حیرت ہوتی ہے جب چھوٹی چھوٹی باتوں کا مسئلہ بنا کر الیکٹرانک میڈیا پر گھنٹوں بحث جاری رہتی ہے۔ اور جو پاکستان کے بڑے بڑے مسائل ہیں۔ ان کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
پروٹوکول کی بھیڑ میں پھنسے ہوئے کوئٹہ شہر کے رکشے میں ایک بچہ پیدا ہو گیا۔ اس پر وہ لے دے ہوئی کہ الاماں الحفیظ۔ کیا پروٹوکول کوئی نیا مسئلہ ہے....؟ ضرورت صرف اس بات کی تھی کہ کوئی صاحبِ بصیرت وہ پولیس میں سے ہوتے یا دانشوروں میں سے ہوتے یا سیاست دانوں میں سے ہوتے۔ یہ کہہ دیتے۔ کہ ایک موبائل ٹیم پولیس کی بنائی جائے۔ جسے گشتی ٹیم کہتے ہیں۔ جہاں گھنٹوں کے حساب سے عاقبت نااندیش حکمران رعایا کو مفلوج رکھتے ہیں۔ وہاں وہ ٹیم چاروں طرف رکے ہوئے ٹریفک کا جائزہ لے۔ کوئی بیمار ہو لاچار ہو‘ ایمرجنسی ہو تو اپنی گاڑی میں اسے راستہ دے کر ہسپتال پہنچا دیں۔ یہ بھی عوام کی ایک خدمت ہو گی مگر جہاں پیسہ بہت ہوتا ہے وہاں عقل کم ہوتی ہے۔ اسکا تدارک ڈھونڈنے کی بجائے پانچ لاکھ روپے دے کر بحث کا ڈھکن بند کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کوئی نئی رسم نہیں ہے۔ ہر دور کے سربراہ اور وزرائے اعلیٰ ایسا ہی پروٹوکول مانگتے ہیں۔ مغلیہ سلطنت کی کہانیاں مشہور ہیں۔ جب چوبدار آوازہ لگاتے تھے۔ نگاہ روبرو.... باملاحظہ‘ ہوشیار‘ ظل اللہ‘ ظلِ الٰہی‘ عالم پناہ‘ ذی جاہ سلطانِ ہند.... تشریف لاتے ہیں.... سلطان بننے کی تمنا ہر پاکستانی سربراہ کے دل میں رہتی ہے۔ اور اب ہوشیار خبردار کرنے والے کام ہوٹر بردار کرتے ہیں۔ 1986ءمیں ہمارے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا۔ جبکہ جمہوریت کے علمبردار جناب محمد خان جونیجو وزیراعظم تھے۔ راوی روڈ پر ٹریفک روک دی گئی تھی۔ اور ہمیں ایک عزیز کی فوتیدگی پر گجرات جانا تھا۔ جنازہ چار بجے اٹھنا تھا اور ہم پروٹوکول کی وجہ سے رات آٹھ بجے وہاں پہنچے تھے۔ زمانہ کوئی ہو۔ انداز ایک ہی ہوتا ہے۔ کیا یہ ایک دن کا رونا ہے....
پھر یہ دیکھ کر اور بھی حیرت ہوئی کہ کئی دنوں تک میڈیا پر دوسری تیسری شادی کا مسئلہ مذاق بنا رہا۔ جو باتیں دائرہ اسلام اور ضابطہ اخلاق میں آ چکی ہیں۔ ان کو خواہ مخواہ متنازع اور مضحکہ خیز بنانے سے کیا حاصل.... جہاں انسان ہو گا وہاں مسائل تو ہر روز برآمد ہوں گے۔ میڈیا کا کام مسائل کو حل کرنا ہے مسائل کو ہوا دینا نہیں....
گذشتہ ہفتے جہاں اور بہت سے مسائل ابھرے وہاں نیشنل اسمبلی کے اندر پانی کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو کسی نہ کسی صورت میں الیکٹرانک میڈیا پر جاری و ساری رہنا چاہئے کیونکہ پاکستان کے ساتھ پانیوں کے معاملے میں جو سلوک ہو رہا ہے۔ اس کے تحت اب پاکستان تنگ آمد بجنگ آمد کی کیفیت میں آ گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر جتنے دن یہ بحث ہوتی رہی۔ حکومتی بنچوں سے ذرا بھی اس کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا گیا۔ جو بھی رکن اٹھتا بس یہی کہتا کہ یہ ایک آمر نے کیا تھا۔ فلاں حکومت نے یہ معاملہ کیوں درست نہیں کیا اور فلاں حکومت کیوں خاموش رہی۔ موجودہ حکومت کے پاس کسی مسئلے کا کوئی حل ہے کہ نہیں ہے۔ مگر ہر مسئلے کا جواب اس کے پاس یہ ہے کہ یہ سابقہ حکومتوں کی کارستانیاں ہیں۔ دو سال تو اس نے سابقہ حکومتوں کو الزام دینے اور برا بھلا کہنے میں گزار دئیے۔ اب آئندہ اس کا کیا ارادہ ہے....؟
جانے والی حکومت کی غلط پالیسیوں کو درست کرنے کے لئے نئی حکومت آتی ہے۔ اور انہی وعدوں پر وہ ووٹ بھی لیتی ہے.... الزام تراشی کر کے اور بہتان بازی کر کے یہ لوگ کب تک ڈنگ ٹپائیں گے۔
حکومت وقت کی بے حسی کو دیکھتے ہوئے شوریٰ ہمدرد کے تھنک ٹینک نے گذشتہ ہفتے پاک بھارت مذاکرات خدشات اور امکانات پر ایک بھرپور سیشن بلایا تھا۔
جس میں بطور خاص کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی جناب جماعت علی شاہ کو مدعو کیا تھا کہ وہ اس معاہدے کی موجودہ صورت حال کی تفصیل بتائیں۔ ان کے ساتھ انجینئر سلیمان نجیب خاں کنوینر واٹر ریسورسز ڈویلپمنٹ کونسل‘ جناب ملک حبیب اللہ بھٹہ کنوینر سندھ طاس واٹر کونسل بھی بطور خاص بہاولپور سے تشریف لائے تھے۔ اور بہت سے دیگر ارکانِ شوریٰ نے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ سوالات یہ اٹھائے گئے کہ....
کیا انڈس واٹر ٹریٹی کو Revise کیا جا سکتا ہے؟
اس کے لئے عالمی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے؟
1960ءمیں انڈس‘ جہلم اور چناب میں جو پانی کی رفتار تھی۔ وہ اب ہے کہ نہیں تو کتنی ہے؟
بھارت کے ساتھ جو طے ہوا تھا کیا اس کے مطابق وہ ساڑھے تیرہ لاکھ رقبہ ہی سیراب کر رہے ہیں یا زیادہ پانی چرا رہے ہیں۔
بھارت ڈیم پہ ڈیم بنائے چلا جا رہا ہے۔ معاہدے کے مطابق کیا وہ پیشگی اطلاع دیتا ہے۔ اگر نہیں تو اس سے بازپرس کون کرتا ہے۔ اور کس انداز میں کرتا ہے۔
اس معاملے میں حکومتوں پر مسلسل بے حسی کیوں طاری ہے۔
بھارت نواز لابی پاکستان میں کالاباغ ڈیم کی مخالف کیوں ہے؟
اس کے متبادل مزید ڈیمز کیوں نہیں بنائے جا سکتے۔
پچھلے دنوں پاکستان کے ایک اعلیٰ افسر کا بیان اخبارات کی زینت بنا تھا کہ پاکستان پانی کے مسئلے کو عالمی عدالت میں پیش کرے گا۔ اس وقت بھارت نے قلابازی کھائی اور اچانک مذاکرات شروع کرنے کی باتیں کرنے لگا۔ لیکن وفد میں سے ان افراد کو نکال دیا۔ جو پانی اور کشمیر پر بات کرنے آئے تھے۔ چناب میں فالتو پانی بھی چھوڑ دیا۔ جب پاکستان کی آواز کمزور ہوئی تو مذاکرات کو پھر سے دہشت گردی کے ایک نکتے پر محدود کر دیا اور مسدود کر دیا۔ اور چناب کو دوبارہ خشک کر دیا۔ باور ہو کہ ممبئی ڈرامے کے بعد بھارت نے پاکستان کے حوالے سے انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ بار بار یاد دلاتے رہتے ہیں کہ بانی پاکستان قائداعظم نے کشمیر کو بلاوجہ پاکستان کی شہ رگ نہیں کہا تھا۔ پاکستان کی اراضی کو سیراب کرنے کے لئے کشمیر کے پانیوں کی ضرورت ناگزیر ہے۔ مگر ہر قسم کی چیخ و پکار کے باوجود بھارت آبی دہشت گردی کو بڑھاوا دیتا چلا جا رہا ہے.... کیا وہ پاکستان کو بوند بوند کے لئے ترسانے کا تہیہ کر چکا ہے.... خدانخواستہ.... پاکستان کی کسی بھی قیادت نے قومی سطح کے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔
اسی لئے جن ارباب بست و کشاد کو ہمدرد شوریٰ میں بلایا گیا تھا۔ وہ بھی بس اپنی بے بسی پر آئیں بائیں شائیں کر کے رہ گئے....
اگر ایک پرانی حکومت یہ غلطی کر کے چلی گئی۔ تو کیا کوئی جمہوری حکومت اس غلطی کو درست کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی....؟
جبکہ زرداری حکومت ہر روز نعرہ مستانہ لگاتی ہے کہ عوام کی اکثریتی طاقت سے آئے ہیں.... 2018ءتک نہیں جائیں گے۔ دما دم مست قلندر کر دیں گے وغیرہ وغیرہ....
مگر کس برتے پر....؟
اگر اتنی بڑی سیاسی و جمہوری حکومت کوئی کارنامہ کر دکھانے کی اہل نہیں ہے۔ تو کم از کم بھارت کے ساتھ پانی کا تصفیہ ہی کر کے دکھائے.... تصفیہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ تو اس مسئلے کو عالمی عدالت میں اٹھا کر دکھائے....
فرینڈز آف پاکستان کے آگے دستِ سوال کرنے والی حکومت کم از کم فرینڈز آف پاکستان کے ضمیر ہی جگا کر دکھا دے....!