تازہ ترین:

مرگِ ناگہانی کا اہتمام

سعید آسی ـ 8 فروری ، 2010
ہماری فورسز نے شدت پسندوں کے گڑھ ڈمہ ڈولہ پر کنٹرول سنبھال کر اپنے ہی وطن کی سرزمین پر 9 سال بعد قومی پرچم لہرا دیا اور اس آپریشن کے ردعمل میں شدت پسندوں کے حملے کا خطرہ محسوس کرکے 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر مسلح افواج کی پریڈ منسوخ کردی۔ میں مخمصے کا شکار ہوں، اپنی ہی سرزمین کو فتح کرکے اس فتح و سرشاری کا جھنڈا گاڑنے پر میں اپنی بہادر افواج کو سلام عقیدت و محبت پیش کروں یا 23 مارچ کی پریڈ کی منسوخی کی صورت میں دشمن کو اپنی کمزوری کی بھنک ڈالنے کی درز کھولنے پر پوری قوم کو اپنی تشویش میں شریک کروں۔یہ بڑوں کے معاملے ہیں،بڑوں کے فیصلے ہیں‘ بڑائی کی باتیں ہیں‘ بُرائی کی گھاتیں ہیں‘ وطن عزیز لرز رہا ہے‘ عوام مر رہے ہیں‘ دشمن خونخوار بنا جا رہا ہے‘ ہم کمزور ہوئے جا رہے ہیں‘ دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ لڑ رہے ہیں اور بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے چلے جا رہے ہیں۔ میرے منہ میں خاک اگر میں اپنی بہادر افواج کے سنہری کردار کے بارے میں کسی شک میں پڑوں لیکن اپنی اور اپنے وطن عزیز کی سالمیت کی جانب دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے والے اپنے مکار دشمن کو اسکے تمسخر کا کیا جواب دوں” بس اتنے ہی جری ہو کہ اپنے وطن عزیز کے اہم قومی دن کے موقع پر پریڈلین میں مسلح افواج کی روائتی پریڈ کے بھی متحمل نہیں ہورہے“۔
جناب یہی تو ایک موقع ہوتا ہے اپنی عسکری برتری اور دفاعی صلاحیتوں کی دشمن کو جھلک دکھانے کا تاکہ ”سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے“ مگر یہ کیا ہے کہ ہم خود ہی کمزوری دکھا کر اپنے موذی دشمن کو حاوی ہونے کا موقع فراہم کررہے ہیں اور ایسے وقت میں جب دشمن چنگھاڑ رہا ہو‘ اپنی عسکری برتری کے نشہ میں گیڈر بھبکیاں لگائے جا رہا ہو اور اس دشمن کا دوست ہمارا دشمن بھی ہمارے ساتھ دوستی کے چکمے میں ہمارے دشمن کو ہلہ شیری دئیے جا رہا ہو‘ ہم اپنے قومی دن کے موقع پر بھی اس دشمن اور دوست نما دشمن کو اپنی عسکری طاقت اور دفاعی صلاحیتیں دکھانے سے گریز کریں گے تو ہمارے لئے اس سے بڑی خجالت اور کیا ہوگی؟ پھر ہمارا دشمن کیوں نہیں سوچے گا اور یہ سوچ کر ہمارا ٹھٹھا کیوں نہیں اڑائیگا کہ یہ تو دہشت گردی کے محض خطرے سے ہی دبک گئے ہیں‘ ہماری جارحیت کا سامنا کیا کر پائیں گے‘ اس لئے ہم جب اور جیسے چاہیں‘ ان کے کان مروڑ دیں۔
پھر اپنی سرزمین پر 9 سال بعد قومی پرچم لہراتے ہوئے کم از کم یہ تو سوچ لینا چاہئے تھا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کی جس جنگ نے ہمیں گزشتہ تین سال سے یوم پاکستان کے موقع پر مسلح افواج کی روائتی پریڈ منسوخ کرنے پر مجبور کررکھا ہے‘ اس جنگ میں اپنی ہی سرزمین پر فتح کے جھنڈے گاڑ کر درحقیقت کس کی کامیابی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ کیا امریکی نائن الیون سے پہلے ہمارے وطن عزیز کے ایسے حالات تھے اور کیا انہی طالبان‘ انہی مبینہ دہشت گردوں‘ عسکریت پسندوں اور انہی بنیاد پرستوں کی موجودگی میں یہ ملک اور سوات‘ کالام‘ اُوشو‘ مالاکنڈ‘ دیر اور پھر شمالی و جنوبی وزیرستان تک اس ملک کے تمام قبائلی علاقے امن و سکون اور خوشی و خوشحالی کا گہوارہ نہیں تھے؟ کہیں مذہبی جنونیت میں بم پھٹتے اور خودکش حملے ہوتے نظر آتے تھے؟ کبھی کہیں کوئی گرلز سکول یا سکیورٹی فورسز کے ٹھکانے دہشت گردی کا نشانہ بنتے تھے؟ ملک کے کسی بھی حصے میں نہتے معصوم شہریوں‘ خواتین اور بچوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑانے کی سنگدلی اور سفاکی نظر آتی تھی؟
اگر نائن الیون کے ڈرامے سے پہلے ہمارے وطن عزیز پر ایسا کچھ بھی نہیں تھا اور ہمارے قبائلی علاقے ”مذہبی جنونیوں“ کی موجودگی کے باوجود غیرملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے تو جناب آج قومی‘ ملی اور عسکری عزم و سربلندی کی علامت 23 مارچ کی پریڈ منسوخ کرتے وقت ذرا سوچ تو لیجئے کہ ہم کس کے ہاتھوں کا کھلونا بنے ہوئے ہیں‘ کس کے مقاصد کی تکمیل کررہے ہیں‘ اپنی سالمیت کیخلاف کس کو طاقت‘ ہمت اور حوصلہ دے رہے ہیں اور اپنی ہی سرزمین پر اپنے ہی شہریوں کو زیر کرکے‘ اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کا خون ناحق بہا کر، اپنے ہی بچوں کے لاشے اٹھا کر‘ اپنی ہی ماﺅں بہنوں کی گود اور سہاگ اجاڑ کر‘ اپنے ہی گھروں‘ خاندانوں میں مایوسیوں‘ ویرانیوں‘ وحشتوں کو آباد کرکے اور اپنی ہی خوشیوں کو برباد کرکے کس کی کامیابی کے جھنڈے گاڑے جا رہے ہیں اور کس کی فتح کا اعلان کیا جا رہا ہے....؟ اور کیا یہ سنگین مذاق نہیں کہ جس مسلم کُش وحشی نے آپ کو دہشت گردی کا ڈراوا دیکر اپنے مفادات کی جنگ کو آپ کی اپنی جنگ قرار دینے پر مجبور کیا اور اپنے ہی شہریوں کے مدمقابل لاکھڑا کیا‘ وہ اب خود تو اپنے فوجیوں اور شہریوں کی جانیں بچانے کیلئے انہی ”دہشت گردوں“ کے ساتھ مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے تاکہ ان سے اپنی واپسی کا کوئی محفوظ راستہ مل جائے اور آپ ہیں کہ پھر بھی ”اسی عطار کے لونڈے سے دوا“ لیکر اپنی مرگِ ناگہانی کا اہتمام کئے جا رہے ہیں۔ خدارا اپنی عظمت اور وطن عزیز کی عزیمت ہمیں واپس لوٹا دیجئے۔ ہمارے جوان مکار دشمن کے سامنے وطن عزیز کی عسکری برتری کا سکہ جماتے‘ جدید اسلحہ‘ ٹینکوں‘ توپوں‘ گھن گرج والے جنگی جہازوں کی نمائش کرتے‘ کرتب دکھاتے‘ سجتے سجاتے پریڈ کرتے اچھے لگتے ہیں جس سے مکار بنئے کی دھوتی ڈھیلی اور گیلی ہونے کی فضا بنتی ہے اور دفاع وطن کیلئے مر مٹنے کا قومی جذبہ نیا حوصلہ پاتا اور پروان چڑھتا ہے۔ آپ قومی عظمت کی اس علامت کو روپوش کرکے کیا ہمیں خود کو دشمن کے سامنے ڈھیر ہونے کی راہ سجھا رہے ہیں اور ہمارا اعتماد چھین رہے ہیں؟ یاد رکھئے! جس قوم کا اعتماد ٹوٹ جائے‘ اس کی ہزیمتوں‘ ناکامیوں‘ نامرادیوں کا راستہ کھل جاتا ہے۔ اس لئے آپ بس ہمیں ہمارا اعتماد واپس لوٹا دیں۔ ہم آپ کے گاڑے ہوئے جھنڈے کو بھی سلام کریں گے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں