کشمیر! بزور شمشیر!!

ریاض الرحمن ساغر ـ 7 مارچ ، 2010
اے مری وادی کشمیر
یہ ترے پاوں کی زنجیر
کاٹ کر رکھ دیں گے ہم
بانٹ لیں گے ترا غم
ترے سینے پہ کبھی
خون کی ہے جو لکیر
دیکھ سکتی نہیں شمشیر
اے مری وادی کشمیر
تجھ پہ یہ ظلم و ستم
یہ ترے رنج و الم
اب رہیں گے نہ روا
اے مری جان وفا
اب نہ ہو تو دلگیر
اے مری وادی کشمیر
دیکھیں آزاد تجھے
ہر طرح شاد تجھے
تیرے سب پیرو جواں
تیرے سب پیر فقیر
اے مری وادی کشمیر
ہم نے کھائی ہے قسم
چین سے لیں گے نہ دم
اب اٹھائیں گے قدم
گر نہ بدلی تری تقدیر
اے مری وادی کشمیر
یہ ترے پاوں کی زنجیر
کاٹ کر رکھ دیں گے ہم
بانٹ لیں گے ترا غم
ترے سینے پہ کھچی
خون کی ہے جو لکیر
دیکھ سکتی نہیں شمشیر
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں