حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ میں عالمی سروے نتائج پر سیمینار
محمد مصدق ـ 7 فروری ، 2010
تین چار کروڑ فیس نہیں ٹھیکہ ہے: رانا ثناءاللہ
ہفتے کے روز حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ میں ”پاکستان بارے عالمی سروے نتائج اور میڈیا“ کے موضوع پر ایک فکر انگیز سیمینار منعقد ہوا۔ جس کی صدارت ایس ایم ظفر نے کی مہمانان خصوصی پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ خاں اور چیئرمین گیلپ پاکستان ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی تھے۔ مقررین میں سلمان غی‘ مبشر لقمان اور اشرف شریف تھے سلمان غنی نے بہت تفصیل سے بات کی اور بتایا پاکستان کے بارے میں عالمی سروے ایک مخصوص طبقے کو عوامی رائے یا خیالات سے آگاہ کرتے ہیں اپنے خیالات اور حکمت عملی کو عوامی رائے عامہ کے ساتھ جوڑتے ہیں کیونکہ بیرونی ممالک اور اداروں کے اپنے مخصوص سیاسی مقاصد ہوتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس طرح سے اپنی سوچ اور خیالات دنیا پر مسلط کریں نیز حکومت کو مجبور کریں کہ وہ ان سروے رپورٹوں کی بنیاد پر اپنی پالیسیوں میں ایسی تبدیلی لائیں جو ان کے مفادات کی نگہانی کرنے کے ساتھ انہیں تقویت بھی دیتے ہوں۔ پاکستان کے خلاف بالخصوص ایسے سروے کئے جاتے ہیں جس میں ریاستی عناصر کے مقابلہ پر غیر ریاستی عناصر کو مضبوط ثابت کیا جاتا ہے اور دنیا بھر میں پھیلا دیا جاتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دہشت گردوں کی مضبوط پناہ گاہیں ہیں۔
سروے نتائج کی حقانیت جاننے کیلئے سروے کے پس پردہ ایجنڈے سے آگاہی ضروری ہے پاکستانی میڈیا کا سب کے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بین الاقوامی اداروں اور ان کے سروے کے نتائج پر اندھا دھند اعتماد کر لیا جاتا ہے۔ ملکی اداروں کے مقابلے پر غیر ملکی اداروں کو زیادہ معتبر تصور کیا جاتا ہے اس لئے پاکستانی میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ سروے کے نتائج کو چیلنج کرے اور سوالات اٹھائے۔ ملک میں حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر پر دباﺅ ڈالے کہ وہ نہ صرف بین الاقوامی اداروں کے سروے کو چیلنج کریں بلکہ اس کا جواب بھی دیں۔ مبشر لقمان نے اپنے مخصوص انداز میں سروے رپورٹس کو فراڈ قرار دے دیا اور کہا کہ یہ سب کچھ پلاننگ کے تحت کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد حقائق کے بجائے مخصوص مفادات کی آبیاری ہے اشرف شریف نے بتایا کہ جو نشریاتی ادارے ان سروے رپورٹوں کو ٹیلی کاسٹ کرتے ہیں ان کے اشتہارات کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
رانا ثناءاللہ نے کہا ہمیں اپنے اپنے اداروں کا خود احتساب کرنا چاہئے اور آنکھیں بند کرکے ہر بات کو تسلیم نہیں کر لینا چاہئے کیا تین چار کروڑ روپے فیس ہوتی ہے یہ تو ٹھیکہ ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر اعجاز گیلانی نے طویل لیکچر میں تفصیل سے سروے کی پتھاڈولوجی بیان کی اور کہا کہ دنیا بھر میں سروے کئے جاتے ہیں اور ان کے نتائج ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ مبشر لقمان کا اعتراض بدنیتی اور بددیانتی کی وجہ سے ہے پہلے آبادی میں سے ایک ہزار کا سروے کیا جاتا تھا اور اب پچیس سو افراد کا اخبارات کو سوچے سمجھے بغیر سروے کے نتائج شائع نہیں کرنے چاہئیں اصولاً سروے رپورٹ اشتہار کی شکل میں شائع ہونی چاہئے یا پھر رپورٹر یا تجزیہ نگار اپنی رائے کا اظہار بھی کرے۔
ایس ایم ظفر نے کہا ”میں ایک طالب علم کے طور پر سب کو کچھ سنتا رہا اسی لئے جب ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی تقریر کرنے آئے تو میں نے بلند آواز کہا ”ملزم ایک کیا حاضر ہو.... سازش کی تھیوری ناکام ہو چکی ہے۔ ہمیں حقائق کا سامنا کرتے ہوئے حقائق کو سامنے لانا چاہئے ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے سروے کا تنقیدی جائزہ بھی لینا چاہئے۔ ابصار عبدالعلی نے کمپئرنگ کے فرائض انجام دیئے۔
................
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں