وقت کی آزاد عدالت

رفیق ڈوگر ـ 9 مارچ ، 2009
رفیق ڈوگر
کائنات کے خالق اور مالک نے اپنے بندوں کو جن نعمتوں سے نواز رکھا ہے ان میں سے ایک نعمت ہے وقت‘ اور وقت کا ضائع کرنا ایسا جرم ہے جس کی سزا کیلئے کسی آزاد عدلیہ کی ضرورت نہیں ہوتی اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو اسی دنیا میں خود وقت کی اپنی عدالت سزا سناتی ہے ایسی سزا جس کے خلاف نہ کوئی اپیل ہو سکتی ہے نہ تحریک چلائی جا سکتی ہے۔ اس ناقابل معافی جرم سے بچنے کیلئے کوشش ہوتی ہے وقت کی عزت کی جائے اس کے احترام میں اہلِ قیادت و سیادت کے فرمودات و اعلانات دیکھنے‘ سننے پر اپنا وقت ضائع نہ کیا جائے۔ ایک روز ویسے ہی شاید وقت کے احترام کی تھکاوٹ دور کرنے کیلئے ٹیلی ویژن چالو کیا تو وہی عدلیہ کی آزادی جمہوریت کی ضرورت عوام اور ملک کے دکھ درد کی چیخ و پکار چل رہی تھی۔ کس چینل پر کیا چل رہا ہے؟ دیکھنے کو وہ جو ریموٹ کنٹرول کا آ لہ ہوتا ہے اس سے مدد لینا چاہی تو وہ جام ہو چکا تھا بہت کوشش کی پروگرام بدل ہی نہیں رہا تھا معلوم ہوا وہ بچوں کے ہاتھ چڑھ گیا تھا۔ مجبوری تھی ٹیلی ویژن کی گنڈی دبا کر کتاب کھول لی۔ رات کو خبر و خدمات سے آگاہی کیلئے گئے تو مسلم لیگ (ن) کے قائد عوام و خاص فرما رہے تھے کہ ’’صدر آصف علی زرداری پارلیمنٹ کو ریموٹ کنٹرولر سے کنٹرول کر رہے ہیں۔‘‘ اور عمران خاں اہل کالا کوٹ کو بتا رہا تھا کہ ’’حکومت پاکستان کو امریکہ ریموٹ کنٹرول سے چلا رہا ہے۔‘‘ اگر میاں صاحب اور عمران خاں درست فرماتے ہیں تو کیا ایسا تو نہیں ہو گیا کہ صدر آصف علی زرداری کا پارلیمنٹ کو کنٹرول کرنے والا ریموٹ کنٹرولر بھی جام ہو چکا ہے؟ اس سے بھی ان کی پارٹی اور حکومت کے ان کے پیارے راج دلارے بچے کھیلتے رہے ہیں؟ پارلیمنٹ میں میاں صاحب کی پارٹی بھی ہے حضرت و مولانا فضل الرحمان کی پارٹی بھی ہے‘ پیرالطاف حسین کی پارٹی بھی ہے اور (ق) لیگ بھی ہے اور ان سب کو آصف علی زرداری ریموٹ کنٹرول سے کنٹرول کر رہا ہے؟ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ پارلیمنٹ میں ان سب پارٹیوں کے اپنے اپنے پارٹی پروگراموں کے بارے میں اظہار خیال ہو رہا ہو اور ایوانِ صدر کے مکین کو اپنی حاکمانہ سکرین پر صرف اپنی پارٹی کا ست رنگیا پروگرام ہی دکھائی اور سنائی دیتا ہو ملک کے اندر کیا ہو رہا ہے وہ تو مان لیا صدر مکرم صرف مشیر داخلہ کی رپورٹوں کی روشنی میں ہی دیکھنے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں مگر پارلیمنٹ کے اندر کا سارا دھوم دھڑکا تو ان کی سکرین پر آنا چاہئے تھا اگر ایسا نہیں ہو رہا تو ان کا پارلیمنٹ کو کنٹرول کرنے والا ریموٹ کنٹرول کا آلہ بھی ان کے راج دلارے بچوں کے ہتھے چڑھ گیا ہوا ہے اور وہ بھی کوئی اور پروگرام دیکھنے اور سننے کے قابل نہیں رہے اور کوئی چینل بدل ہی نہیں سکتے۔ یہ دیکھنے کو کہ اُدھر کیا کچھ چل رہا ہے اگر ان کا ریموٹ کنٹرول کرنے کا آلہ بھی ان کے راج دلارے بچوں کے ہاتھ چڑھ گیا ہوا ہے اور وہ بھی کوئی پروگرام دیکھنے اور سننے کے قابل نہیں رہے اور کوئی چینل بدل ہی نہیں سکتے۔ یہ دیکھنے کو کہ ادھر کیا چل رہا ہے اگر ان کا ریمورٹ کنٹرول کرنے کا آلہ بھی ان کے راج دُلارے بچوں کے ہاتھ چڑھ گیا ہوا ہے تو وہ بھی اپنے ایک ہی پروگرام پیش کرنے والے چینل کی گنڈی دبا کر کوئی اور مصروفیت کیوں نہیں ڈھونڈ لیتے؟ کیا امریکہ کے پاس انہیں کنٹرول کرنے والا مبینہ آلہ کنٹرول اتنا ایڈوانس ہے کہ وہ انہیں اپنی کسی متبادل مصروفیت کیلئے بھی آزاد نہیں کر رہا؟ صدر مکرم کا وقت صرف ان اکیلے کا ہی نہیں ان کا وقت اس ملک کے سولہ کروڑ عوام کی ان کے پاس امانت ہے ان بے کس اور بے بس عوام کی امانت جن کے خون سے ان کے نصف درجن کے قریب ایوان ہائے صدر میں ایک ہی پروگرام چل رہا ہے جن کا ماہانہ کروڑوں روپیہ ان پر اور ان کے اس وقت پر خرچ ہو رہا ہے جو وہ ایک ہی ’’راج کرے گا خالصہ‘‘ پروگرام دیکھنے میں خرچ کر رہے ہیں اگر امریکہ کو بھی وہی ان کا من پسند راج کرے گا خالصہ پروگرام ہی پسند ہے تو وہ خود بچوں کے کھیل کود سے دل بہلانے سے کچھ وقت نکال کر اپنے پیشرو سے ہی پوچھ لیں کہ امریکہ کو پاکستان میں خالصہ راج ہی کیوں پسند ہوتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ ایک ہی سرکاری ‘ درباری چینل کے سامنے بیٹھے خوش ہوتے رہیں اور وقت کی عدالت اپنا فیصلہ سنا دے۔ میاں نوازشریف صاحب بھی سنا ہے بڑے بااثر اہل خدمت ہیں اگر ایسا ہے تو وہ اس ملک اور قوم کی تھوڑی سی اور خدمت کریں اور اپنے برادر خور کو کوئی نیا ریموٹ کنٹرولر لا دیں کہیں سے ایسا جو ان کے راج دلارے بچے خراب کر کے انہیں ایک ہی اپنے کھیل کود کا پروگرام دیکھنے کا پابند نہ رکھ سکیں۔ ان کے من پسند یا اس چینل پر جو وہ بدل نہیں سکتے ایک اشتہاری سلوگن چل رہا ہے۔ ’’صدر زرداری وفاق کی علامت ہیں ان کی عزت سب پر فرض ہے‘‘ہمیں تو اس سے ان کی وزیراطلاعات سے بھی پانچ دس کروڑ گنا زیادہ اتفاق ہے مگر جو پروگرام چینل وہ نہیں دیکھ سکتے ان پر یہ بھی تو چل رہا ہے کہ ’’صدر کو وفاق کی علامت بننا چاہئے۔‘‘وہ تو کہتے ہیں کہ ان کے وفاق کی قابل احترام ہستی نہ بننے سے وفاق کو جو بھی نقصان پہنچے گا اس کے ذمہ دار وہی ہوں گے جو ’’راج کرے گا خالصہ‘‘ پروگرام سے کچھ وقت نکال کر وفاق پاکستان کا صدر بننے کے بارے میں بھی سوچ نہیں سکے تھے۔ وفاق کی علامت صدر مکرم جمہوریت اور جمہوری عمل کی علامت صدر مکرم آئین اور قانون کی علامت صدر مکرم اور پارلیمنٹ کا حصہ صدر مکرم مگر وہ ایک ہی پروگرام دیکھتے ہیں اگر انہوں نے وفاق کے سارے حصوں کے اپنے سارے پیارے عوام کی آواز اور فریاد والے پروگرام سننے اور سمجھنے کیلئے وقت نہ نکالا تو وقت کی عدالت کے فیصلے کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اگر وفاق کے صدر کے حق حقوق ہیں تو ان کے کچھ فرائض بھی تو ہوتے ہیں۔ حق اور حقوق جو بھی ہوں ان کی بنیاد وہ فرائض ہی تو ہوتے ہیں اور کوئی بھی عدالت جب فیصلہ کرتی ہے تو وہ معاملے کے سب پہلو سامنے رکھتی ہے۔ وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وقت کی عدالت کسی کی وزیر اطلاعات نہیں بن سکتی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں