مقروض اور محبوب
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 8 مارچ ، 2010
”اخوت“ کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب نے ایک انوکھے شخص ذکی الدین خلیفہ سے ملوایا جو امریکہ میں رہتے ہیں اور پاکستان ان کے دل میں رہتا ہے۔ وہ شجاع الدین خلیفہ کے پوتے ہیں۔ ان کے دادا کے دادا انجمن حمایت اسلام کے پہلے صدر تھے۔ وہ امریکہ میں بلین ڈالرز عطیات دیتے ہیں۔ اس میں کوئی تحصیص نہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے امریکہ میں رہ کر کمایا ہے تو مجھ پر امریکیوں کا بھی حق ہے۔ وہ پاکستان میں بھی کئی اداروں کو امداد دیتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر یونس کے ادارے کو ڈونیشن دینے کیلئے جا رہے تھے کہ انہیں ”اخوت“ کا پتہ چلا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب سے ایک تقریب میں ملاقات ہوئی۔ انہوں نے فی الحال بنگلہ دیش جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا ہے۔ ”اخوت“ کے تحت لاکھوں لوگوں کو 35 ہزار تک کے قرضے دیئے جا چکے ہیں۔ بعد میں رقم بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔ اس قرض پر کوئی سود نہیں لیا جاتا۔ یہ بلاسود بنک کاری کی طرف ایک شاندار ابتدا ہے۔ ڈاکٹر یونس بھی قرضے دیتے ہیں اور اس پر 30 فیصد سے زیادہ سود ہوتا ہے۔ پھر بھی یہ غنیمت ہے کہ غریبوں کو تو قرض ملتا نہیں۔ اس میں اتنی مشکلیں ہیں اور پھر اس قرض کی ادائیگی میں اس سے بڑھ کر مشکلیں ہیں۔ ہمارے ملک میں کروڑوں اربوں کا قرض آسان ہے ہزاروں لاکھوں کا مشکل ہے۔ امیر کبیر وزیر شذیر حکمران افسران کرپٹ اور ظالم لوگ جتنی آسانی سے قرض لیتے ہیں اس سے زیادہ آسانی کے ساتھ قرض معاف کروا لیتے ہیں یہ قرض قوم کے لئے مرض بن گیا ہے جب کہ ڈاکٹر امجد ثاقب اور اس کے ساتھی قرض کی خیرات کو ایک فرض سمجھتے ہیں۔ فرض اور قرض میں ایک نقطے کا فرض ہے۔ یہ بات ذکی الدین خلیفہ کو پسند آئی۔ اس ایک نقطے کو سمجھانے ڈاکٹر امجد اور ان کے ساتھی بہت دور نکل آئے ہیں۔ اور منزل بہت قریب ہے۔ منزل سے پہلے بھی منزلیں ہوتی ہیں راستوں اور مسافروں سے محبت کرنے والے منزلوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ منزلیں خود ان کی راہ دیکھتی ہیں۔ مجھے اچانک شعر یاد آیا ہے۔ ....
گھر کی جانب جانے والے راستوں جیسا ہے وہ
منزلوں سے پیشتر ہی منزلوں جیسا ہے وہ
ڈاکٹر امجد اور اس کے ساتھی ایسے ہی ایک شخص ہیں۔ اس نے ایک ایسے ہی شخص ذکی الدین خلیفہ سے ملوایا تو بڑا لطف آیا۔ وہ بے نیاز آدمی ہیں ایک قلندرانہ نیاز کے بغیر یہ ادا آدمی کو نہیں ملتی۔ نازونیاز اکٹھے ہوں تو پتہ دیتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں اس کمرے کے اندر خلافت قائم ہو گئی تھی۔ یہ خلافت پورے ملک میں قائم ہو سکتی ہے۔ ذکی صاحب اور ڈاکٹر امجد ثاقب جیسے لوگوں کو معاملات چلانے دیں۔ ذکی صاحب نے نوائے وقت میں میرے کالموں کا بڑی محبت سے ذکر کیا۔ میرے کالم ”پولیس کی چھترول“ پر بات کی اور بات امریکی پولیس کی طرف چلی گئی۔ یورپ اور امریکہ میں افسران اور پولیس عوام کے لئے ہیں۔ ہمارے ملک میں حکام کے لئے ہیں۔ آج بیرون ملک کسی کی کوئی عزت نہیں کہ اندرون ملک کوئی عزت نہیں۔ اور بیرون ملک عام لوگ نہیںجا سکتے۔
امریکہ میں ذکی الدین خلیفہ جیسے لوگ امریکہ کی عزت بڑھاتے ہیں اور پاکستان کی عزت بھی بڑھاتے ہیں۔ جان و مال کی قربانی میں جان کی قربانی کا مرتبہ زیادہ ہے مگر مشکل مال کی قربانی ہے اس مشکل کو آسان کرنا دل والوں کا کام ہے۔ دل والے دل والوں کو تلاش کرتے ہیں۔ اور وہ ایک دوسرے کو مل جاتے ہیں۔ ذکی صاحب اور امجد صاحب کی ملاقات ہو گئی اور پھر ہم کئی دوستوں نے ذکی صاحب سے ملاقات کر لی۔ چیمبر آف کامرس کے شاہدحسن نے بہت اچھی باتیں کی۔ ڈاکٹر امجد ثاقب چاہتے ہیں کہ اخوت کی بات ہو۔ اس نے ہمایوں احسان ڈاکٹر اظہار شمسی اور کئی ساتھیوں کا ذ کر کیا۔ ”اخوت“ کے حوالے سے ڈاکٹر امجد ثاقب کو یا اخی کہنے کو دل کرتا ہے۔ بھائی چارے کا یہ انداز بے مثال ہے۔ ”اخوت“ کے حوالے سے جو قرضے دیئے جاتے ہیں وہ قرضہ حسنہ ہوتے ہےں۔ حیرت ہے کہ ان قرضوں کی واپسی میں نہ مشکل پیش آتی ہے اور نہ دیر ہوتی ہے۔ پاکستان میں اور بھی ادارے ہیں جو سود پر قرض دیتے ہیں۔ انہیں باہر سے گرانٹس ملتی ہیں حکومت بھی مدد کرتی ہے۔ یہ ادارے بھی غنیمت ہیں مگر ڈاکٹر امجد ثاقب کا ادارہ ”اخوت“ ایک نعمت ہے۔ روشانہ ظفر کے ادارے کا نام کشف ہے۔ اس نے ڈاکٹر یونس سے متاثر ہو کر خدمت خلق شروع کی ہے۔ معروف شاعر برادرم ناصر بشیر شہر بھر میں دوستوں کے لئے آوارہ گردی کرتا ہے۔ ایک دن موٹر سائیکل پر میرے پاس آیا اور بتایا کہ اخوت سے قرض لے کر موٹرسائیکل لے لی ہے۔ ایک اچھی لڑکی نے میرے امتحان کے لئے داخلے کے پیسے میرے دوست کو دیئے تھے وہ خود کھا گیا مگر مجھے بتا دیا۔ میں کچھ عرصے کے بعد اس بڑے دل والی خاتون کے پاس گیا کہ میں تمہارے پیسے واپس کر سکتا ہوں مگر میں تمہارا مقروض رہنا چاہتا ہوں بڑے دل والی خاتون نے کہا کہ تم مجھے کروڑوں روپے بھی دیتے تو اس جملے کے برابر نہیں ہو سکتے تھے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے قرض نہیں لیا مگر میں ان کا مقروض ہوں۔ مرزا غالب کے گھر کا سودا لینے والی خاتون سے دکاندار نے کہا کہ وہ تو سارے شہر کا مقروض ہے اس نے کہا کہ یہ بھی تو دیکھو کہ ان کی آئندہ نسلیں مرزا غالب کی مقروض ہوں گی۔
راجہ انور نے کہا کہ ”ڈاکٹر امجد ثاقب کو نوبل پرائز ملنا چاہئے“۔ وہ اتنا نوبل آدمی ہے کہ اسے کسی پرائز کی حاجت نہیں ہے۔ حاجت روائی کرنے والے ان رسمی باتوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ ذکی صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر یونس کو نوبل پرائز ملا ہے تو ڈاکٹر امجد کا کام تو اس سے آگے کا ہے۔ مگر میں امجد صاحب سے کہہ رہا ہوں کہ اگر اسے نوبل پرائز ملے تو وہ قبول کر لے۔ انشااللہ اب یہ ادارہ امریکہ میں بھی رجسٹر ہو جائے گا ڈاکٹر یونس کے لئے یہ اعزاز کم نہیں ہے کہ صدر اوباما ڈاکٹر یونس سے بغل گیر ہو گئے جب کہ ہر کسی سے ہاتھ ملاتے ہوئے آ رہے تھے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے جسٹس عامر رضا کا ذکر کیا جو کئی خیراتی ادارے چلا رہے ہیں۔ معذور بچوں کا ادارہ امین مکتب بڑا ادارہ ہے مکتب عشق کی طرح لگتا ہے شہباز شریف نے معذور بچوں کے لئے قرض دینے کا تجربہ کرنے کو کہا ہے۔ اس کے لئے امداد بھی دی ہے۔ پاکستان میں مخیر حضرات بلکہ خواتین وحضرات کہنا چاہے بہت ہےں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کا پیغام ہے کہ مایوسی نہ پھیلائی جائے! !
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں