پہلے ہم اپنے گریبانوں میں کیوں نہ جھانکیں!

توفیق بٹ ـ 9 فروری ، 2010
امریکہ کو کوسنے کے بجائے ہمیں خود کو کوسنا چاہیے، دوسروں کو آئینہ دکھانے کے بجائے خود آئینہ کیوں نہ دیکھیں؟.... ہم یوں اپنے ہونے کا اعتراف کرتے رہے.... گرد چہرے پہ تھی ہم آئینہ صاف کرتے رہے! ہم قلم کاروں کا کردار کیا ہو گا، زیادہ سے زیادہ یہی ایک دو کالم لکھ دیں گے جس ملک نے ہمیں عزت دی اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ دیا جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اس ملک کی عزت پر حرف آ رہا ہو، اس کی ایک بیٹی امریکیوں کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہو اور ہم ایک دو کالم لکھ کر سمجھیں کوئی بڑی توپ چلا دی ہے تو یہ وہ کردار نہیں جس سے وطن کی محبت کا ذرا سا قرض بھی چکایا جا سکتا ہو۔ ہماری تحریر ایک تحریک بننا چاہیے اور یہ ایسی تحریک ہو ”امریکہ بہادر“ پاکستانیوں کی زندگی یا عزت سے کھیلنے سے پہلے کم از کم سو بار ضرور سوچا کرے جو اب ایک بار بھی نہیں سوچتا۔ اس لئے کہ اُسے پتہ ہے یہ ہمارے ”غلام“ ہیں۔ ہم ان کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں، احتجاج کرنا تو درکنار اس کے تصور کی جرات بھی نہیں رکھتے۔ سو وہ جو کر رہا ہے اور جو کرنا چاہتا ہے اسے روکنے کے لئے سب سے پہلے ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔ اسے کوسنے کے بجائے خود کو کوسنا چاہیے کہ ترسٹھ برسوں میں ہم اپنے ملک کو کس مقام پر لے آئے کہ آج دوست نما دشمن یا دشمن نما دوست ہماری عزت اور غیرت کو للکارتے ہوئے ذرا دقت محسوس نہیں کرتا۔ کیا اب بھی ہمیں قومی غیرت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے؟ اور قومی غیرت کا وجود صرف تحریروں اور تقریروں سے نہیں پھوٹتا۔ اس کے لئے پیٹ پر پتھر باندھنا پڑتے ہیں، کیا ہم تیار ہیں ہمیں روٹی نہ ملے نہ ملے، کپڑا ملے نہ ملے، مکان ملے نہ ملے، پانی ملے نہ ملے ہم امریکہ کی بھیک کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے؟میں صرف عوام کی بات کر رہا ہوں، حکمرانوں کی نہیں.... ان سے کوئی توقع کرنا ایسے ہی ہے جیسے بنجر زمین سے کوئی یہ توقع کرے کہ وہ سونا اگلنے لگے۔ حکمرانوں کو شرم حیا ہوتی تو جو حالات امریکہ نے پاکستان میں پیدا کر دیئے ہیں اس کی ”کیری لوگر نامی آخری بھیک کبھی قبول نہ کرتے کہ تازہ ترین اس بھیک میں ملنے والی رقم سے زیادہ مال و زر کے مالک تو یہ آپ ہیں، کوئی ان سے پوچھے یہ جو آپ دوسرے بڑے نمبر کے اور تیسر بڑے نمبر کے دولت مند پاکستانی بنے تو یہ آپ کے خون پسینے کی کمائی ہے؟ جی نہیں، پتا پتا بوٹا بوٹا حال ان کا جانے ہے۔ ایک ایک پیسہ ایک ایک روپیہ اس ملک کی بنیادوں سے انہوں نے نکالا اور باہر لے گئے۔ آج یہ اس میں سے آدھی رقم بھی واپس لا کر قومی خزانے میں جمع کروا دیں تو یقین کیجیئے امریکہ کو اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرنا پڑے۔ یہ سوچنے کے لئے کہ پاکستان کو زبردستی امداد یا قرض دینے کے لئے کیا طریقے اختیار کئے جائیں.... افسوس کہ ہمارے حکمرانوں نے ملک کی عزت اور غیرت کو ہمیشہ ڈالروں کی نذر کر دیا اور عالمی سطح پر اپنی پہچان اس ”خراب عورت“ جیسی بنا لی کچھ بدمعاش جس کی بیٹی کی عزت لوٹ کر فرار ہونے لگے تو اس نے بیٹے سے کہا ”بے غیرت دیکھو تمہاری نظروں کے سامنے وہ تمہاری بہن کے ساتھ کیا سلوک کر گئے، جاو¿ انہیں پکڑو“ بیٹا سخت غصے کے عالم میں ان کے پیچھے بھاگنے لگا تو اچانک واپس مڑا اور ماں سے پوچھا ”تم نے یہ تو بتایا نہیں بدلہ لینا ہے یا پیسے؟! (جاری ہے)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں