صرف پی ٹی وی کو واجبات کی ادائیگی کیوں؟
محمد مصدق ـ 8 فروری ، 2009
وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمن نے فخریہ طور پر پی ٹی وی کو چوالیس کروڑ روئیے سے زیادہ کے سرکاری واجبات دلوا دئیے ہیں جس کی وجہ سے پی ٹی وی کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں۔ اگرچہ پی ٹی وی کے ایم ڈی ارشد خاں کا کہنا ہے کہ فی الحال ہمارے ادارے کی مالی حیثیت ٹھیک نہیں ہوئی ہے اور اس کی دلیل یہ پیش کی کہ جب بھی مالی حالت درست ہو گی (چھ ماہ میں درست ہونے کی پیش گوئی کی ہے) تو سپورٹس چینل قائم کیا جائے گا۔ اب ناظرین سوال کر سکتے ہیں کہ باقی چینلوں نے کونسے کارنامے انجام دئیے ہیں کہ سپورٹس چینل کی کمی محسوس کی جا رہی ہے؟
اس پر تو تبصرہ بعد میں ہو گا کہ محترمہ شیری رحمن نے صرف پی ٹی وی ہی کے سرکاری واجبات کیوں ادا کئے۔ آخر اخبارات کے سرکاری واجبات بھی اس کے ساتھ ادا ہونے چاہئے تھے لیکن نہیں کئے گئے۔ پی ٹی وی کے خسارے اور نقصان میں چلنے کا سیکرپٹ معلوم کرنے کے لئے سابق چیئرمین ایم ڈی ڈاکٹر شاہد نے پہلی مرتبہ آڈٹ کرایا تو ایسے انکشافات سامنے آئے کہ جس کے نتیجہ میں بہتر سمجھا گیا کہ سب کچھ پردے میں رکھنے کے لئے ڈاکٹر شاہد کی چھٹی کر دی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پی ٹی وی کی ایک بہت بڑی رقم مختلف اشتہاری کمپنیوں کے ذمہ واجب الادا ہے لیکن وہ کمپنیاں ایسی کرامات دکھاتی ہیں کہ جب ریکوری آفیسر آتا ہے تو واپسی پر بہت خوش جاتا ہے اور اس کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کے بجائے مزید اشتہارات چلانے کی اجازت مل جاتی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
دوسری طرف عوام سے بلاجواز پچیس روپے ماہانہ بجلی کے بل پر لائسنس فیس کے نام پر بٹورے جا رہے ہیں۔ شروع میں جب پی ٹی وی کا آغاز ہوا تو لائسنس فیس وصول کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا گیا تھا کہ اس ادارے کو پورے پاکستان میں پھیلانا تھا اور حکومت کے پاس اتنے زیادہ فنڈز دستیاب نہیں تھے کہ وہ ٹی وی نشریات کا دائرہ پورے پاکستان تک پھیلا سکے۔ لیکن اب تو پی ٹی وی 97 فیصد ناظرین تک پہنچ رہا ہے اور ناظرین کی اکثریت وقت ٹی وی سمیت مختلف چینلز دیکھ رہے ہیں۔ اس لئے انصاف کا تقاضہ تو یہی ہے کہ پی ٹی وی ایمانداری سے اڑھائی ارب روپے کی رقم باقی چینلز میں بھی تقسیم کرے۔ پچھلے دنوں وزارت اطلاعات کی سٹینڈنگ کمیٹی نے جب پچیس روپے لائسنس فیس ختم کرنے کی بات کی تو تمام وزارت اطلاعات نے ہاتھ باندھ کر کہا کہ اس رقم کے بغیر پی ٹی وی ڈوب جائے گا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوام کب تک اس ناجائز ٹیکس کو ادا کرتے رہیں گے۔ پھر اس وقت خوش خبری سنائی گئی تھی کہ پچیس روپے دینے والوں کو قرعہ اندازی کے ذریعہ کروڑوں کے انعامات دئیے جائیں گے۔ صرف ایک بار ایسا ہوا لیکن اس کے بعد شاید یہ مخصوص رقم کسی دوسرے کھاتے میں ڈال کر غتربود کر لی گئی۔
اب وزارت اطلاعات کی پھرتیاں قابل تعریف ہیں کہ انہیں واجبات ادا کرنے کے لئے اپنا چہیتا سرکاری ٹی وی ہی نظر آیا۔ دوسری طرف اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات کے واجبات متواتر ٹالے جا رہے ہیں۔ اب یہ اندر کی بات ہے کہ پی ٹی وی کے فنڈز سے وزارت اطلاعات بھی فیضیاب ہوتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد جب چیئرمین تھے تو نوائے وقت کو بتایا تھا کہ سرکاری حلقوں کے لئے پی ٹی وی کے خرچے پر محافل موسیقی منعقد کی جاتی ہیں اور میں نے یہ سلسلہ بند کر دیا‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کچھ دوسرے امور کیلئے بھی رقوم پی ٹی وی فراہم کرتا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں