عوام زندہ ہیں .... !
طیبہ ضیاء ـ 8 فروری ، 2012
ایک آدمی نے مرغی پکڑی، گھر لایا تو دیکھا، نہ گیس ہے، نہ بجلی، نہ آٹا، نہ تیل، آدمی مرغی کو واپس گلی میں چھوڑ آیا۔ مرغی بھاگتے ہوئے زور زور سے چلائی، جیوے بھٹو۔۔۔ جیوے زرداری۔۔۔ کل بھی مرغی زندہ تھی، آج بھی مرغی زندہ ہے۔۔۔ پیپلز پارٹی کا موجودہ دور حکومت پاکستان کی تاریخ کا عبرتناک دور ہے۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد وہ زمانہ آیا کہ جیالے سیخ پا ہو جاتے اور کہتے کہ محلے میں کسی کی مرغی بھی چوری ہو جائے تو پیپلز پارٹی پر الزام لگا دیا جاتا ہے۔ اس دور کی پیپلز پارٹی علانیہ مظلوم تھی مگر بے نظیر صاحبہ کے ادوار میں مظلومیت کو استعمال کیا جاتا رہا۔ بی بی صاحبہ کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی کی مظلومیت کا تیسرا دور شروع ہو ا۔ تاہم اس بار عوام کو مظلومیت کے لفظ سے بھی نفرت ہو گئی ہے۔ مظلومیت اور آمریت نے اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ بھٹو کے داماد نے مظلومیت کا جنازہ نکال کر پیپلز پارٹی کو مظلومیت کی ”بلیک میلنگ“ سے ہمیشہ کے لئے محروم کر دیا ہے۔ جمہوریت کے نام پر اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور عوام کا وہ حشر کر دیا ہے کہ بندے بھوک سے مر رہے ہیں اور مرغیاں زندگی پانے پر جھوم رہی ہیں۔ پاکستان کے اس تاریک ماحول میں کسی کو سکون کے چند لمحات میسر آجائیں تو انہیں اللہ کا انعام سمجھا جائے۔ پاکستان کے لوگ دین اور دنیا کی آسودگیوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں، سکون قلب کے لئے ایک طرف دینی محافل میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری جانب منشیات کو راہ فرار کا سہارا بنایا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خوف سے کھیل اور دیگر تفریحی سرگرمیاں ختم ہوتی جا رہی ہیں ۔ اس اداس ماحول میں مذہبی محافل و مجالس کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے جبکہ سیاسی جلسوں کا کلچر بھی لوٹ آیا ہے۔ حکومت کو حفاظتی انتظامات میں دقت پیش آتی ہے مگر عوام کا جم غفیر جلسوں اور جلوسوں میں بلا خوف شرکت کرتا ہے۔ عید میلادالنبیﷺ کے موقع پر بھی ملک بھر میں سخت انتظامات کئے گئے۔ اس مبارک موقع پر پاکستان میں جو مناظر دیکھنے کو آئے اس سے پاکستان میں انتہاءپسندی کا رد عمل صاف دکھائی دے رہا ہے۔ شدید سردی کے موسم میں کھلے آسمان تلے امت محمدﷺ کا جوش و جذبہ قابل دید تھا۔ یہ ولولہ اور جوش نبی کریمﷺ کے ساتھ محبت کا کھلا ثبوت ہے۔ حضرت علی ہجویری ؒ کے مزار کے احاطے، مینار پاکستان اور دیگر مقامات میں یخ بستہ ہواﺅں اور بارش میں فقط نبیﷺ کی محبت میں رات بھر بیٹھے رہے۔ برف جیسی زمین پر تمام رات اپنے نبیﷺ کا یوم ولادت باسعادت منا تے رہے، اپنے نبیﷺ کا ذکر بلند کرتے رہے۔ نیت اور جذبوں کو قبول کرنے والی ذات ہر فتوے سے بے نیاز بخشش کے موقع فراہم کرتی ہے۔ اس ذات پاک کو ان سادہ بندوں سے پیار ہے، ان کے پاکستان سے پیار ہے اور یہی پاکستان کی بقاءکا راز ہے۔ کمرشل نعت خوانوں کی جیبیں تو نوٹوں سے بھر دی جاتی ہیں مگر وہ عوام جو محافل میں شرکت کے لئے کرایہ بھی اپنی جیبوں سے خرچ کرتے ہیں، ان کے خلوص اور محبت پر شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ پوری دنیا میں امت پریشان حال ہے، رنجیدہ اور خوفزدہ ہے جبکہ پاکستان کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔ اوپر سے ڈرونز برستے ہیں اور زمین پر دھماکے ہوتے ہیں۔ زمینی دھماکے ڈرونز کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ڈرونز حملے بند ہو جاتے ہیں تو زمین پر دھماکے ہونا بھی بند ہو جاتے ہیں۔ زمین والے بھی نفسیاتی مریض ہوتے جا رہے ہیں اور ڈرونز والے بھی ذہنی پیچیدگیوں کا شکار ہیں۔ ڈرون حملوں کے بعد نماز جنازہ پر بھی حملے کر کر کے تھک گئے ہیں۔ رہے نام اللہ کا اور اسکے پیارے محبوب کا۔
امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ امریکی ڈرونز پائلٹ نفسیاتی مسائل، ذہنی دباﺅ اور جذباتی انتشار کا شکار ہو گئے ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرونز کے ذریعہ میزائلوں کے حملوں کے بچوں اور بڑوں پر نفسیاتی اثرات پر بہت کچھ لکھا گیا لیکن پاکستان اور افغانستان کی فضاﺅں میں بغیر پائلٹ ہتھیاروں پر نظر رکھنے والے امریکی ڈرون پائلٹوں کی نفسیات پر ریموٹ کنٹرول جنگ کے اثرات پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ امریکی ایئر فورس کے ایک ہزار سے زائد پائلٹ ان ریموٹ کنٹرول ڈرونز کو چلانے میں مصروف ہیں۔ سینئر ایئر فورس کے ماہر نفسیات کے مطابق افغانستان میں زمینی فوج کی معاونت فراہم کرنے والے ان ڈرونز پائلٹس اور سینسر اپریٹرز کے رویوں کا چھ ماہ تک جائزہ لیا گیا، ان میں 46 فیصد ڈرونز پائلٹوں میں ذہنی دباﺅ کی سطح انتہائی بلند دیکھی گئی۔ 29فیصد میں جذباتی ہیجان اور تھکاوٹ پائی گئی۔ ڈرونز پائلٹ کی کمی اور فوج کی طرف سے ان کے استعمال میں مسلسل اضافہ ان پائلٹوں میں ذہنی دباﺅ کا سبب بن رہا ہے۔ اس نئی جنگی تکنیک کی وجہ سے جہاں لاکھوں جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے وہاں نفسیاتی مسائل میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس حساس معاملہ سے غفلت برتی جا رہی ہے۔ ایک ایسا خطہ جہاں نہ پانی ہے، نہ بجلی، نہ گیس، نہ آٹا، نہ دوائی نہ سکون، نہ سکیورٹی اور نہ ہی دل بہلانے کے لئے کوئی سامان میسر ہے، جہاں زندہ رہنا دشوار ہو جائے وہاں جلسوں اور جلوسوں میں لوگوں کا ہجوم اس بات کی علامت ہے کہ لوگ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے عوام ابھی زندہ ہیں البتہ حاکم ”مر“ چکے ہیں۔ جن لوگوں کا ضمیر اور دل مر جائے، وہ مردہ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”انہیں زندہ مت کہو، حقیقت میں یہ لوگ مردہ ہیں“۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں