کونسی اخلاقیات کا دامن
رفیق ڈوگر ـ 8 مارچ ، 2010
اخلاقیات اور حقائق کا دامن نہ چھوڑنے کے درس سے سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ کیا حکمرانوں اور غیر حکمرانوں کی اخلاقیات الگ الگ ہوتی ہیں؟ حکمرانوں کی اخلاقیات کی قدریں محکوموں سے مختلف ہوتی ہیں؟ اور ان کے اخلاقیات کا دامن کبھی نہ چھوڑنے کے انداز بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں بے وردی حکمرانی کے چیف ایگزیکٹو (جی ہاں چیف ہی ایگزیکٹو کہ وہ خود اس کا اخلاقی دعویٰ رکھتے ہیں) سید یوسف رضا گیلانی اپنے خطاب خاص میں فرما رہے تھے کہ ”ہم اپوزیشن یا میڈیا کی تنقید کا برا نہیں مانتے لیکن تنقید کرنے والوں کا بھی فرض ہے کہ وہ ”اخلاقیات اور حقائق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں“ پاکستان مسلم لیگ ن کو ملک میں اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن ہونے کا دعویٰ ہے۔ قومی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن بھی اسی جماعت سے تعلق رکھتا ہے اس جماعت کے قائد میاں نوازشریف نے چند روز پہلے حلقہ 123 کے چکا چوند جلسہ خاص میں سارے میڈیا کی موجودگی میں فرمایا تھا کہ ”حکومت نے دو سال میں کچھ بھی نہیں کیا۔ عوام کا کسی کو خیال نہیں کوئی سوئس اکاﺅنٹ بھرتا ہے۔ کوئی کمیشن کھاتا ہے عوام کو ان کی لوٹی ہوئی دولت واپس ملنا چاہئے۔ ان کے چھوٹے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب نے دو مارچ کو بہاولپور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت ناکام ہو گئی ہے کرپشن اور غربت میں اضافہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس سے اگلے روز وہیں پر ایک خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ ”کرپشن لوٹ مار اور موقعہ پرستی کی سیاست کے خاتمہ کا وقت آ گیا ہے ملک بچانے کے لئے کچھ بھی کرنا پڑا تو ہم گریز نہیں کریں گے“ اس سے چند ہی روز پہلے سید یوسف رضا گیلانی نے ان دونوں بھائیوں کے ساتھ رائے ونڈ یا جاتی عمرہ میں ناشتہ کیا تھا مشترکہ ناشتہ اور باہمی افہام و تفہیم کے بعد میاں نوازشریف نے ان کی موجودگی میں میڈیا والوں سے کہنا ضروری سمجھا تھا کہ ”حکومت کرپشن سے پاک ہونی چاہئے۔ دو سال میں حکومت سے ہماری کوئی بھی امید پوری نہیں ہوئی 17 ویں ترمیم ختم کی جائے اور این آر او کو کالعدم قرار دینے کے عدالت عالیہ کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے” یہ ان دو بھائیوں کی حکومت پر تنقید ہے جو دو سال سے اس نظام حکمرانی کے قیام و دوام میں بھرپور تعاون کرتے آ رہے ہیں۔ کیوں کرتے آ رہے ہیں؟ اس موضوع کو فی الحال رہنے دیں۔ اسمبلی میں نمائندگی نہ رکھنے والی پارٹیوں کو اول تو دونوں پارٹیاں اپوزیشن مانتی ہی نہیں اگر ان کی تنقید کو بھی شامل کر لیا جائے تو وہ کیا کہتی ہیں وہی بات کہ کرپشن اور بدعنوانی بڑھ گئی ہے جو ن لیگ اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل والے بھی کہتے ہیں یہی کہ حکومت امریکی احکام کی پابندی کر رہی ہے۔ یہی بات ن لیگ دوسرے انداز میں کہتی ہے یہی کہ عدالت عالیہ کے فیصلے پر عمل کیا جائے اور ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے یہ مطالبہ بھی شریف برادران دہراتے رہتے ہیں۔ ان مطالبات میں کونسی اخلاقیات کے دامن کو چھوڑا گیا تھا یا چھوڑا جاتا رہا ہے؟ اب ایک نظر میں عملی صورت حال کو دیکھ لیں پرویز مشرف نے غیر قانونی طور پر حکومت پر قبضہ کیا تھا اس کے قبضہ سے پہلے بے نظیر اور اس کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف اور ان کے قریبی حکمران گروہ کے افراد کے خلاف کرپشن وغیرہ کے الزامات لگائے گئے تھے اور مقدمات درج کرائے گئے تھے۔ پرویز مشرف نہ صرف ان مقدمات کی پیروی کرتا کراتا رہا تھا بلکہ اعلانیہ کہتا رہا تھا کہ ایسی کرپشن کرنے والوں کو میں ملکی سیاست میں واپس نہیں آنے دونگا۔ مگر پھر بیرونی قوتوں نے وہ این آر او کرا دیا تھا جس کے تحت پرویز مشرف نے وہ سب مقدمات ختم کرنے اور اسی بے نظیر کو بطور وزیراعظم اپنے ساتھ شامل حکمرانی کرنے سے اتفاق کر لیا تھا اور بے نظیر نے اس کے بدلے میں بے وردی پرویز مشرف کو صدر پاکستان قبول کر کے ان کے ساتھ مل کر اس خطہ میں امریکہ اور اس کے سامراجی اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کی جنگ لڑنے کا معاہدہ کر لیا تھا۔ اس معاہدے میں این آر او کی اخلاقی بنیاد کوئی ہے؟ اس کی قانونی بنیادوں کو تو ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سترہ جج صاحبان متفقہ طور پر مسترد کر چکے ہیں کیا سید یوسف رضا گیلانی اپنے اگلے ماہ کے خطبہ جمعہ میں قوم کو اور میڈیا والوں کو اس غیر قانونی این آر او کی ان اخلاقی قدروں سے آگاہ فرمائیں گے جن کے وہ اور آصف علی زرداری علمبردار ہیں اور جن کی اپوزیشن اور میڈیا والے خلاف ورزی کے جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں تاکہ وہ سب بھی اس غیر قانونی این آر او کی اخلاقی قدروں کی سربلندی کی جنگ میں ان کا ساتھ دے سکیں؟ بے نظیر شہید ہو گئیں، پرویز مشرف نے اس کے باوجود این آر او پر عمل جاری رکھا ملک میں انتخابات کرا دئیے ان کے نتائج کو قبول کر لیا۔ وردی اتار دی یوسف رضا گیلانی کو وہ منصب ہاتھ آ گیا جس کا انہوں نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا پرویز مشرف نے بے نظیر سے غیر قانونی این آر میں کئے تمام وعدے پورے کر دئیے وجوہ جو بھی تھیں انہیں رہنے دیں کیا بے نظیر کی وصیت کی قوت سے ان کی پارٹی اور این آر او کے مالک بن جانے والے آصف علی زرداری نے پرویز مشرف سے کئے بے نظیر کے وعدے پورے کرنے کی اخلاقیات کو تھامے رکھا تھا یا چھوڑ دیا تھا؟ اور اس میں یوسف رضا گیلانی کا اپنا کردار کیا رہا تھا؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ پرویز مشرف سے کوئی زیادتی ہوئی تھی سوال صرف یہ ہے کہ بے نظیر کے کئے این آر او کی اخلاقی قدروں کی خلاف ورزی کی گئی تھی یا نہیں؟ این آر او کرانے والوں کے ساتھ کئے بے نظیر بھٹو کے تمام وعدے تو پورے کئے جا رہے ہیں لیکن پرویز مشرف سے کیوں نہیں پورئے کئے گئے تھے وہ وعدے؟ کن اخلاقیات کی بنیاد پر؟ وعدہ تو اخلاقیات میں بھی اور ایمانیات میں بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ بے نظیر نے نوازشریف کے ساتھ جو میثاق جمہوریت کیا تھا اس کی کوئی ایک بھی شرط پوری کی گئی ہے دو سال میں؟ ایسا نہ کرنا کسی کی اخلاقیات کی قدروں کی حفاظت ہے؟ کیا بتائیں گے اپنے اگلے ماہ کے خطبہ جمعہ میں سید ابواستثنیٰ گیلانی جی؟ اگر حقائق اپوزیشن کی تنقید کا ساتھ نہیں دیتے تو ساتھ کس کے ہیں ہر قسم کے حقائق؟ کیوں نہیں بتایا اور سمجھایا تھا شریف برادران کو اس روز سید ابواستثنیٰ نے کہ کونسے اخلاق اور حقائق کا دامن نہ چھوڑا جائے؟ صدر آصف علی زرداری اور ان کے حکمران قبیلہ کی اخلاقیات کا؟ ان کے محکوموں کی ذات اور رسوئی کے حقائق کا؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں