کچھ ”ایک رُوح کی سرشاری“ پر
خالد احمد ـ 9 مارچ ، 2010
علوم اور فنون کی تاریخ میں دو بھائی، دو بہنیں نام پاتے دکھائی دیتے رہے ہیں! ان دونوں دنیاﺅں میں میاں بیوی بھی نام وری کی انتہائیں چھوتے نظر آتے ہیں! باپ اور بیٹا، ماں اور بیٹی کی بھی مثالیں موجود ہیں! حتٰی کہ ایک بھائی ”علوم کی دنیا“ میں اور دوسرا بھائی ”فنون کی دنیا“ میں امر ہوتے بھی دکھائے دیتے ہیں! انسانی تاریخ کے ممتاز ترین سائنسدان گلیلیو اور معروف ترین مجسمہ ساز مائیکل اینجلیو آپس میں سگے بھائی تھے! مگر پیشہ¿ صحافت اور پیشہ¿ وکالت سے منسلک دو بھائی ایک ہی اخبار کے عروج میں تسلسل پیدا کرتے اور عروج کی ایک نئی داستان رقم کرتے کہیں اور کبھی یوں سامنے نہیں آئے جیسے ”نظامی برادران“ نوائے وقت کے روپ میں ہماری آنکھوں کے سامنے آئے! جناب مجید نظامی جناب حمید نظامیؒ کی علالت کی خبر ملتے ہی برطانیہ میں اپنی ہر شے چھوڑ
چھاڑ لاہور کی طرف لپکے اور جناب حمید نظامیؒ کے سرہانے آن کھڑے ہوئے! ”تم آگئے! اچھا کیا!“ جناب حمید نظامیؒ نے کہا اور آنکھیں موند لیں! مگر اس دن کے بعد جناب مجید نظامی نے سونا چھوڑ دیا! دن رات ایک کر دیئے! اُن دنوں نوائے وقت لاہور کا دفتر کرائے کی عمارت میں تھا! اور ”نوائے وقت“ جنابِ شورش کاشمیری کے مملوکہ پرےس چٹان پرنٹنگ پریس میں چھپا کرتا تھا! انہی دنوں ایک بہت دلچسپ واقعہ ہوا! جسٹس اے آر کیانی کی تقاریر کی دھوم کا دور تھا! جنابِ کیانی نے ایک تقریر کی اور جنابِ مجید نظامی نے ان سے یہ تقریر نوائے وقت کےلئے مانگ لی جو انہوں نے بصد شوق انہیں عنایت کر دی! صبح کے نوائے وقت میں یہ تقریر لفظ بہ لفظ پورے ”متن“ کے طور پر درج ہونا تھی اور کوہستان لاہور کے رپورٹر جناب سعادت خیالی اپنی تمام ترفتنہ سامانیوں کے ساتھ شہر میں چکراتے پھر رہے تھے حتٰی کہ نوائے وقت کی کاپیاں طباعت کےلئے چٹان پریس میں پہنچ گئیں! طباعت شروع ہوئی تو باہر گلی میں ہنگامہ ہوگیا، ”چور چور“ کے شور کے ساتھ ایک گھبرایا ہوا لڑکا چٹان پریس میں داخل ہوا اور اس کے پیچھے اسے پکڑنے والے تین آدمی داخل ہوئے! ان تینوں نے لڑکے کو جا لیا اور اسے بری طرح زدوکوب کرنے لگے اور پھر اسے گریبان سے پکڑ کر ”چٹان پریس“ سے باہر آگئے! اگلے روز ”نوائے وقت“ کے ساتھ ساتھ ”کوہستان“ میں بھی جناب اے آر کیانی کی پوری تقریر کا ”پورا متن“ لفظ بہ لفظ درج تھا!
یہ ”ہنگامہ“ صرف نوائے وقت کے مطلوبہ ”مطبوعہ صفحات“ اڑانے کےلئے گرم کیا گیا تھا! مگر اس واقعے نے جناب مجید نظامی کو اپنا ”پریس“ لگانے کا ہدف دے دیا! اور نوائے وقت اپنے پریس سے نکلنے لگا! دفتر اپنی ”عمارت“ میں شفٹ ہوگیا اور پھر ایک روز جناب مجید نظامی نے وہ ”دفتر“ اپنی ”عینک“ اُٹھا کر ہمیشہ کےلئے چھوڑ دیا! مگر ایک دن آیا کہ جناب مجید نظامی سے دوبارہ ”نوائے وقت، لاہور“ نکالنے میں مدد دینے کی درخواست کی گئی اور جناب مجید نظامی نے آئندہ دنوں میں آنے والے کسی بھی ”واقعے“ سے بچنے کےلئے تمام تر ”واجبات“ سمیت حتٰی کہ ”نوائے وقت، لاہور“ کی پیشانی کے حقوق سمیت ہر شے کی ”قیمت“ ادا کر دینے کے بعد ”اپنے دفتر“ میں قدم رکھا!
آج نوائے وقت، دی نیشن، ندائے ملت، فیملی میگزین اور پھول کے ساتھ ساتھ وقت ٹیلی ویژن نیٹ ورک بھی ندائے ملت (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی ملکیت ہے۔
بات صرف یہ تھی اور ہے کہ جناب مجید نظامی ایک انتہائی اچھے منتظم ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی اچھے ”مالیاتی منتظم“ بھی ہیں! ”نقدی کا بھاﺅ“ یا ”Cash Flow“ برقرار رکھنا اور اسے ایک حد سے نیچے نہ آنے دینا دن رات کی چوکسی اور دن رات کی متسلسل اور متواتر محنت کے بغیر ممکن نہیں! یوں بھی جناب مجید نظامی کے ہاتھ میں دولت اور شہرت کی لکیر اُن پر خدا کے انتہائی فضل کی دلیل بن کر دوسری لکیروں کے تقابل میں روشن تر ہے!
جناب مجید نظامی نے آج سے چار سال قبل ایک پنج ستارہ ہوٹل میں ”مجلس پاکستان“ کے زیراہتمام برپا ہونے والی تقریب میں وزیر اطلاعات جناب محمد علی درانی کی موجودگی میں فرمایا تھا! ”ہم نے اتنی محنت اس لئے نہیں کی کہ ہمیں لوگ بتائیں کہ ہم کو کیا کرنا ہے؟ ہم اپنے ضمیر کے آگے جواب دہ ہیں اور بس!“ اور اس روز ہمیں احساس ہوا کہ جب انہوں نے نواب آف کالا باغ سے کہا تھا ”YOU WILL NOT FIND ME A LESSER MAN!“ تو وہ کیا کہہ رہے تھے!
آج نشانِ جمہوریت کی سربلندی دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ جنابِ حمید نظامیؒ کی رُوح جتنی سرشار اب ہوگی! ماضی میں کبھی نہ ہوئی ہو گی!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں