ایک مرتبہ پھر پاکستان ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی

ـ 9 مارچ ، 2010
محمد اشرف چودھری
عالمی کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں 24 سال بعد ایک مرتبہ پھر پاکستان ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ اب قومی ٹیم بھارت میں جاری میگا ایونٹ میں گیارہویں اور بارہویں پوزیشن کےلئے جمعرات کو میدان میں اترے گی۔ یہ پہلا موقع نہیں اس سے قبل بھی یہ موقع آچکا ہے جب 1986ءمیں لندن میں ہونے والے چھٹے عالمی کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان ٹیم نے سٹار کھلاڑیوں کی موجودگی میں 11ویں پوزیشن حاصل کی تھی۔ ٹیم کی قیادت حکیم اللہ کر رہے تھے۔ جبکہ سٹار کھلاڑیوں میں شہباز احمد، منصور احمد، قاسم ضیائ، ایاز محمود، حسن سردار، سلیم شیروانی، رشیدالحسن، فرصت حسین اور اشتیاق احمد شامل تھے۔ اتنے زیادہ سٹار کھلاڑیوں کے باوجود اگر پاکستان ٹیم اگر ٹائٹل کا دفاع کرنے کے بجائے 11ویں پوزیشن حاصل کرتی ہے تو یہ بات حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت ہمارے کھلاڑیوں کا کھیل ہی اتنا رہ گیا تھا۔ رواں عالمی کپ میں بھی قومی ٹیم کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا تھوڑا فرق یہ تھا کہ سٹار کھلاڑیوں کی ایک لمبی فہرست کے برعکس چار سے پانچ سینئر کھلاڑی تھے جن کے کھیل نے پوری قوم کو مایوس کیا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کھلاڑیوں کو میگا ایونٹ کی تیاری کےلئے بھرپور موقع دیا جس میں فرانس ارجنٹائن، انگلینڈ اور قطر کا دورہ شامل تھے۔ فرانس میں قومی ٹیم نے ورلڈکپ کوالیفائنگ راﺅنڈ میں شرکت کی، ارجنٹائن میں چیمپئنز چیلنج کپ ٹورنامنٹ کھیلا، انگلینڈ میں میزبان ٹیم کے خلاف ٹیسٹ سیریز جبکہ ہالینڈ کے خلاف قطر کے شہر دوحہ میں ٹیسٹ سیریز کھیلی۔ میگا ایونٹ سے قبل لاہور میں لگائے جانے والے تربیتی کیمپ میں بھی بھرپور محنت کرائی گئی۔ اس کے باوجود میگا ایونٹ میں مایوس کن کارکردگی لمحہ فکریہ ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے بھی کھلاڑیوں اور کھیل کی ترقی کےلئے ہنگامی اقدامات اٹھائے لیکن کسی ایک کا بھی فائدہ نہ ہو سکا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اعلیٰ حکام کو سخت اقدامات کرتے ہوئے ”کڑوے“ فیصلے کرنے ہونگے اور اپنے گرد خوشامدیوں کے ٹولے کو ختم کرنا ہوگا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اعلیٰ حکام کو فوری طور پر ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا کر معلوم کرنا چاہئے کہ آخر ہمارے سینئر کھلاڑیوں کے اسباب کیا تھے کیونکہ پاکستان ٹیم کا تمام دارومدار انہیں کھلاڑیوں پر تھا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں