تعلیمی انقلاب کا خواب اور تعبیر
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 9 فروری ، 2010
وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف تعلیم کے شعبے میں انقلاب لانے کی آرزو اور ارادے سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ بات ان کی تقریروں میں جھلکتی ہے۔ چھلکتی بھی ہے۔ کوئی قوم تعلیمی ترقی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ جو اقدامات شہباز شریف نے کئے ہیں وہ بہت حوصلہ افزا ہیں۔ جب وہ غریب اور بے سہارا بچوں کے لئے امداد اور اعزاز کا اعلان کر رہے تھے تو وہ بڑے جذبات میں تھے۔ جذبات میں تو ہم بھی ہیں اور بڑی مدت سے ہیں۔ صرف جذبات سے کچھ نہیں ہوتا۔ اپنے اختیارات کو پوری طرح استعمال کرنا پڑے گا۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ غربت، افلاس اور بھکاری پن کا طوق اتارنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ قوم کے معماروں کو ایسی معیاری تعلیم سے آراستہ کیا جائے جس سے وہ بابو بننے کی بجائے سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں خدمات سرانجام دے کر ملک کو تیزی سے خوشحال بنا سکیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ہونہار طلبہ و طالبات کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز کالم نگار عطاءالحق قاسمی کے اشعار بھی پڑھے۔ یہ اشعار وہ کئی مرتبہ سنا چکے ہیں۔ ایک بار تو انہوں نے کہا کہ شعیب بن عزیز مجھے گھور رہے ہیں مگر پھر بھی یہ اشعار سناوں گا۔ یہ شعر شہباز شریف کو بہت پسند ہیں ان کے دل و دماغ میں جو آدرشیں تڑپتی ہیں ان کی مکمل ترجمانی کرتے ہیں۔ پاکستان میں پچھلے ساٹھ برسوں سے سرمایہ دارانہ نظام نے پورے معاشرے کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی طرح ہم بھی اس نظام سے رہائی چاہتے ہیں۔ مگر وہ تو اس سے بہت آگے جا کر اس نظام زر کو برباد کر سکتے ہیں۔ وہ ہماری طرح چاہتوں کی دلدل میں نہیں ہیں۔ وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ جس انقلاب کی طرف شہباز شریف اشارہ کرتے ہیں وہ تو ہم بھی کرتے رہتے ہیں۔ ہم تو خواب دیکھنے والے آدمی ہیں شکر ہے کہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو بھی خواب دیکھتا ہے۔ اس خواب کی تعبیر کون دے گا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ یہ کام کر سکتے ہیں۔ وہ اس بات کا انتظار نہ کریں کہ نواز شریف وزیر اعظم بنیں۔ انہوں نے مانسہرہ میں کہا تھا کہ نواز شریف وزیر اعظم بن جائیں تو لوگوں کو دو روپے کی روٹی مل جائے گی۔ یہ بھی ایک کام ہے مگر ایسا ماحول بنائیں کہ لوگ دو روپے کی روٹی کے لئے ہی جدوجہد کریں ایسی جدوجہد میں شریک ہونے کا موقعہ ملے جو اس زندگی کو ایک اور زندگی میں بدل دے۔ یہ بھی بڑا کام ہے مگر اسے سب کا کام بنا دیا جائے۔ اس اُجڑی پُجڑی قوم کو کارنامے کا انتظار ہے۔ جو شہباز شریف تعلیمی انقلاب لانے کے ارادے سے لبریز ہو کر نکل کھڑے ہوئے ہیں کوئی انقلاب تعلیمی انقلاب کے بغیر نہیں آ سکتا۔ پھر تو خونی انقلاب آئے گا جس کا ڈر وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقریروں میں جھلکتا ہے بلکہ چھلکتا رہتا ہے۔ خونی انقلاب کی آہٹ تو ہم بھی سن رہے ہیں۔ شہباز شریف تو خونی انقلاب کو قومی انقلاب میں بدلنے کی صلاحیت اور طاقت رکھتے ہیں۔ وہ پنجاب میں تو کریں جو کہہ رہے ہیں۔ یہ کب ہو گا جس کا ذکر ان اشعار میں ہوا ہے اور جس کا اظہار بار بار شہباز شریف کی گفتگو میں ہوتا ہے وہ کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں اس کے علاوہ بھی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
خوشبووں کا اک نگر آباد ہونا چاہئے
اس نظام زر کو اب برباد ہونا چاہئے
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہئے
آزاد اور مہربان عدلیہ کے لئے پاکستان کے بہادر وکیلوں اور غمزدہ لوگوں نے قربانی دی۔ اس کے لئے لانگ مارچ بھی ہوا، نواز شریف اور شہباز شریف آگے آگے تھے اس میں پنجاب حکومت ٹوٹنے کا غم بھی شامل تھا جو غصے میں تبدیل ہوگیا تھا۔ یہ غم و غصہ اپنا رنگ لایا۔ پنجاب حکومت بحال ہوئی اور عدلیہ بھی بحال ہوئی مگر جو دکھ عدل کے حوالے سے عطا کے شعر میں ہے‘ اسے بار بار دہرانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ امید جو آزاد عدلیہ سے ٹوٹے ہوئے وعدوں کی راکھ کے ڈھیر پر کھڑے لوگوں میں تھی‘ وہ ان کے دلوں میں آتش فشاں بنتی جا رہی ہے۔ ہم کیا لوگ ہیں جو راکھ کے ڈھیر پر کھڑے ہیں اور ہمارے دل میں آتش فشاں سلگ رہا ہے۔
ایک منصوبہ لمز(LUMS) اور پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے باہمی اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔ چند طلبہ و طالبات جو لمز(LUMS) جانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے یہاں داخلہ سے پہلے یہاں سے گزرنا بھی جن کیلئے ممکن نہ تھا۔ بہت قابل تعریف اقدام ہے کہ انہیں وظیفہ کے ساتھ لمز میں داخلہ دلایا گیا ہے۔ اس تقریب میں چیئرمین لمز سید بابر علیLUMS اور چیئرمین پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ‘ اہل دل اور اہل خیر ڈاکٹر امجد ثاقب تھے۔ وزرائے کرام‘ ممبران اسمبلی‘ افسران‘ دانشوران‘ کالم نگاران بھی تھے۔ وہ حیرت سے ساری کارروائی دیکھ رہے تھے کہ یہ بھی سرکاری سطح پر ہوسکتا ہے۔ اساتذہ اور طلبہ و طالبات تھے ورنہ پہلے ایسی محفلوں میں کون انہیں گھسنے دیتا تھا۔ وہ تو اپنے سیکرٹری تعلیم کے دفتر کے پاس سے نہیں گزر سکتے تھے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب بھی بیوروکریٹ تھا۔ اس نے سول سروس کی عیش و عشرت اور حکومت کو چھوڑ دیا۔ یہ بات غور طلب ہے کہ اگر امجد ثاقب ایک افسر کے طور پر یہ کچھ کرسکتا جو وہ ان دنوں کر رہا ہے تو اسے اتنی شاندار اور خودمختار افسری ترک کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ تو یہ بھی ایک کام ہے کہ بیوروکریسی کو براکریسی بننے نہ دیا جائے۔ ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر اور ایک محکمے کا سیکرٹری چاہے تو لوگوں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ محروم‘ مظلوم‘ معصوم اور محکوم لوگ کہاں جائیں۔ بے بسی اور بے چارگی کا تماشا بنے ہوئے وہ خود آپ اپنے تماشائی ہیں۔ حکمرانوں اور افسرانوں نے انہیں ذلت اور اذیت کے سوا کچھ نہیں دیا۔ حکمرانوں افسرانوں کیلئے ٹریفک بلاک ہونے کی صورت میں کوئی ان کے دل کا حال جان سکتا۔ ایک طالب علم کے والد منور علی نے کہا کہ میں ساہیوال میں موٹر سائیکلوں کے پنکچر لگاتا ہوں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میرا بیٹا لمز جیسے ادارے میں تعلیم حاصل کریگا۔ ایک دوسرے طالب علم کے والد فرخ ممتاز نے بتایا کہ 28 سال سے میوہسپتال میں درزی کے طور پر کام کررہا ہوں۔ میرا خاندان شہبازشریف کا شکر گزار ہے کہ ہمارے محنتی اور لائق بیٹے کو لمز میں داخلہ ملا۔ یہ اقدام واقعی بہت قابل تعریف ہے اور اپنی سطح پر انقلابی بھی ہے مگر لاکھوں طالب علم ایسے ہیں جو اپنی غربت اور بے بسی کے ہاتھوں اپنی بستی کی خاک میں ہاتھ ملتے رہتے ہیں۔ پوری قوم کا سائیکل پنکچر ہوگیا ہے۔ وہ کھچ گھسٹ کے چل رہے ہیں اور سائیکل بھی ساتھ کھینچنا پڑ رہا ہے۔ وہ ایسے درزی ہیں جن کے اپنے کپڑے لیراں لیراں ہیں۔ ان کے دلوں میں تڑپنے والی خوشبوﺅں کی نگر کب آباد ہوگی۔ یہ اسی صورت میں ہوگا جب یہ نظام زر برباد ہوگا‘ کب ہوگا؟ ابھی تو ہم خود برباد ہوگئے ہیں۔
وحدت کالونی کے کوارٹر نمبر U-26 میں کنٹیئرڈ کالج کی پروفیسر فوت ہوگئی ہے۔ اس کا بیٹا اور بیٹی ابھی پڑھ رہے ہیں۔ اچھے اداروں میں ماں نے انہیں داخل کرایا تھا مگر اب ماں کی جدائی اور نامعلوم مصیبتوں کے نرغے میں وہ سوچتے ہیں کہ ہمارا کیا بنے گا؟ کچھ ایسا اہتمام ہوتا۔ میں انہیں نہیں ملا مگر وحدت کالونی میں رہتے ہوئے جنازے میں چلا گیا۔ سب لوگ عجیب و غریب پریشانی کا اظہار کررہے تھے۔ اس ملک میں کچھ ایسا ہوتا کہ ہونہار بچوں کیلئے کالم نہ لکھنا پڑتے۔ ان بچوں کے باپ نے دوسری شادی کرلی ہے اور اس کے یہ بچے بے یارومددگار ہیں۔ ایسی کئی مثالیں ہیں۔ یہاں ایک ٹیچر کی تنخواہ اتنی کم ہے کہ بتاتے ہوئے شرم آتی ہے‘ ان کو عزت بھی نصیب نہیں۔ کیا ان لوگوں کی معرفت تعلیمی انقلاب آئیگا؟ میں بہت حیرت سے صوبے کے وزیراعلیٰ کو اپنے ساتھ تمناﺅں کے دائرے میں دیکھتا ہوں اور دائرہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام پبلک و پرائیویٹ سکولوں کالجوں میں یکساں یونیفارم رائج کی جائے۔ ایک نظام تعلیم ہو‘ نصاب تعلیم ایک ہو‘ ایک جیسی سہولتیں اور مراعات ہوں‘ سب جگہ پر فیس ایک جیسی ہو اور کم ہو۔ نوائے وقت کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ شہبازشریف صوبے میں تعلیمی سرگرمیوں کو نتیجہ خیز اور موثر بنانے کیلئے محنت کررہے ہیں۔ اس میں رکاوٹ کیا ہے‘ کون سازشیں کررہا ہے‘ پنجاب میں سینکڑوں سکول کیوں فارن فنڈڈ این جی اوز کو دئیے جا رہے ہیں۔ وہ اس بہانے کس کے مقاصد پوری کررہی ہیں۔ تعلیمی انقلاب کیلئے کیا کیا منصوبے شہبازشریف کے دل میں ہیں اور اس ملک کو تباہ کرنے کیلئے کیا کیا منصوبے مسلمان دشمن طاقتوں کے دماغ میں ہیں۔ اب حکمران بھی بے بسی کی قطار میں ہمارے ساتھ آکھڑے ہوئے ہیں تو پھر ہم کس کے ساتھ جاکھڑے ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ شہبازشریف کو صوبے کے دوردراز پسماندہ علاقوں میں تعلیمی محرومیوں اور محرومیوں کا علم ہے مگر تجربہ نہیں‘ ان کی کوششیں کب رنگ لائیں گی‘ تب تک ہم بے رنگ بلکہ بدرنگ ہوچکے ہونگے
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ کشتہ ¿ تیغ ستم نکلے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں