہر کسی کو مجید نظامی جیسا بھائی ملے۔ حمید نظامی کی نظریاتی وراثت کو برادرانہ وراثت کی مسیحائی اور عظمت مجید نظامی نے عطا کی۔ حمید نظامی پاکستان بننے کے 14 سال بعد فوت ہو گئے انہوں نے خود مجید نظامی کو انگلستان سے بلایا اور خود سب کچھ ان کے حوالے کر دیا وہ 50 سال سے اس عظیم وراثت کے تمام تقاضے پورے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ ذاتی اثاثے نہیں بنائے سب کچھ قوم کے لئے وقف کر دیا۔ قوم نوائے وقت کی وارث ہے اور وہ مجید نظامی کے ساتھ ہے۔ اللہ نے حمید نظامی کو جتنا موقع دیا۔ انہوں نے اس سے بڑھ کر کام کیا۔ مجید نظامی نے اس کام کو کارنامہ بنا دیا ہے صحافی برادری میں نظامی برادران، جرا¿ت اظہار اور صداقت اظہار کی سب سے اعلیٰ مثال ہیں۔ مجھے ہر روز کئی فون آتے ہیں۔ ملتان سے عبدالباسط خاکوانی نے کہا ہے کہ میری طرف سے علامہ اقبالؒؒ کا یہ شعر مجید نظامی صاحب کی خدمت میں پیش کریں....
اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
خاکوانی صاحب کہتے ہیں کہ ”مجید نظامی ایک بیش بہا انسان ہیں ان کی بات سنی جاتی ہے، وہ دو قومی نظریہ کے فروغ کے لئے بھارت کی دشمنی سے لوگوں کو بچانے کے لئے امریکہ کو للکارنے کے لئے میدان میں ہیں۔ وہ ایک تھنک ٹینک بنائیں اور اس قوم کی رہنمائی کریں۔ امریکی میرین اسلام آباد پر قبضہ کرنے والے ہیں، بھارت پانی بند کر کے پاکستان کو ریگستان بنا رہا ہے“ میں نے خاکوانی صاحب کو بتایا کہ یوم حمید نظامی پر لوگوں نے قائداعظمؒ ، علامہ اقبالؒ حمید نظامی اور مجید نظامی کے نعرے بلند کئے۔ تینوں تصویریں خاموش تھیں اور مجید نظامی کسی گہری سوچ میں گُم تھے۔
ہر مقرر حمید نظامی کی یاد میں مجید نظامی کا ذکر ملائے چلا جا رہا تھا یہ ذکر اب ذکر خیر بن گیا ہے۔ مجید نظامی کی آرزو ہے کہ جو باخبر ہیں وہ اہل خبر بن جائیں، اہل خبر ہی اصل میں اہل خیر ہوتے ہیں۔ حضرت پیر کبیر علی شاہ کی روحانی قیادت میں بہت لوگ محفل میں آئے تھے۔ فضا حق ھُو سے گونجنے لگی تھی۔ یہ کلمہ حق کی خوشبو ہے، کلمہ حق جہاد ہے۔ حضرت پیر کبیر علی شاہ نے محفل کو زندہ کر دیا۔ روحوں کو گرمایا اور دلوں کو تڑپایا۔ یہ کام اس سے پہلے خوشنود علی خان نے کیا۔ حاضرین میں سے آواز آئی کہ خوشنود نے ”کڑاکے کڈھ“ دتے نیں۔ اس نے اپنے آپ کو خوش نصیب کہا کہ مجھے مجید نظامی کی قربت ملی ہے۔ وہ ”جناح“ کا چیف ایڈیٹر ہے اور اخبار کو محمد علی جناح کا اخبار بنانا چاہتا ہے۔
چورہ شریف کے سجادہ نشین پیر کبیر علی شاہ عالمی مبلغ ہیں۔ پچھلے 50 سال سے اشاعت دین کا کام کر رہے ہیں۔ اب تک کروڑوں بار درود شریف پڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے جرا¿ت اظہار کے حوالے مجید نظامی کو اپنا رہنما تسلیم کیا۔ انہوں نے دستار فضلیت خود مجید نظامی کو باندھی۔ اس موقع پر تین اکابر حضرات قاضی حسین احمد، غوث علی شاہ اور سرتاج عزیز بھی موجود تھے۔
صدر محفل کرنل امجد حسین حمید نظامی کے سب سے پرانے دوست ہیں۔ یہ بھی روایت قائم ہوئی کہ انہوں نے سب سے پہلے محفل سے خطاب کیا۔ اس لمحے کی گواہی دی جب علامہ اقبالؒ نے حمید نظامی کو مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن بنانے کی ہدایت کی، اور وہ ہی ایم ایس ایف کے پہلے صدر تھے۔ ایک شاندار بوڑھے کے بعد ایک شاندار نوجوان لیڈر خواجہ سعد رفیق نے خطاب کیا وہ مسلم سٹوڈنٹس کے سابق صدر ہیں ابھی تک سٹوڈنٹ لیڈر کی بے قراریاں اس کے وجود میں تڑپتی ہیں۔ اس نے سیاست میں بے مثال جدوجہد کی ہے۔ شاید اس وقت وہ مسلم لیگ ن میں سب سے اچھے مقرر ہیں۔ اس نے کہا کہ نوائے وقت سیاستدانوں کو آئینہ دکھاتا ہے اور راستہ بھی دکھاتا ہے۔ حمید نظامی نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن بنائی تو مسلم لیگ کو طاقت ملی۔ مجید نظامی حمید نظامی کے سچے جانشین ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کو پرنٹ میڈیا کے فٹ پرنٹس پر چلنا چاہئے۔ خواجہ صاحب، قاضی حسین احمد کو مجاہد پاکستان کہتے رہے میں قاضی حسین احمد کو بھی کبھی سابق امیر جماعت اسلامی نہیں کہتا۔ میں نے تو کبھی چیف جسٹس افتخار چودھری کو غیر فعال چیف جسٹس نہیں لکھا تھا۔ کسی سیاسی جماعت میں کوئی عام آدمی لیڈر نہیں بن سکتا۔ جماعت اسلامی میں ایک غریب آدمی بھی امیر جماعت ہو سکتا ہے۔ عمران خان دیر سے پہنچے ان کی تقریر دیر آید درست آید کے مصداق بہت پسند کی گئی۔ اس نے کہا کہ حمید نظامی میرے والد مرحوم کے دوست تھے اور میں نے گھر میں ان کا بڑا ذکر سنا ہے۔ میں نے مجید نظامی کو دیکھا ہے اور وہ اپنے بھائی کی مکمل تصویر ہیں وہ نظریئے کا جہاد کر رہے ہیں۔ جہاد سے بھی زیادہ قلم کے جہاد کی ضرورت ہے۔
تقریب کے لئے شاہد رشید اور ان کے ساتھیوں نے بہت محنت کی۔ شاہد رشید کو نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں کامیاب تقریبات کا بڑا تجربہ ہے۔ سلمان غنی اخبار کی طرف سے بہت سرگرم تھے۔ یہ نوائے وقت کی تقریب تھی اور حمید نظامی میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام اجتماع یہ پہلا اجتماع تھا اس شاندار ابتداءپر لوگوں نے مجید نظامی کو مبارکباد دی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں