تازہ ترین:

وہ جج جو انصاف سے روٹھ گیا

رفیق ڈوگر ـ 8 فروری ، 2010
کہانی اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ امتحانی پرچے دیکھنے والوں اور ٹیسٹ پڑچول کرنے والوں نے بالکل انصاف کیا تھا اور جو ایک ماہر قانون انصاف کے ترازو میں بے وزن ثابت ہو گیا تھا اس نے بہت برا منایا تھا اس کے برادر بزرگ نے حاکم وقت سے ٹیسٹ ترازو والوں کی شکایت لگا دی حاکم تو حاکم تھا اس نے تسلی دی۔ ”مجسٹریٹ لگانا تو میرے بس میں نہیں ہے۔ البتہ ہائی کورٹ کا جج لگانا لگوانا میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ لگا دیتے ہیں اور انصاف سے روٹھے اس ماہر قانون کو ہائی کورٹ کا جج لگا دیا گیا تھا اور اس نے عدل اور خاندان کا بہت نام روشن کیا تھا یہ ایک کہانی ہے۔ عدل کے میدانوں اور ویرانوں میں ایسی سینکڑوں کہانیاں ہیں ہم نے تو ہائی کورٹ میں وکیل صاحبان کو اپنے ہی میر منشیوں کے سامنے سرجھکاتے اور انصاف کی بھیک مانگتے دیکھا ہوا ہے۔ عدلیہ کی آزادی کی تحریک کو انصاف کی بربادی کے مراحل میں ہوکے ابھرتی دیکھ کر ہمیں وہ ایک کہانی یاد آنے لگی تھی۔ سنتے ہیں کہ ہائی کورٹ میں مسٹر جسٹس صاحبان کی درجنوں کرسیاں انصاف سے جدائی میں آنسو بہا رہی ہیں سائل بے چارے خوار ہوتے پھر رہے ہیں اور حکمران ان عوام کے خرچ پر ان کے سروں میں اپنے ”انصاف“ کے جوتے مارتے مارتے تھک ہار ہی نہیں رہے۔ وہ اپنے منشیوں اور خدمت اقارب کو ہی بٹھا دیں ان خالی کرسیوں پر عدل و انصاف ملے نہ ملے تاریخیں دینے کا دھندا تو چل پڑے گا۔ کچھ تو ملے این آر او شاہی سے ان کے عوام کو۔ ذلت اور رسوائی کے ساتھ ساتھ ہلائیں تو وہ فائلیں جن میں کون بنے گا جج لکھا پڑا ہے۔ یا ان فائلوں کو ہلانے سرکانے سے بھی استثنیٰ حاصل ہے اہل شاہی و سیاہی کو؟ ایسا ہے تو سید ابو استثنیٰ گیلانی بتا دیں ملک کے بے شعور عوام کو کسی خطاب خدمت کے دوران ویسے آپ نے سوچا ہے کبھی کہ لوگ مرتے کیوں پھرتے ہیں ایسی کرسیوں کے لئے؟ اور جو کوئی کسی طرح کسی کرسی پر نشین ہو جاتا ہے وہ اس سے چمٹا کیوں رہنا چاہتا ہے؟ اپنے بیوی بچوں تک کو اہل عدل و انصاف کی کرسیوں پر چڑھانے کے لئے عدل اور عدلیہ کے وظیفے کیوں پڑھتے رہتے ہیں؟ اور وہ جنہیں ان کی اہلیت اور دیانت کی بجائے ان کی کسی اور مہارت کی وجہ سے انصاف کی امانت سونپ دی جائے وہ اس کے تقاضے کیسے پورے کرتے ہوں گے؟ کسی ذاتی یا سیاسی خدمت کی وجہ سے بٹھانے والے جس بھی کسی کو ایسی کرسی پر بٹھا دیں وہ تو کھلی رشوت ہے اور رشوت دینے اور لینے والا دونوں ایک ہی جیسے مجرم ہیں اللہ کے ہاں بھی اور قانون کی نظروں میں بھی ایسوں سے عدل و انصاف کی امیدیں ؟ چھوڑ سکتے ہیں ایسے اپنے پیشہ اور ساتھیوں کو؟ ایں خواب است و خیال است و محال۔ یعنی ایسی توقع خواب دیکھنا ہی ہے جس کا پورا ہو جانا دشوار ہے۔
ابو سعید انور مرحوم بہت سے واقعات و شواہد بتایا کرتے تھے کہ کس کا کونسا بیٹا پڑھائی وڑائی میں ٹھیک تھا اور ریلوے میں ملازم ہو گیا تھا اور اس کا دوسرا نالائق بیٹا سیاست میں آ گیا تھا اور ریلوے کا وزیر بن گیا تھا اور اہل سیاست کے ہاں دستور یہی رہا ہے کہ لائق بچے سرکاری ملازمت میں اور نالائق خاندانی سیاست کے لئے۔ ہم ایک بزرگ کو جانتے ہیں جب بھی کبھی اس سے ملاقات ہوتی تھی وہ اپنے فرزند کی نالائقی کی فائل کھول لیا کرتا تھا اس کی خواہش تھی کہ بیٹا سول سروس میں جائے مگر اس نے باپ کی ایک بھی خواہش پوری نہ کی تو وہ اپنی خواہشوں کی فائل سمیٹ کر اسے اپنے پیشے میں لے آیا تھا اور اب وہ سیاست میں خدمت کی بلند سیڑھیوں تک پہنچ چکا ہے۔ دفتر کے چپراسی کے لئے تعلیم کا تو ایک معیار مقرر ہے فٹ کانسٹیبل کیلئے بھی مگر ملک چلانے والوں کیلئے تو اب بی اے ہونا بھی لازم نہیں۔ شاید سکول دیکھنا بھی لازم نہ ہو اور ایسوں کے خدمت بزنس کا حصہ ہے عدل و انصاف کی کرسی پر کسی کو جمانا اور بٹھانا۔ امانت اس کے حقدار کے حوالے کرنے والے خود امین ہیں؟ لازماً ایسا ہی ہو گا کہ این آر او کی شاہی ہے اور سید ابو استثنیٰ گیلانی نے ان کے ”امین“ ہونے سے استثنیٰ کا ابھی تک فتویٰ جاری نہیں فرمایا۔ جج لگانا اور جج بنانا کن کے اختیار میں ہے؟ ان کے جو کسی وکیل کا میر منشی تو کیا عام سا منشی بھی نہیں بن سکتے۔ اسے کہتے ہیں” این آر او زوالے را کمالے“ یعنی این آر او کے دئیے زوال کا کمال۔ خدا نہ کرے کسی ملک اور قوم کو نا اہلوں کے عروج کا وہ مرحلہ دیکھنا پڑے جو روم کی سلطنت کے زوال کے بارے میں ایک ناول ROSE میں دکھایا گیا ہے ناول کا ایک کردار کسی با اختیار کی کسی سے شکایت کرتا ہے کہ وہ تو کسی اصول کی پانبدی تو ایک طرف پرواہ ہی نہیں کر رہا سننے والے نے اس رونے والے سے اس اصول روندنے والے کے والدین اور پس منظر کے بارے میں پوچھا اس نے ٹھیک ٹھیک بتا دیا تو اس دانا نے کہا تھا ”پھر بھی تم امید کرتے ہو کہ وہ کسی اصول کی پابندی کرے گا؟ جب ایسوں کو اقتدار اور اختیار مل جائے تو انہیں خود اپنے با اختیار ہو جانے کا یقین نہیں آ رہا ہوتا اور وہ خلاف قانون و ضوابط احکام جاری کر کے اپنا آپ ٹیسٹ لے رہے ہوتے ہیں کہ کیا واقعی وہ با اختیار ہیں“ ایسا مرحلہ وہ ہوتا ہے جس سے نجات کے لئے بڑے انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے وہ انقلاب جس میں مولانا روم کے فرمان کے مطابق ”اول آں بنیاد را ویراں کند“ پر عمل لازم ہوتا ہے نئی تعمیر کی بنیادیں نئی رکھنا لازم ہے۔ پرانی بنیادوں پر نئی تعمیر؟ ناممکن۔ ہم نہیں کہتے یہ مولانا کا فرمان ہے:
وہ جج جو انصاف سے روٹھ گیا
اس جج سے عدل کا ناطہ کیا؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں