تازہ ترین:

پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن پنجاب کی تقریب حلف برداری

محمد مصدق ـ 9 فروری ، 2010
پاکستان میں فارماسسٹ کا کردار اگر صحیح طور پر متعین کیا جائے تو پاکستان کے سرکاری اور غیرسرکاری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں غلط ادویات کے ساتھ مرنے والوں کی تعداد میں بہت زیادہ کمی واقع ہو سکتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں فارماسسٹ کے حالات پہلے سے تو بہتر ہوئے ہیں لیکن مغربی ممالک کی طرح ابھی تک اس کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ ایک روز پہلے الحمرا آرٹس کونسل کے ہال نمبر دو میں پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن پنجاب زون کے نومنتخب عہدیداروں سے سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال نے حلف لیا۔ اس موقع پر سپیکر نے تفصیل سے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ان خدمات کا تذکرہ کیا جو وہ صحت کے شعبہ میں انجام دے رہے ہیں اور بتایا کہ جعلی ادویات کا سلسلہ بالکل ختم کیا جارہا ہے۔ لاپرواہی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور مریضوں کے بارے میں اگر کسی لاپرواہی کی رپورٹ منظرعام پر آجائے تو فوراً متعلقہ ادارے یا فرد کے خلاف ایکشن لیا جاتا ہے اور ڈرگ رولز پر بھی عملدرآمد کرانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ ایسوسی ایشن کے سابقہ صدر ایاز علی خاں نے اپنی مدت میں ہونے والی پیش رفت کی رپورٹ پیش کی اور بتایا ”کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کےلئے جدوجہد کی گئی اور حکومت سے نہ صرف انہیں مستقل کرایا بلکہ آئندہ بھی فارماسسٹوں کےلئے مستقل آسامیاں منظور کرائیں۔
ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد نے حلف برداری کے بعد نوائے وقت کو بتایا ”صحت کے شعبہ میں ڈاکٹر، فارماسسٹ اور نرس مل کر ایک متوازن تکون بناتے ہیں“۔ ڈاکٹر تشخیص کرتا ہے اور دوا لکھ کر دیتا ہے، فارماسسٹ کا کام ہے کہ ان ادویات کی جانچ پڑتال کرے کہ کہیں کوئی ردِعمل والی دوا تو شامل نہیں کر دی گئی۔ مغرب کے ہسپتالوں میں صرف اس طریقے سے بہت سے افراد کو مرنے سے بچا لیا جاتا ہے اور نرس نے تیمارداری کے فرائض انجام دینے ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے فارماسسٹ کی اہمیت کو نظراندز کر دیا گیا تھا۔ موجودہ حکومت نے اس کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور جب 2010ءمیں ڈرگز رولز مکمل طور پر نافذ ہو جائیں گے تو فارمیسی کے ادارے الگ قائم ہوں گے اور میڈیکل سٹور بالکل الگ۔ فارمیسی کے جان بچانے سمیت ہر قسم کی ادویات مل سکیں گی لیکن میڈیکل سٹورز سے محدود ادویات دستیاب ہوں گی۔ پاکستان میں اس وقت اپریل 2009ءکا ڈرگز ایکٹ بہتر ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا جبکہ پہلے حقیقت میں 1946ءکے ڈرگز ایکٹ کو تھوڑی سی تبدیلیوں کے ساتھ 1967ءمیں اور چند مزید تبدیلیوں کے ساتھ 1976ءمیں نافذ کیا گیا تھا۔ آپ نے پوچھا کہ ہال کے باہر کالج آف فارمیسی جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے طلبہ کثیر تعداد میں کس بات پر احتجاج کر رہے تھے۔ تو بات صرف اتنی ہے کہ فارمیسی کونسل آف پاکستان ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کے وعدے (جس کے منٹس بھی موجود ہیں) کے مطابق ایکریڈیشن دینے سے گریزاں ہے اور بلاجواز فائنل اپنی ٹیبل پر روک رکھی ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں ڈاکٹرز آف فارمیسی کا مستقبل داﺅ پر لگا ہوا ہے۔ سرکاری اداروں میں طلبہ کی تعداد پر پابندی ہے لیکن نجی اداروں پر اس پابندی کا کوئی اطلاق نہیں ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں