عبدالعزیز خالد.... ایک عہد!!
بشری رحمن ـ 8 فروری ، 2010
وہ بھی کیا دن تھے....؟ اسی لاہور شہر میں ہر شام ادیبوں اور شاعروں کی ایک کہکشاں اترا کرتی تھی، کسی ہوٹل میں کسی ہال میں ، کسی مرکز میں، کسی ادارے میں.... بڑے بڑے جغادری ادیب، شاعر، نقاد، کالم نگار عرفان و آگہی کے سپہ سالار محفلیں سجایا کرتے تھے۔ کتابوں کی پذیرائیاں ہوتی تھیں.... کتنا ارمان اور خفقان ہوتا تھا ان محفلوں میں جانے کا اور نہ جا سکنے کا.... کچھ سننے کا،کچھ کہنے کا....
یہ غالباً 1985ءکی بات ہے کہ اردو کی محترم اور معروف ادیبہ سائرہ ہاشمی نے ایک ادبی تنظیم ’بزم ہم نفساں‘ کی بنیاد رکھی۔ یہ بزم گروہی تعصب، ذاتی حسد اور صفاتی چپقلش سے ماوریٰ تھی۔ دیکھتے دیکھتے سائرہ ہاشمی نے لاہور کے تمام جیّد اور قابل ذکر ادیبوں، شاعروں اور خواتین و حضرات کو اس پلیٹ فارم پر جمع کر لیا۔اس ایک بات پر سارے دانشور متفق ہوئے کہ ہر ماہ کسی ایک اہل قلم کے گھر پر ’بزم ہم نفساں‘ سجائی جائے۔ یوں باقاعدگی سے باری باری سب کے ہاں ایک خوبصورت ادیبانہ شاعرانہ شام سجائی جانے لگی.... گنگناتی مسکراتی اور فکر کے موتی لٹاتی ہوئی.... ہر محفل میں افسانہ، سفرنامہ، کوئی باب، کوئی صنف سخن، سنی جاتی۔ شعرو شاعری کا دور بھی چلتا.... یہ ایک عظیم کارنامہ تھا جو سائرہ ہاشمی نے تقریباً بیس سال بغیر کسی تعطل کے اور صلہ و ستائش کی پرواہ کئے بغیر جاری رکھا۔اسی بزم ’ہم نفساں‘ میں پہلی بار میری ملاقات جناب عبدالعزیز خالد اور ان کی بیگم صاحب خالدہ آپا سے ہوئی۔ میں کافی عرصہ سے ان کا کلام پڑھ رہی تھی اور ان کے کلام پر جو بحث بعض حلقوں نے شروع کر رکھی تھی وہ بھی سن رہی تھی۔ کسی زمانے میں میں نے ان کی کتاب فارقلیط خریدی تھی اور اس کو یوں ورق ورق پڑھا تھا جیسے کوئی صحیفہ پڑھا جاتا ہے۔ گو اپنی کم علمی کے باعث بہت سی اصطلاحات اور تعلیمات میری سمجھ سے بالاتر تھیں مگر پھر بھی ان کے ساتھ ایک عقیدت اور احترام کا رشتہ سا جڑ گیا۔ میں ان سے ملی تو ایک خوشگوار حیرت ہوئی۔ وہ ایک سادہ اطوار، حلیم الطبع، منکسر المزاج، خوش خلق اور مٹی ہوئی طبیعت والے انسان تھے۔ ان کو صدارت کرنے اور مہمان خاص بننے کا ذرا بھی شوق نہیں تھا۔ وہ محفل میں یوں بیٹھے رہتے جیسے سب اہل محفل ان سے بہتر ہیں۔ وہ ہر ایک کی بات یوں سنتے کہ جیسے پہلی بار سن رہے ہوں۔ ہر اچھی تخلیق کی خوب داد دیتے۔ کبھی کوئی متنازع بات نہیں کرتے تھے، نہ اپنا کلام سنانے پر راضی ہوتے۔ بہت سے شاعر اور شاعرات تقدیم و تاخیر کی الجھن میں گرفتار رہتے ہیں۔ ان کو ایسا کوئی کمپلیکس نہیں تھا۔ میں میں کرنے والوں سے اکثر دور رہتے تھے۔ اپنی ذات پر کوئی خود پسندی اور خود زعمی کا کلف نہیں لگا رکھا تھا حسِ مزاح بھی رکھتے تھے۔ ہنسنے والی باتوں پر جی کھول کر ہنستے تھے۔ ان کی شائستگی اور رواداری کا پورا رنگ ان کی بیگم صاحبہ پر چڑھا ہوا تھا۔ دونوں میاں بیوی ہر محفل میں اکٹھے آتے اور بہت اچھے لگتے تھے....
انہوں نے اردو شاعری اور تراجم میں نئی روایات کی طرح ڈالی۔ اسلوب کو ایک نیا آہنگ عطا کیا جس طرح ان کا زاویہ نگاہ منفرد تھا۔ اسی طرح ان کا کلام بھی نرالا اور انوکھا ہے۔ ہر بڑے آدمی کی طرح منہ پر اپنی تعریف سننا ناپسند کرتے تھے۔ بعض کوتاہ نظر ان کی شاعری کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ مسکرا کر سنتے اور ہنس کر ٹال دیتے تھے۔ دیباچے اور فلیپ کسنے سے احتراز کرتے تھے۔ خواہ مخواہ بحث میں نہیں ±الجھتے تھے۔
ان کو دیکھ کر اور ان سے مل کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ علم و عرفان، قاری اور قرآن، آگہی اور ایقان کا ایک ایسا جھرنا ہیں جو دھیرے دھیرے اپنی من مستی میں بہہ رہا ہے۔ مضامین غیب سے اتر رہے ہیں اور ان کے مالا مال قلم کی برکت خیال آرائیوں کو اوڑھ کر وہاں پہنچ گئی ہے۔ جہاں جذبے مستجاب ہوتے ہیں اور آنسو باریاب ہوتے ہیں۔ ورنہ ایک بندے کے لئے آسمانی کیفیتوں کو کاغذوں پر اتارنا کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔ ان کی شاعری ایک یقین میں گندھی ہوئی تھی اور اس یقین کا محرم صرف ایک عاشق رسولﷺ ہی ہو سکتا ہے۔ اگر ہم ان کی ڈھیروں ڈھیر کتابیں تراجم اور شاعری کے نسخے ایک طرف رکھ دیں تو بھی جس طرح انہوں نے اردو لغت کو دوسری زبانوں کے نئے اور ہرے بھرے الفاظ و اصطلاحات سے مالا مال کیا ہے اور نئی تراکیب وضع کی ہیں۔ اردو زبان کا م¶رخ انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔
خوشا وہ لوگ جو اس دنیا کی خوبصورتیاں بڑھانے کے لئے آتے ہیں۔ اس دنیا کو کچھ دے کر جاتے ہیں۔ اپنے کردار کی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے وہ گوشہ نشین ہو گئے تھے.... مگر قلمی طور پر ہر ادبی رسالے میں نظر آ رہے تھے.... اور ہم ان کی موجودگی کو غنیمت سمجھے بیٹھے تھے کہ اخبار میں خبر آ گئی۔ع
اٹھ گیا ناوک فگن مارے گا دل پر تیر کون
افوہ.... یہ دنیا کیسی ہے.... سب اپنے آپ میں مگن ہو جاتے ہیں۔ کوئی لمحہ بھر کو ٹھہر کر نہیں سوچتا کہ ایک بڑا ہی خوبصورت شخص عبدالعزیز خالد ہر محفل میں موجود ہوتا تھا۔ عافیت نشین کیوں ہوگیا۔ دیکھیں تو سہی۔ اس پہ کیا بیتی.... کیا نفسا نفسی ہے اور کیا عالم ہے یا پھر یہ کہ یہ دنیا ایک گورکھ دھندا ہے اور کوئی اس کے شکنجے سے نکل نہیں سکتا۔ دانشور ادیب اور شاعر جو اخلاقی روایات اور روحانی اقدار کے علمبردار ہوتے ہیں وہ بھی دنیا داری کے معاملوں میں الجھے رہتے ہیں۔ اپنی کسی ساتھی کو تلاش نہیں کرتے۔ کیا وہ بھی اخبار میں ایک خبر لگنے کے منتظر ہوتے ہیں۔ پل بھر میں جمع بھی ہوجاتے ہیں.... دکھ کو بیان کرنا جو کسی کے جانے سے ہوتا ہے بہت مشکل ہے.... یادوں کی ایک قطار ہے جو چلی آتی ہے....
اسی بزم ہم نفساں کے توسط سے میرے غریب خانہ پر بھی شعرو ادب کی عظیم المرتبت شخصیات تشریف لاتی رہیں۔ میں نے ان سے آداب زندگی اور سلیقہ بندگی سیکھا انسانیت نوازی اور آدمیت طرازی کا قرینہ سیکھا۔ حرف کی حرمت اور لفظ کی لذت سے آشنائی سیکھی.... وہ سب شخصیات عبدالعزیز خالد کی طرح عہد ساز ہی تھیں.... جناب شیخ منظور الٰہی.... عارف عبدالمتین.... اشفاق احمد.... احمد ندیم قاسمی.... غلام رسول ازہر.... ڈاکٹر وحید قریشی.... آغا سہیل.... اور بہت سے لوگ....
ایک عہد ایک دفینہ ایک فخر....کہاں گئے وہ لوگ.... اب جناب عبدالعزیز خالد بھی یہ دیکھنے کو کہ وہ جہاں کیسا ہے جہاں سب جاتے ہیں مگر کوئی لوٹ کے نہیں آتا ان کے پیچھے چل دئیے ہیں۔ کیا کیجئے
یہ مسافر لوگ پت جھڑ میں چلے جاتے ہیں دور
ان کی خاطر شیشہ¿ دل کو لہو مت کیجئے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں