’’سابقین‘‘ کا دفاع
سعید آسی ـ 8 فروری ، 2009
گزشتہ دو سال سے جاری وکلاء اور سول سوسائٹی کے دیگر طبقاتِ زندگی کی تحریک اپنے متعین کردہ مقاصد پورے کربھی پاتی ہے یا نہیں اور اب تبدیل شدہ تاریخ کے مطابق آئندہ ماہ 12مارچ کو لانگ مارچ اور 16 مارچ کو شاہراہ دستور اسلام آباد پر دھرنے کی نوبت آتی ہے یا نہیں‘ اس پر بحث کیلئے تو ابھی پورا ایک ماہ پڑا ہے۔ مگر گزشتہ روز راولپنڈی بار ایسوسی ایشن میں وکلاء کے جوشیلے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور اس تحریک کے قائد سابق صدر سپریم کورٹ بار چودھری اعتزاز احسن نے دو مختلف اور اچھوتے موضوعات کو زیر بحث لا کر تدبر و فکر کے نئے دروازے کھولے ہیں اور اس فکر کی بنیاد پر ہی وکلاء کی موجودہ صبرآزما تحریک کا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔
چودھری اعتزاز احسن کی خیال آفرینی پر آئندہ کالم میں بحث کی جائے گی۔ فی الحال جسٹس افتخار محمد چودھری نے سول سوسائٹی کی بیداری اور غفلت کے تصور کی بنیاد پر ماضی کے معاملات و اقدامات اور موجودہ تحریک کا موازنہ کرتے ہوئے جس فکر انگیز بحث کی بنیاد رکھی ہے اس پر اختلاف کا حق محفوظ رکھتے ہوئے چند معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ملک و قوم کو مشرف کی مکار اور شاطر جرنیلی آمریت سے نجات دلانے‘ مشرف کی کھال کا حصہ بننے والی وردی اتروانے اور ایوان صدر میں جناب آصف علی زرداری کی موجودگی سمیت موجودہ سلطانی ٔ جمہور کی راہ ہموار کرنے میں وکلاء برادری کی زیر قیادت سول سوسائٹی کی تحریک ہی کو سارا کریڈٹ جاتا ہے۔ اس بارے میں چودھری اعتزاز احسن کے دعوے سے اختلاف کی کوئی گنجائش ہی نہیں نکلتی۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس نتیجہ خیز تحریک کی بنیاد پر ہی پچھلی عدلیہ کا دفاع کرتے ہوئے یہ نکتہ چھیڑا ہے کہ اگر سول سوسائٹی بشمول وکلاء برادری 6 اکتوبر 1958ء کو ملک میں پہلے مارشل لاء کے نفاذ کے موقع پر بھی اسی طرح متحرک ہو کر فوجی آمر کے سامنے ڈٹ جاتی اور موجودہ جذبے والی جرأت انکار کا عملی مظاہرہ کیا گیا ہوتا تو جنرل ایوب کے اس مارشل لاء کو عدالتی تحفظ دینے والے جسٹس منیر کے فیصلہ کی کبھی نوبت نہ آتی۔ ان کے بقول یہ فیصلہ اس لئے آیا کہ اس وقت سول سوسائٹی‘ وکلاء برادری اور سیاستدان عدلیہ کو سہارا دینے کیلئے اس کی پشت پر نہیں کھڑے تھے بلکہ سول سوسائٹی میں بھی اس مارشل لاء کی تعریف و توصیف کی جا رہی تھی اس لئے ہم اکیلے جسٹس منیر کو اس مارشل لاء کی قبولیت پر مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔
اسی طرح ان کے بقول 1969ء والے جنرل یحییٰ خاں کے مارشل لاء اور پھر1977ء کو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے موقع پر بھی سول سوسائٹی میں اس کے ساتھ ٹکر لینے اور موجودہ جذبے والی جرأ ت انکار کا اظہار کرنے کی نوبت نہیں آئی تھی‘ چنانچہ ان کے بارے میں عدلیہ کے فیصلے بھی جسٹس منیر کی پیروی والے آئے اور پھر 12اکتوبر 1999ء کو جنرل مشرف کے دور آمریت کے آغاز کا سول سوسائٹی نے مٹھائیاں تقسیم کرکے اور شکرانے کے نفل ادا کرکے خیرمقدم کیا تھا۔ جبکہ جسٹس سعید الزمان صدیقی اور ان کے ساتھی ججوں نے اس وقت بھی جرأت انکار کا مظاہرہ کیا مگر سول سوسائٹی بشمول وکلاء برادری ان کے ساتھ نہیں کھڑی تھی اس لئے انہیں آج والی پذیرائی نہ مل سکی اور جرنیلی آمریت مستحکم ہوگئی۔
جسٹس افتخار محمد چودھری کا یہ تجزیہ سو فیصد درست ہے کہ اگر 9 مارچ 2007ء کو ان کی جانب سے فوجی جُنتا کے روبرو جرأت انکار کے اظہار کے بعد سول سوسائٹی ان کی پشت پر نہ آتی تو ان کا باب بھی ہمیشہ کیلئے بند ہو جاتا اور فوجی آمریت مزید مستحکم ہوجاتی۔ ان کے بقول 13 مارچ کو جب وہ سپریم کورٹ میں پیشی کیلئے اپنی اہلیہ کے ہمراہ تنہاء اپنے گھر سے نکلے تو انہیں گمان بھی نہیں تھا کہ ان کے گھر کے باہر چودھری اعتزاز احسن‘ منیر اے ملک‘ علی احمد کرد‘ جسٹس طارق محمود اور حامد خاں ان کا ہاتھ تھامنے کیلئے موجود ہوں گے‘ انہوں نے 13 مارچ کو ایسا ہاتھ تھاما کہ آج تک چھوڑنے کی نوبت نہیں آئی اور یہی جذبہ سول سوسائٹی کی تحریک کی بنیاد بنا ورنہ 3 نومبر 2007ء کے ناکام مارشل لاء کے تحفظ کیلئے بھی جسٹس منیر جیسا کوئی فیصلہ آجاتا۔
فلسفہ انہوں نے یہ بیان کیا کہ اب پوری سول سوسائٹی بشمول وکلاء ‘ عدلیہ‘ میڈیا اور سیاستدانوں کو عدلیہ کی آزادی‘ قانون و آئین کی حکمرانی‘ پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے فروغ و استحکام کیلئے ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے رہنا ہے اور جرأت انکار کے جذبے کو ماند نہیں پڑنے دینا ورنہ 12 مارچ کا لانگ مارچ اور 16 مارچ کا دھرنا ہو بھی گیا تو آمریت کی اکڑفوں توڑی نہیں جاسکے گی۔
یہ فلسفہ وکلاء اور سول سوسائٹی کے دیگر طبقات کے آئندہ ماہ کے لانگ مارچ اور دھرنا کو نتیجہ خیز بنانے کی کنجی ہے جسے لگا کر سلطانی ٔ جمہور کے راستے کھولے جاسکتے ہیں اور جہاں تک جسٹس افتخار محمد چودھری کی جانب سے سابقہ مارشل لائوں کو تحفظ دینے والے عدالتی فیصلوں کے جواز میں دلیل پیش کی گئی ہے وہ اس لئے قابل قبول نہیں ہوسکتی کہ جسٹس منیر کیقبیل کی عدلیہ نے ان کی طرح فوجی جنتا کے روبرو جرأت انکار کا مظاہرہ کرنے اور پھر سول سوسائٹی کو پشت پر کھڑے ہونے کی کبھی دعوت نہیں دی تھی۔ اگروہ بھی ان کی طرح جرأت رندانہ کا مظاہرہ کرتے تو سول سوسائٹی اتنی بخیل ہرگز نہیں کہ ان کے پیچھے نہ کھڑی ہوتی۔ جہاں تک جسٹس سعید الزمان صدیقی کا معاملہ ہے‘ انہوں نے بے شک 2001ء میں جنرل مشرف کے پی سی او کے موقع پر جرأت انکار کا مظاہرہ کیا مگر سول سوسائٹی ان کی اس لئے خیرخواہ نہیں بن سکی تھی کہ وہ عدلیہ میں نفاق پیدا کرکے اوراس وقت کے حکمران کے سہارے چیف جسٹس پاکستان کو راندۂ درگاہ بناکر ان کے منصب پر براجمان ہوئے تھے چنانچہ ان کی اس متنازعہ حیثیت نے ان کی جرأت انکار کو سول سوسائٹی کی سپورٹ سے محروم رکھا۔ یہ معاملات جہاں غور طلب ہیں‘ وہاں مستقبل کی سمت کے تعین کیلئے مددگار بھی بن سکتے ہیں۔ پچھلی عدلیہ نے کیا کیا‘ موجودہ عدلیہ کیاکر رہی ہے‘ اگر ہم اس بحث میں پڑے رہے اور ہاتھوں میں ڈالے ہوئے ہاتھوں کی گرفت کمزور بنا دی تو آنے والی عدلیہ بھی ایسی ہی ہوگی۔ یہی فکر انگیز نکتہ ہے کہ مستقبل کے سورج کو ماضی والے اندھیروں سے بچا لیا جائے بصورت دیگر سول سوسائٹی کی موجودہ تحریک بھی ایک المناک داستان کی حیثیت سے تاریخ کے اوراق کا حصہ بن جائے گی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں