سب سے بڑا دن....!

طیبہ ضیاء ـ 7 فروری ، 2012
سال کے 365 دنوں میں ہمارے لئے سب سے بڑا دن، 12 ربیع الاول کا روزِ مبارک و روزِ معتبر ہے۔ یہ سب دنوں کا سرتاج ہے۔ اس دن کی خاطر سارے دن تخلیق کئے گئے۔ یہی دن ہمارے لئے عید کا دن ہے۔ نوید کا دن ہے۔ شادمانی و خوش گمانی کا دن ہے۔ شکر گزاری اور سجدہ گزاری کا دن ہے۔ یہ دن سب دنوں کا سردار ہے۔ اس کے طلوع ہوتے ہی اس کے شایانِ شان اس کا استقبال لازم ہے۔ تمام عالم اسلام کے ہر گھر، ہر دیوار، ہر گلی کوچے میں چراغاں کرنے اور دھوم مچا دینے کا دن ہے۔ اس دن کی جب آمد ہو تو اے اہل ایمان ساری روشنیاں زمین پر بچھا دو۔ ساری شمعیں راستوں میں بچھا دو کہ اس مقدس دن نے زمین کو سرفراز کیا تھا۔ رفعتوں کا آغاز کیا تھا۔ ہماری ساری خوشیاں، سارے سلسلے اور سارے واسطے اس دن کے ساتھ منسوب ہونے چاہئیں۔ شب بھر اتنا چراغاں ہو کہ آسمان کے تارے رشک کریں۔ چاند جھک جھک کے زمین کو دیکھے۔ ہر جشن اس جشن کے آگے ہیچ ہے۔ ہر خوشی اس خوشی کی کنیز ہے اور امت مسلمہ خوش نصیب ہے۔ وہ اس دن کو منانے کے لائق سمجھی گئی۔ میں ساری مسجدوں اور ساری عمارتوں کو دیکھتی چلی آ رہی ہوں۔ جن پر دلکش روشنیاں جگمگا رہی ہیں۔ ان روشنیوں کو فزوں تر ہونا چاہئے۔ یہی محبت کا ایک انداز ہوتا ہے۔ مساجد سے ایک ہی آواز اٹھنی چاہئے۔ دلوں سے ایک ہی زمزمہ بلند ہونا چاہئے ”الحب اساسی“ (محبت میری بنیاد ہے) ہادی اکرم، محبوب رب ذوالجلالﷺ نے فرما دیا کہ محبت میری بنیاد ہے۔ تو پھر اے لوگو! تم اس دن کو محبت کے دن کے طور پر منایا کرو۔ ایک دوسرے کو محبت کے پیغام بھیجا کرو۔ تعصب چھوڑ دیا کرو۔ مسجد کو مسجد سے نہ لڑایا کرو۔ عقیدے کو عقیدے سے نہ ٹکرایا کرو۔ مسلک کو مسلک کے مقابل نہ لایا کرو۔ محبت کیا کرو۔ اللہ اور اس کے حبیب کے صدقے میں محبت تقسیم کیا کرو۔ بلند آواز سے درود شریف کا ورد کیا کرو اور چلا چلا کر اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگا کرو کہ یہی سب سے بڑا دن ہے۔ یہ تمہاری محبتوں کا گواہ بن جائے گا۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس کے دل میں محبت نہیں ہے اس کا ایمان مکمل نہیں ہے۔ محبت پیدا کرنے کے لئے سب سے اکسیر نسخہ درود شریف ہے۔ درود شریف کی اس سے بڑھ کر اور کیا تعریف بیان ہو گی کہ خود باری تعالیٰ سورہ احزاب (پارہ 22) میں فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی اکرمﷺ پر درود بھیجتے ہیں تو جمیع مسلمانوں کا یہ فرض حیات ہونا چاہئے کہ اللہ کے حبیب پر دن رات درود و سلام بھیجیں۔ مگر اس ایک دن کا استقبال اپنے قلب و نگاہ کو صفوں پر بچھا کر اس درجہ والہانہ عقیدت سے کریں کہ سارے آنے والے دن اس دن کا انتظار کیا کریں۔ اور یہی وہ دن ہے جب جمیع مسلمان و مسلمات اپنے کردار و اعمال کا بھرپور جائزہ لیں اور اپنے نفس کے ساتھ کچھ وعدے کریں اور اپنے نفس و زبان کو پاک رکھنے کے لئے کچھ ارادے کریں۔ مجالس ابرار میں رقم ہے کہ انسان کے ساتھ پانچ فرشتے ہوتے ہیں۔ ایک سیدھی جانب جو نیکیاں لکھتا ہے، دوسرا بائیں جانب جو برائیاں لکھتا ہے، تیسرا آگے جو نیکیوں کی تلقین کرتا ہے، چوتھا پیچھے رہتا ہے جو بلاﺅں کو دور کرتا ہے اور پانچواں پیشانی پر جو درود شریف لکھتا ہے اور حضور اکرم ﷺ کو پہنچاتا ہے۔ رہنے والی چیزیں دنیا میں ہمیشہ رہتی ہیں۔ یہ کوئی حادثاتی ازم نہیں ہیں جن پر ہر دور میں تجربات کئے جاتے ہیں پھر رد کئے جاتے ہیں۔ ہمارے ہادی نبی اول و آخر کی زبانِ مبارک سے نکلا ہوا ہر لفظ مستند، معتبر اور رہبر دین و دنیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا:۔
-1ایمان کے بہت سے شعبے ہیں۔ اس کی جڑ یہ ہے کہ تم اللہ کے سوا کسی کو معبود نہ مانو اس کی آخری شاخ یہ ہے کہ راستے میں اگر کوئی چیز ایسی دیکھو جو بندگان خدا کو تکلیف دینے والی ہو تو اسے ہٹا دو
-2 جسم اور لباس کی پاکیزگی آدھا ایمان ہے۔
-3 اس شخص میں ایمان نہیں جس میں امانت داری نہیں اور وہ شخص بے دین ہے جو عہد کا پابند نہیں
-4 جب نیکی کرکے تجھے خوشی ہو اور برائی کرکے تجھے پچھتاوا ہو تو تو مومن ہے۔
-5 تم میں سے سب سے کامل انقلاب اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں اور جو اپنے گھر والوں کے ساتھ حسن سلوک میں سب سے بڑھا ہوا ہے۔
-6 خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے۔ خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے۔ خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے جس کی بدی سے اس کا ہمسایہ امن میں نہ ہو۔
-7 جو شخص کسی ظالم کو ظالم جانتے ہوئے اس کا ساتھ دے وہ اسلام سے نکل گیا۔
-8 جس نے لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھی، اس نے شرک کیا۔ جس نے لوگوں کو دکھانے کے لئے روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے لوگوں کو دکھانے کے لئے خیرات کی اس نے بھی شرک کیا۔
-9 جھوٹی گواہی اتنا بڑا گنا ہے کہ شرک کے قریب پہنچ جاتا ہے۔
-10 جانتے ہو خدا کے سایہ میں قیامت کے روز سب سے پہلے جگہ پانے والے لوگ کون ہوں گے۔ وہ جن کا حال یہ رہا ہے کہ جب بھی حق ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے مان لیا اور جب بھی حق ان سے مانگا گیا تو انہوں نے کھلے دل سے دیا اور دوسروں کے معاملے میں انہوں نے وہ فیصلہ کیا جو وہ اپنے معاملے میں چاہتے تھے۔
-11 اصل مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز خدا کے حضور اس حال میں حاضر ہو کہ اس کے ساتھ نماز، روزہ، زکوٰة سب کچھ ہی تھا مگر وہ کسی کو گالی دے کر آیا تھا۔ کسی پر بہتان لگا کر آیا تھا کسی کا ناجائز مال کھا کر آیا تھا۔ کسی کا خون بہایا تھا۔ کسی کو ناجائز مارا پیٹا تھا اس کو اللہ تعالیٰ کے حضور جب پیش کیا جائے گا اس کی نیکیاں ان مظلوموں میں بانٹ دی جائیں گی۔ اس سے بھی حساب چکتا نہ ہو گا تو ان مظلوموں کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں ڈال دئیے جائیں گے۔
-12 جس نے چالیس دن غلہ اس نیت سے روکے رکھا کہ قیمتیں چڑھ جائیں تو بیچے گا چالیس دن اس خیال سے روکنے کے بعد پھر اگر وہ تمام غلہ خیرات بھی کر دے گا تو معاف نہیں کیا جائے گا اور آج یہ روشن روشن، مسکراتا بولتا، پھول نچھاور کرتا 12ربیع الاول کا دن پوچھتا ہے .... ع
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں