حلقہ این اے 123

طیبہ ضیاء ـ 8 مارچ ، 2010
راولپنڈی کے حلقہ این اے 55 سے جیتنے والے کےلئے اتنی خوشیاں نہیں منائی گئیں جس قدر لڈیاں شیخ رشید کے ہارنے پر ڈالی گئی ہیں۔ کسی شخص کی ہار جیت کے پیچھے عوام کی پسند و ناپسند ہو تی ہے جبکہ ”اہل قاف“ کے خلاف غم و غصہ کا رد عمل شیخ رشید کی ”ایک اور“ شرمناک شکست کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔ اہل قاف کے ساتھ کسی کی ذاتی دشمنی نہیں البتہ معاشرتی دشمنی ضرور ہے۔ ایک اسلامی معاشرے میں جب غیر اسلامی غیر اخلاقی غیر انسانی واقعات رونما ہونے لگتے ہیں اور مہذب معاشرے میں انسان اور حیوان میں تمیز مٹنے لگتی ہے تو اس دیس کے حیوان بھی منہ چھپاتے ہیں۔ لال مسجد جامعہ حفصہ کے واقعات نے نام نہاد مہذب انسانوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ مشرف دور حکومت میں بپا ہونے والی قیامت صغریٰ کے گناہ میں اس وقت کی تمام سرکار برابر کی حصہ دار تھی اور آج سب معصوم بنے بیٹھے ہیں۔ جس وقت بے گناہ بچیاں راکھ بنائی جا رہی تھیں کیا اس وقت مشرف کی ”قاف“ لحاف اوڑھے سو رہی تھی۔۔۔؟ وزارتوں کے مزے لوٹنے والوں کو لمحہ بھر کو غیرت نہ آئی۔۔۔؟ خواتین کے سینے میں تو ماں کا کلیجہ ہوتا ہے مگر کسی خاتون وزیر نے بھی استعفیٰ دینے کا حوصلہ نہ کیا۔۔۔؟ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا واقعہ بھی اسی دور مشرفیت میں پیش آیا۔ ایک ماں کو اس کے تین معصوم بچوں سمیت اغوا کر لیا گیا اور کسی نے اف تک نہ کی۔۔۔؟ اس کی بوڑھی ماں کو چپ رہنے کی دھمکی دی گئی۔۔۔ اس کی بہن کا جینا حرام کر دیا گیا۔۔۔ اور پوری کابینہ سوئی رہی۔۔۔؟ کوئی وزیر مشیر اپنے آقا پرویز مشرف سے پوچھنے کی جسارت نہ کر سکا۔۔۔؟ دور مشرفیت تاریخ کا بھیانک ترین باب ہے جس کو فراموش کرنے والے اس ملک کے نمک خوار ہرگز نہیں ہو سکتے۔ مشرف ٹولہ خواہ اب آسمانی صحیفہ لے آئے عوام انہیں اس وقت تک معاف نہیں کر سکتے جب تک وہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے شہداءکے خاندانوں سے معافی نہیں مانگ لیتے اور وہ انہیں معاف نہیں کرتے اور جب تک ڈاکٹر عافیہ کا خاندان انہیں معاف نہیں کرتا۔۔۔ اسلام نے سیدھا اصول وضع کر دیا ہے کہ ظلم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہے۔ اعلانیہ یا خاموش حمایت کرنے والا بھی ظالم ہے اور ظالم کو ووٹ دینے والا بھی ظالم ہے۔۔۔ قاف لیگ پرویز مشرف کو ”قائد ثانی“ کہتی تھی۔ اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے تھے۔ عوام نے انتخابات میں مشرف ٹولے کی وفاداری کا منہ توڑ جواب دیا۔ ان لوگوں نے تھوڑے سے نفع اور مفاد کی خاطر ظالم کا ساتھ دے کر اپنی جھولی میں بد دعائیں اکٹھی کرلی ہیں۔ ووٹ امانت ہوتا ہے۔ اعلانیہ اور حلفیہ گواہی ہوتی ہے۔ بیعت ہوتا ہے۔ ووٹر اپنے فعل کا دونوں جہانوں میں جوابدہ ہوتا ہے۔ پنجگانہ نماز ادا کرنے والا شخص سورة فاتحہ کی معنویت کو جانتے ہوئے بھی کسی گمراہ اور منافق کو منتخب کرکے پورے ملک کو آزمائش میں مبتلا کر سکتا ہے۔ اسلامی و اخلاقی نقطہ نگاہ میں ووٹ ایسے شخص کو دینا چاہئے جو اپنے ملک اور لوگوں کے ساتھ مخلص ہو۔ جس کا تن من دھن اپنے ملک کےلئے وقف ہو۔ جس کا جینا مرنا اپنے لوگوں کے ساتھ ہو۔ جس کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ جس کے وعدوں میں نفاق نہ ہو۔ جس کا سرمایہ اس کے ملک میں ہو۔ جس کے ہاتھ کرپشن سے پاک ہوں۔ جو امریکہ کی غلامی سے باغی ہو۔ جو بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات رکھتا ہو۔ جو اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتا ہو۔ جو دین اور دنیاکی سوجھ بوجھ رکھتا ہو۔۔۔ ووٹ کے حق سے اللہ اپنے بندے کو آزماتا ہے۔ تحریک انصاف کے انتخابی نشان ٹیلی فون سے پرویز مشرف کا ٹیلی فون یاد آجاتا ہے۔
وہ تاریخی ٹیلی فون جس کی ٹراں ٹراں۔۔۔ نے گہری نیند سوئے ہوئے پرویز مشرف کو نصف شب بیدار کر دیا اور جس کو سن کر پرویز مشرف نے ”یس سر“ کہتے ہوئے ایک زبردست سلوٹ مار ا اور جس کے بعد پاکستان ہمیشہ ہمیشہ کےلئے امریکہ کی غلامی میں جھونک دیا گیا۔ اس بھیانک رات کی اس منحوس ٹیلی فون کال کے ردعمل میں جہاں سترہ کروڑ عوام تڑپ اٹھے وہاں عمران خان بھی پرویز مشرف کا دشمن اول بن کر اٹھ کھڑا ہوا اور آج اس کو ٹیلی فون کا انتخابی نشان ملنا بھی غالباً اسی غم و غصہ کا نتیجہ ہے۔ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ اگر اس کی پارٹی جیت گئی تو وہ پرویز مشرف کی اس منحوس ٹیلی فون کال کا جواب ضرور دے گا۔ پاکستان کو امریکی غلامی سے ہمیشہ کےلئے نجات دلائے گا۔ حلقہ این اے 55 میں تحریک انصاف کا نمائندہ اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ڈوبا ہے اور اب حلقہ این اے 123 کیا نتیجہ لاتاہے کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔ لاہوریوں پر منحصر ہے کہ وہ لیڈر کے نام پر ووٹ دیتے ہیں یا کسی فرد واحد کا کردار ناپتے تولتے ہیں۔ عوام قاضی حسین احمد کا بھی بہت احترام کرتے ہیں مگر یہ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی پارٹی محض ووٹ کی خاطر ان لوگوں کے در کے چکر لگائے جنہیں وہ شب و روز تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں پہلے اپنا قبلہ درست کریں اور پھر عوام سے ایمانداری کی توقع رکھیں۔ زمینی حقائق کے مطابق لاہور میں بھی مسلم لیگ نون کا پلڑا بھاری جا رہا ہے۔ پاکستان کا الیکشن کمیشن بے ہوش ہے البتہ قوم کو ہوش میں آجانا چاہئے۔ ووٹ کا غلط استعمال پاکستان کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے جبکہ پاکستان اس کاری ضرب کا متحمل نہیں ہے۔ اس کو بچانے کےلئے آزاد الیکشن کمیشن اور ووٹ کا درست استعمال لازمی ہیں۔ قیام پاکستان کوئی کھیل تھا اور نہ ہی ووٹ کوئی مذاق ہے۔۔۔ مگر اس ملک کی بے نصیبی کہ اقتدار کی خاطر لوگ اپنا ایمان تک بیچ دیتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ وہ انسان نکما اور نااہل ہے جو حصول ِاقتدار کےلئے اپنے آپ کو ازخود پیش کرے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ اگر یہ بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان کےلئے زمین و آسمان کی برکات کے دہانے کھول دیتے مگر انہوں نے تکذیب کی جس کی پاداش میں ہم نے انہیں گرفتارِ عذاب کر دیا۔۔۔ اور نکمے حکمران سے زیادہ برا عذاب کیا ہو گا۔۔۔؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں