بریک تھرو کے باوجود 20 ویں آئینی ترمیم اسمبلی میں پیش نہ ہو سکی
ـ 9 فروری ، 2012
نواز رضا
بدھ کو بھی حکومت قومی اسمبلی میں آئین میں 20 ویں ترمیم پیش کرنے میں ناکام رہی۔ البتہ پارلیمنٹ ہاوس میں اپوزیشن لیڈر کا چیمبر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آئین میں 20 ویں ترمیم پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے مذاکرات کا تیسرا دور ہوا۔ اعصاب شکن مذاکرات میں کئی بار ایسے مراحل آئے جن میں ڈیڈ لاک برقرار رہنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ دونوں اطراف کی قیادت اپنی پہلی پوزیشن سے ایک قدم پیچھے ہٹی ہے۔ حکومتی ٹیم کے پاس مینڈیٹ نہیں تھا کیونکہ وزیراعظم گیلانی بیرون ملک سے واپس اسلام آباد نہیں پہنچے تھے تاہم اس دوران چودھری نثار علی خان کا نواز شریف کے ساتھ بہاولپور میں رابطہ رہا اور وہ ان کو مذاکرات کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ آگاہ کرتے رہے۔ مذاکرات میں بریک تھرو کی خبر قومی اسمبلی کے ایوان میں پہنچی لیکن بدھ کو آئینی ترمیم پیش کی نہ جاسکی۔ بہرحال یہ بات قابل ذکر ہے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ بات دیکھی گئی ہے کہ آئینی ترمیم میں اپنی اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہنے کے باوجود باہم شیر و شکر ہے۔ مشاہد اﷲ خان نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی خان کی کامیابی ہے۔ پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی بار بلوچ خواتین کے قتل پر پورا ایوان بالا سراپا احتجاج بن گیا۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان واک آوٹ کر کے ایوان سے باہر آگئے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں