منفعت ایک ہے اس قوم کی اور نقصان بھی ایک

رفیق ڈوگر ـ 9 فروری ، 2010
پرانی بات ہے کوئٹہ میں شدید قسم کا فرقہ وارانہ سانحہ واپر گیا پورا ملک شدید صدمہ کی حالت میں تھا میں نے متعلقہ وفاقی وزیر سے ذمہ داروں کے بارے میں پوچھا اس نے آف دی ریکارڈ ساری تفصیل بتا دی مقامی لوگوں کے پیچھے ایک بیرونی ملک کا فعال ہاتھ تھا میں نے پوچھا عوام کو کیوں نہیں بتاتے؟ اس ملک سے کیوں نہیں پوچھتے؟ اس کا جواب تھا ”ہم کمزور ہیں اتنی جرات نہیں دکھا سکتے“
ملک کی سرحدوں کی حفاظت اور ان کے دشمنوں کی منصوبہ بندیوں پر نگاہ رکھنے اور جوابی تیاریاں کرنے والے ادارے اپنے ہی ملک کے اندر سرگرم دشمن عناصر کو دبانے اور امن و امان بحال کرنے میں اتنے بری طرح ملوث ہیں کہ 23 مارچ کو پریڈ کا قومی فریضہ انجام دینے کے بھی قابل نہیں چوروں ڈاکوﺅں اور راہزنوں پر نگاہ رکھنے والی پولیس عبادت گاہوں اور مذہبی جلوسوں کی حفاظت میں ناکام ہو چکی ہے ہر جگہ اور ہر طرف انسان مارے جا رہے ہیں پاکستانی جاں بحق ہو رہے ہیں ان کی املاک تباہ و برباد ہو رہی ہیں بیرونی ممالک سے سرمایہ تو کیا سیاح تک آنے کے لئے تیار نہیں کھیلوں کی تنظیمیں پاکستان میں ٹورنامنٹ منعقد کرنے کرانے سے مسلسل انکاری چلی آ رہی ہیں بیرونی سرمایہ کار خوفزدہ ہیں تو اندرونی سرمایہ دار بھی اپنا سرمایہ باہر بھیج رہے ہیں اور تو اور حکمران تک اپنے سر اور مایہ ملک میں محفوظ نہیں سمجھ رہے۔ دشمن حملہ کر دے تو جنگ سرحدوں پر ہوتی ہے جس دشمن نے ہم پر حملہ کیا ہوا ہے اس کے ساتھ جنگ عبادت گاہوں سے لے کر جی ایچ کیو تک لڑنا پڑ رہی ہے۔ وہ دشمن کون ہے؟ اس کے سوا کون ہو سکتا ہے جو اس ملک کے قیام اور استحکام کا دشمن ہے اور رہا ہے۔ پاکستان کو جس صورتحال کا سامنا ہے اس سے فائدہ کسے پہنچا ہے اور پہنچ رہا ہے اور نقصان کس کا ہوا ہے اور ہو رہا ہے؟ نقصان ہر اس انسان کا ہے جو اس ملک کا شہری ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب اور فرقہ سے ہے اور فائدہ ہر اس دشمن کا ہے جو کسی بھی حوالے سے اس جنگ میں شامل ہے اور ہم اتنے کمزور ہیں کہ اس دشمن کا نام تک نہیں لے سکتے۔ آخر کب بتائیں گے اہل حکمرانی ملک کے عوام کو کہ ان کے خلاف اس جنگ میں ان کا کون کون سا دشمن کس کس انداز میں شامل ہے اور اندرون ملک سے کون کون کس کس انداز میں ملک اور عوام کے خلاف دشمن کی جنگ میں شامل ہے؟ عوام کو بتانے کی جرات نہیں تو خواص کو ہی بتا دیں سب فرقہ بندی کے بڑوں کو جمع کریں ان کے سامنے سب حقائق اور شواہد پیش کریں ان کی ایک مشترکہ قومی کونسل بنا دیں اور جب بھی جہاں بھی کوئی ایسی واردات ہو اس کی تحقیقی رپورٹ اس کونسل میں پیش کی جائے جس بھی کسی فرقہ کے لوگ ملوث ہوں جو بھی دشمن ان کی پشت پر ہو وہ سب اس کونسل کو بتا دیا جائے اور پھر متعلقہ فرقہ کے کونسل میں موجود اکابر سے پوچھا جائے کہ ”یہ کیا ہے؟“ سب مل کر اس کے ذمہ داروں کا احتساب کریں اور اس کی مذمت کریں سب مل کر اپنے ملک کے اور اپنے بیرونی دشمنوں اور ان کے ایجنٹوں کے خلاف کمر انسانیت باندھ لیں۔ بیرونی دشمن کون ہے؟ متعلقہ اداروں کو سب معلوم ہے ایسا دشمن کوئی ایک نہیں کئی ہیں جو اپنے اپنے انداز میں بھی اس خانہ جنگی کی پشت پناہی کر رہے ہیں مل کر بھی اور الگ الگ بھی ان میں پڑوسی بھی ہیں اور دور والے بھی وہ بھی ہیں جن کی فوجیں افغانستان پر قابض ہیں اور وہ بھی جن کی نہ سرحدیں ہم سے ملتی ہیں نہ ان کی فوجیں افغانستان میں موجود ہیں ان سب کی پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف جنگ کی سب تفاصیل ملک کے سب مذاہب کے بڑوں کی اس کونسل کے سامنے رکھ دی جائیں اور ان سے پوچھا جائے کہ بتاﺅ اب کیا کرنا ہے؟ بلیم گیم ہے اس جنگ میں سرگرم دشمن اور دشمنوں کو فائدہ ہو رہا ہے ملک اور اس کے عوام کو نہیں سب مذاہب اور فرقہ والوں نے اس ملک میں رہنا ہے ان کو یہ بتانا اور سمجھانا لازم ہے کہ نقصان کسی ایک فرقہ کا نہیں ہو رہا سب کا نقصان ہو رہا ہے ان سب کا جو اس ملک کے باسی ہیں جیسی بریفنگ پارلیمنٹ کے ارکان کو دی جاتی ہے ویسی ہی بریفنگ ان فرقوں کے اکابرین کو دی جائے۔ وزیر داخلہ نہیں وہ ایک سیاسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو اس تباہی اور بربادی کو کیش کرنے میں ملوث ہے اور ملوث رہا ہے ان کا تعلق اس حکمران سیاسی فرقہ سے ہے جن کا سرمایہ اور املاک باہر ہیں۔ شہریت اور تعلقات؟ بہت سے بیرونی پہلو ہیں ان کی وزارت خانی کے بھی۔ اکثر لوگ ان پر یقین اور اعتماد کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے ایسی بریفنگ ملک کی مسلح افواج کی طرف سے وہ ایجنسی دے جو رحمان ملک کے قبضہ میں نہ ہو۔ جن عوام نے اور اداروں نے اور اہل فرقہ نے اس ملک کے قیام اور دوام کے لئے خون دیا ہوا ہے جن کے اجداد کی قربانیاں اور خون اس میں شامل ہیں ملک کے سب انسانوں کا اور ملک کا دکھ درد وہی سب سے زیادہ جانتے اور پہچانتے ہیں جان اور پہچان سکتے ہیں۔ اگر کوئی مصالحت کی پیشکش کرتا ہے تو اس کو قبول کیا جائے یہ اللہ کے رسولﷺ کی سنت مبارک ہے لیکن اس پر واضح کر دیا جائے کہ ملک اور اس کے مفاد کے خلاف مصالحت نہ ہو سکتی ہے نہ ہو گی۔ اللہ کے رسولﷺ نے ریاست مدینہ کے قیام کی بنیاد جس دستور پر رکھی تھی اس میں واضح کر دیا گیا تھا کہ ریاست کی حدود کے اندر رہنے والے سب لوگوں کے جان مال اور کاروبار کی مکمل حفاظت ہو گی انہیں اپنے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی بھی آزادی ہو گی لیکن جو بھی کوئی ریاست کے دشمن سے کوئی تعلق رکھے گا وہ ریاست کا اور اس کے باقی سب باسیوں کا مشترکہ دشمن ہو گا خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ریاست کے سب لوگ اس کے خلاف ایک ہوں گے۔ وہ دستور موجود ہے اور ہر اس انسان کے لئے کامل رہنمائی اس میں موجود ہے جس کا تعلق آدمؑ کی اولاد سے ہے۔ مذہبی آزادی کا مطلب ریاست کے دشمنوں سے ریاست کے خلاف اتحاد نہیں ریاست سے وفاداری اس کی بنیاد ہے۔ وہ کونسل اکابرین اس پر بھی عمل کرے اور کرائے اور جس بھی کسی فرقہ کے کسی فرد اور گر وہ کے کسی بھی بیرونی دشمن سے تعلق کا ثبوت ملے کونسل کی طرف سے ملک کے سب عوام کو اس کی تفصیلات بتا دی جائیں۔ حکومت اور اس کو بنانے چلانے والوں کی ذاتی اور سیاسی مجبوریاں رہی ہیں اور اب بھی ہیں لیکن ایسی کونسل کو ایسی ذاتی اور سیاسی مجبوریوں کا سامنا نہیں ہو گا۔
معذرت:۔ کل جس ناول کا حوالہ دیا تھا وہ ROBE ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں