آنسو نکل رہے ہیں! رستے بدل بدل کے!

خالد احمد ـ 7 مارچ ، 2010
حلقہ 123 آج کل صرف ”ون ٹو تھری“ کے نام سے یاد کیا جا رہا ہے! اور اپنے نام کی طرح بہت سہولت کے ساتھ زیرِبحث لایا جا رہا ہے!
مانسہرہ اور راولپنڈی کے بعد لاہور ”میثاقِ جمہوریت“ کی کسوٹی پر پرکھا جانے والا ہے! متوالے تو جناب پرویز ملک کے لئے ہی ”ووٹ“ ڈالیں گے! مگر دیکھنا یہ ہے کہ ”جیالے“ کس طرف ”وزن“ بڑھائیں گے؟ حالانکہ نواز شریف کا نام آتے ان کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں گویا رات بھر کے جاگے ہوں!
لاہور دن رات جاگا کرتا تھا مگر لاہور کے شہری دن رات ایک ”سکون“ میں گزارتے! بازاروں کا شوروغل ان کے گھروں تک پہنچ پاتا تھا! مگر پے درپے دھماکوں نے پورے پاکستان کی طرح لاہور پر بھی اثرات مرتب کئے! لاہور ناکوں کا شہر بن گیا! پہلے یہ ”باغوں کا شہر“ ہوا کرتا تھا! باغوں میں ”مشاعرے“ ہوا کرتے اور ہر ”شاعر“ استاد ہوری آکھدے نیں کہہ کر آدھ آدھ گھنٹے تک ”استادِ گرامی“ کے اشعار سناتا اور داد سمیٹ سمیٹ کر ان کے درِ دولت پر پہنچاتا حتیٰ کہ حافظہ جواب دے جاتا اور پھر وہ کہتا ”عرض کیتا اے!“ اور پھر اپنا ”کلامِ بلاغت نظام“ سنانے کے کام سے لگ جاتا! مگر مجال ہے کہ کسی پیشانی پر شکن نمودار ہو پائے! لوگ گھروں سے شعر سننے اور سنانے کے لئے آتے اور جی بھر کے سنتے بھی اور جی بھر کے سناتے بھی! یہ لاہور کا مزاج تھا اور یہی لاہور کا مزاج ہے! دوسرے کی بات تحمل سے سننا لاہوریوں کی عادت ہے مگر ”جواب“ دینا بھی لاہوریوں کی فطرت کا حصہ ہے! بعض اوقات تو وہ بالکل جواب دے دیتے اور خاموشی اختیار کر لیتے!
ہمارے تمام ”فاتحین“ لاہوریوں کی خاموشی کے غلط اندازوں پر راج تا راج کرتے رہے مگر لاہور کے اٹھ کھڑے ہونے پر ”صاف جوابا“ ان کی سمجھ میں بھی آ جاتا اور وہ رستہ بدل جاتے!
”ون ٹو تھری“ لاہور کا دل ہے! یہاں امرتسر کے مہاجروں کے ساتھ ساتھ پورے جنوبی ایشیاءکے افراد مل جاتے ہیں! پاکستانی قومیتوں میں سے پٹھان اور بالائی پنجاب کے افراد کے علاوہ زیریں پنجاب اور اس سے ملحقہ بلوچ علاقوں کے افراد بھی لاہور کی آبادی کا معتدبہ حصہ ہیں! مگر ”نواز شریف“ ان تمام لوگوں کے لئے ”امید کا واحد ستارا“ ہیں!
جناب نواز شریف کے حلقے سے مسلم لیگ نون کے امیدوار کی فتح کا نقارہ تو ”خدائی آواز“ کی طرح گونج رہا ہے! ”کون جیتے گا؟“.... ”نواز شریف!“ سوال گندم اور جواب بھی گندم! گویا پاکستانی عوام کے لئے مسلم لیگ نون کا ہر امیدوار نواز شریف ہے مگر ”مانسہرہ“ میں کیا ہوا؟ راولپنڈی میں کیا ہوا؟ شاید نواز شریف کے مخالف یکجا اور یکجان ہو گئے! اور ضمانتوں کے ساتھ ساتھ شرط پر لگائی گئی ”حویلیاں“ بھی بچ گئیں!
ہم کسی طور بھی 10 مارچ 2010ءکی شام طلوع ہونے سے پہلے اپنی ذاتی رائے نہیں دے سکتے! یہ تو ”ون ٹو تھری“ کے تھڑوں، چائے خانوں اور انتخابی دفاتر کے نظارے ہیں کہ ہم نے قلم بند کر دئیے ہیں! ورنہ لوگ ایسی ایسی باتیں کر رہے ہیں کہ لگتا ہے :
آنسو نکل رہے ہیں! رستے بدل بدل کے
”پاکستان“ کے ”غم“ اور ”پاکستانی عوام“ کے ”دم“ کا ذکر کرتے کرتے کیا کچھ ”غم“ ہوتا چلا جا رہا ہے! آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پر آ سکتا نہیں! کہے بغیر کوئی اور چارہ نہیں رہ جاتا!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں