حمیدہ الماس نے شوکت خانم میں PET سکینر کا افتتاح کیا
محمد مصدق ـ 8 فروری ، 2010
عمران خان بہت خوش قسمت انسان ہے، جس نے ایک ایسا خواب دیکھا جس کی تکمیل بہت مشکل تھی لیکن پاکستانی قوم بھی عظیم ہے جس نے ایک نوبل کاز کیلئے عمران خان کو وہ کچھ دیا جو وہ سوچ ہی سکتا تھا۔ اتوار کے روز شوکت خانم ہسپتال میں PET سی ٹی سکینر کا افتتاح حمیدہ الماس نے کیا۔ پانچ ملین ڈالر مالیت کی مشین کیلئے عمرات کی تعمیر حمیدہ الماس نے کرائی تھی اس لئے اس کا افتتاح بھی اس کے ہاتھوں ہوا تقریب میں بلجیئم کے سفیر اور فلپس پاکستان کے چیئرمین اسد ایس جعفر بھی موجود تھے اس موقع پر عمران خان اور ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی خطاب کیا۔ کمپیئرنگ کے فرائض حامد میر نے انجام دیئے اور سب سے خوشی کی بات ہے کہ دل سے ڈونیشن کے لئے آواز دی چنانچہ اوپر آسمان پر سے ہلکی پھلکی بارش ہو رہی تھی لیکن نیچے ڈونیشن دینے والوں کی برسات تھی، عابد حسین ٹریڈ کمشنر بلجیئم نے اپنی تقریر میں کہا اس PET (Positron Emission Toography ) مشین کے لئے پنتیس فیصد اخراجات بلیجئم کی ایک کمپنی نے دیئے۔ یورپیئن انویسٹمنٹ بینک نے پچاس ملین یورو کی گرانٹ کینسر کی ریسرچ اور جدید ایکوئپمنٹ ڈویلپ کرنے کیلئے IBA کو فراہم کی ہے۔ ریسرچ ہی کے نتیجہ میں روائتی پروٹون تھراپی کیجگہ Proteus Nano نے لی ہے جس کی وجہ سے بہت سے فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ اسد ایس جعفر نے اپنی تقریر میں انکشاف کیا کہ دنیا میں کینسر کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور ورلڈ کینسر رپورٹ جو انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے شائع کی ہے اس کے مطابق کینسر کا مرض بہت جلد دل کے امراض کے برابر کھڑا ہو جائے گا اس لئے کینسر کے علاج کی طرف توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔
عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا ”میں سٹیٹ آف دی آرٹ کینسر ہسپتال بنانے میں اس لئے کامیاب ہو گیا کہ میرا دل صاف تھا اگر ہمارے حکمرانوں کا دل بھی صاف ہو جائے تو پاکستان بہت تیزی سے ترقی کے منازل طے کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر فیصل سلطان نے PET سکینر کے بارے میں بتایا کہ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی مشین ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جب ہم نے اس مشین کو خریدنے کے بارے میں سوچا تو اس وقت اتنی بڑی رقم ہمارے فنڈ میں موجود نہیں تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے مدد کی۔ مخیر حضرات اور خواتین نے دل کھول کر امداد دی جس کی وجہ سے آج کینسر کی تشخیص کی جدید ترین مشین پاکستان میں موجود ہے۔ پہلے اس مشین کیلئے مریضوں کو باہر جانا پڑتا تھا لیکن اب سب کچھ یہاں موجود ہے اس مشین کا کمال ہے کہ یہ اس مقام کی سو فیصد نشاندہی کرتی ہے جہاں کینسر موجود ہوتا ہے اس کی تائید اسد جعفر نے بھی کی کیونکہ اس مشین کے ذریعہ سب سے پہلے ایک سولہ سالہ نوجوان کے کینسر کی تشخیص کی گئی تھی اب کسی تکلیف دہ عمل کے بغیر ممکن ہو گیا ہے کہ آپ کینسر کو بالکل آغاز میں بھی تشخیص کر سکتے ہیں۔
حمیدہ الماس نے نوائے وقت کو بتایا میں نے سوچا کہ انسانیت کی بھلائی کیلئے بھی کچھ کرنا چاہئے اس لئے میں نے جو کچھ کیا تھا وہ سب کچھ شوکت خانم ہسپتال کو دے دیا ہے اور مجھے خوشی ہے کہ میری جمع پونجی صحیح جگہ لگی ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں