مردہ آمر اور زرداری کی مونچھیں
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 7 جولائی ، 2009
اس بار پانچ جولائی عجب انداز میں آیا ہے۔ حسب معمول اقتدار میں جنرل ضیاء کو پیپلز پارٹی والوں نے گالیاں دی ہیں۔ صدر زرداری نے کہا ہے کہ ’’اس آمر کو قبر سے نکال کر بعد از مرگ سزا دی جائے۔ آمر اگر مر بھی جائے تو اسے سزا دی جائے‘‘۔ آمر میں ’’مر‘‘ موجود ہے امر میں بھی ’’مر‘‘ موجود ہے۔ آمر کبھی امر نہیں ہو سکتا۔ مرنے کا حوصلہ جس میں ہو گا وہ مر کے بھی زندہ ہو گا۔ بی بی سی نے اس پانچ جولائی کو عجب بات کی ہے۔ بعض لوگوں نے آصف زرداری کو دیکھتے ہی کہا تھا اس کی مونچھوں کی جنرل ضیاء الحق کی مونچھوں سے کتنی مماثلت ہے‘‘۔ اس مماثلت سے لوگ کئی اور مطابقتوں میں کھو گئے۔ کہتے ہیں کہ اس …… میں جنرل ضیاء کا خفیہ ہاتھ تھا‘ جنرل ضیاء کی قبر سے فوجی ٹوپی نکلے گی۔ صدر زرداری صرف بیان بازی کر رہے ہیں۔ زیر مونچھ مسکراہٹ گم ہو گئی اور کئی مونچھوں کو تائو دیتے دیتے گھبرا گئے۔ جنرل مشرف کی مونچھیں بھی تھیں اور وہ بھی آصف زداری سے ملی جلتی تھیں۔ صدر بن کر جنرل ضیائ‘ جنرل مشرف نے اور آصف زرداری نے مونچھیں چھوٹی کروا لیں۔ عجب بات یہ بھی ہے کہ مردہ آمر کے لئے اتنی سختی اور نفرت زندہ آمر کے لئے اتنی نرمی اور محبت؟ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ آمر جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت توڑی تھی‘ وہ بھی جنرل ضیاء کی طرح نواز شریف کو سزائے موت دینا چاہتا تھا مگر وہ جلاوطنی میں کھو گئی۔ اس میں شاہ فہد اور صدر کلنٹن کی مہربانی شامل ہے۔ صدر پرویز مشرف صدر زرداری کے محسن ہیں۔ این آر او اس کی بڑی مثال ہے۔ اس نے ایوان صدر بھی صدر زرداری کے لئے خالی کیا۔ زرداری کا وطن آتے ہی صدر پاکستان بننے کا ارادہ تھا۔ ہر کسی کو صدر پاکستان ’’وہی‘‘ بنواتا ہے فضل الٰہی چودھری اور رفیق تارڑ کے علاوہ۔ کیونکہ بے اختیار صدر پاکستان امریکہ کے لئے کس کام کا ہے۔ بااختیار سویلین صدر اسحاق اور صدر لغاری سے امریکہ اور برطانیہ نے جمہوری حکومتیں تڑوائیں۔ یعنی وہی کام لیا جو باوردی صدر سے امریکہ لیتا ہے۔ نواز شریف بھی اس تلخ حقیقت سے واقف ہے مگر مجبوری کا نام شکریہ ہے۔ سیاستدان امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں۔
کس آمر صدر کو ایوان صدر سے رخصتی پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ کیا جنرل یحییٰ حکومت چھوڑنے کے بعد زندہ نہیں رہا؟ تب بھٹو صاحب حکمران تھے۔ جیسے آج زرداری صاحب حکمران ہیں۔ جنرل یحییٰ کو 21۔ توپوں کی سلامی کے بعد قومی جھنڈے میں لپیٹ کر دفن کیا گیا۔ آمر صدر ایوب بھی عیش کرتا رہا۔ تب جیالے اور صدر زرداری کہاں تھے جب جنرل ضیاء الحق کو دفن کیا جا رہا تھا۔ یہ ایک شاندار مظاہرہ تھا۔ بھٹو بڑا آدمی تھا۔ اب اس کی قبر زندہ ہے مگر اس کے جنازے میں چند لوگ تھے۔ بھٹو کی شہادت کی وجہ سے حکومت ملی مگر جیالے حکمرانوں نے کیا کیا۔ کیا بے نظیر بھٹو کو معلوم نہ تھا کہ بھٹو صاحب کو امریکہ نے مروایا ہے۔ پھر دو دفعہ اسے حکومت دلوائی اور دو دفعہ امریکہ نے ہی تڑوائی۔ نواز شریف کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ پھر دونوں نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے۔ اسے امریکہ اور برطانیہ کیوں قبول کریں؟ میرے دل میں بھٹو کی بیٹی ہونے کی وجہ سے اور شہادت کے بعد بے نظیر بھٹو کے لئے بڑی عزت ہے۔ میرا یقین ہے کہ بی بی کو امریکہ نے مروایا اور اس کے بقول جنرل پرویز مشرف بھی ذمہ دار ہے۔ لوگ تو ایک اور نام بھی لیتے ہیں…! اسی پرویز مشرف سے بی بی نے معاہدہ کیا۔ اسے جلد معلوم ہو گیا کہ امریکہ کی طرف سے یہ معاہدہ عوام کے حق میں نہیں۔ پھر اسے قتل کرا دیا گیا۔ وہ اپنے باپ کے عدالتی قتل کے بعد وزیراعظم بنی تھی اور اب آصف زرداری بے نظیر بھٹو کے کھلم کھلا قتل کے بعد صدر بنے ہیں۔ بے نظیر نے کبھی جنرل ضیاء کے خلاف کسی اقدام کا اظہار نہ کیا تھا۔ اب صدر زرداری اپنی بیوی کے قتل کو جس طرح ذلیل و خوار کر رہا ہے وہ دنیا جانتی ہے اور طرح طرح کی باتیں ہو رہی ہیں۔ صدر زرداری کہتا ہے کہ مجھے بی بی کے قاتلوں کا پتہ ہے۔ تم مجھ سے ان کا نام نہ پوچھو‘ بس میرا ساتھ دو۔ پی پی اور زرداری حکومت کے مزے لوٹتے ہوئے کہتے ہیں کہ جمہوریت سب سے بہتر انتقام ہے۔ یہ کہنا چاہئے کہ اقتدار بہترین انتقام ہے۔ مجھے بتایا جائے کہ پرویز مشرف کو برطانیہ میں سرکاری پروٹوکول اور سیکورٹی کس کی درخواست پر دی گئی ہے؟ کسی حکومت کی ایما کے بغیر دوسری حکومت یہ سہولت نہیں دیتی۔ شاہ عبداللہ نے پرویز مشرف کو شاہی پروٹوکول دیا۔ اس کے لئے نواز شریف بھی سوچیں کہ وہ جنرل مشرف کے خلاف بیانات تو دیتے رہتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق بے نظیر بھٹو کے قتل پر سیاست کرنے والے صدر زرداری قاتلوں کے خلاف کارروائی کے لئے تیار نہیں۔ یہ الفاظ بھی نجی ٹی وی کی رپورٹ میں ہیں کہ اقتدار اور حکمرانی کے لئے صدر زرداری اور پیپلز پارٹی نے شہید محترمہ کے خون کا سودا کر لیا ہے۔ بی بی سی نے کہا ہے جنرل ضیاء کا دور ’’بلیک اینڈ وائٹ ہارر فلم‘‘ تھا اور جنرل مشرف کا ’’رنگین شرطیہ نئی کاپی‘‘ تھا۔ اعجاز الحق کا بیان مخالفانہ ہو گا مگر قابل غور ہے۔ پانچ جولائی کو یوم سیاہ منانے والے 32 سال قبل یوم نجات منا رہے تھے۔ پیپلز پارٹی کے کئی لیڈر تب مرد مومن مرد حق کے نعرے لگا کر جنرل ضیاء الحق کے ساتھی تھے۔ صدر زرداری کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر مٹھائیاں بانٹی تھیں۔ ان کے والد جنرل ضیاء کے گورنر پنجاب تھے۔ ایسے کئی لوگ بڑے بڑے عہدوں پر ہیں۔ کئی کالم نگار صدر زرداری کے چہیتے ہیں جو بھٹو اور بی بی کے لئے گندگی لکھتے رہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں