اغواء۔۔۔چھترول اور بڑے ڈاکو ۔۔۔!

طیبہ ضیاء ـ 6 مارچ ، 2010
جہلم میں ایک پاکستانی نژاد برطانوی خاندان کا پانچ سالہ بچہ اغوا کر کے ڈیڑھ کروڑ مالیت کا سامان لوٹ لیا گیا۔۔۔پولیس کا ملزمان کوسرِعام چھترول ۔۔۔عمران خان ٹھیک کہتے ہیں کہ جیلوں میں چھوٹے چور بند ہیں اور بڑے چور دندناتے پھرتے ہیں ۔۔۔میاں شہباز شریف درست کہتے ہیں کہ بدنامی کا باعث” شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں“۔چیف جسٹس بجافرماتے ہیں کہ عدلیہ کا مسئلہ نیچے والے طبقے کی کرپشن ہے۔ ۔۔امریکہ میں مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ ، مسافروں کی سکریننگ اور سکین، قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک۔۔۔پاکستان میں امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ غم وغصہ کا اظہار کیا جاتا ہے ۔مظاہرے اور احتجاج ہوتے ہیں۔ میڈیا شور مچاتا ہے لیکن خود پاکستان کس ڈگر پر چل نکلاہے۔۔۔؟ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسوں کو اس کے پاکستان سے اغوا کر کے امریکہ کے ہاتھوں بیچ دیا جاتاہے اورپھر انصاف اور واپسی کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے۔۔۔؟ برطانیہ اور امریکہ سے مخالفت کی بجائے پاکستان کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور حکومت کی منافقت کاماتم ہونا چاہئے ۔۔۔عمران خان نے سچ کہا ہے کہ چھوٹے چوروں کے لئے چھترول اور بڑے ڈاکوﺅں کے لئے محل۔۔۔؟بڑے ڈاکوﺅں کی حفاظت کے لئے سیاہ اور خاکی وردی والے چوبیس گھنٹے بندوقیں تانے کھڑے رہتے ہیں۔جھنڈے والی گاڑی کے آگے پیچھے گاڑیاں دوڑاتے پھرتے ہیں۔ ملک کی زیادہ پولیس ان بڑے ڈاکوﺅں کی سکیورٹی پر فائز ہے۔ان لوگوںکے پاکستانی پاسپورٹ ہولڈربلاول بھی برطانوی سکیورٹی میں موجیں مارتے ہیں جبکہ ایک برطانوی پاسپورٹ ہولڈر بچہ پاکستان میں محفوظ نہیں ۔۔۔؟ والدین بچوں کو پاکستان بھیج کر ان کی سلامتی کی دعائیں کرتے ہیں۔اغوا برائے تاوان کے خوف سے انہیں گھر سے باہر جانے نہیں دیتے۔میرا بیٹا بھی چھٹیوں میںجب پاکستان گیا توخدا گواہ ہے اس کی حفاظت کے لئے میں نے دوران عمرہ بیت اللہ شریف اور روضہ اطہر میں دعائیں مانگیں ۔پاکستان میں اغوا برائے تاوان کا خوف تھا جبکہ امریکہ میں امیگریشن کا مرحلہ پریشان کن تھا۔لا پتہ افراد اور اغوا کے سنگین جرائم پرویز مشرف اور زرداری حکومت کا تحفہ ہیں۔ انگریزوں نے آکسفورڈ کرسٹ چرچ کالج میں زیر تعلیم بلاول کو برطانوی شہزادوں جیسی ٹاپ لیول سکیورٹی مہیا کر رکھی ہے۔بلاول کی سکیورٹی پر ایک ملین پاﺅنڈ سالانہ خرچ آتا ہے اور حفاظت کے لئے دو گاڑیوں پر برطانوی 12مسلح سکیورٹی گارڈز اسکے ساتھ چوبیس گھنٹے رہتے ہیں۔ بلاول کی وطن واپسی پر جس قدر خوشی اسکی پارٹی کو ہو گی اس سے کئی گناہ زیادہ خوشی برطانوی حکومت کوہو گی ۔ صاحبزادے بلاول کی سکیورٹی کے اخراجات محنت کش ، سیلف میڈ برطانوی عوام بشمول وہاں مقیم پاکستانیوں کے ٹیکسوں سے ادا ہوتے ہیں۔ جہلم سے اغوا ہونے والے پاکستانی نژاد برطانوی بچے کے والدین کی کمائی میں سے ہوتے ہیں۔ مظلوم لوگ وزیر اعلیٰ یا وزیر داخلہ کے نام نہیں حاکم وقت کے نام یاد رکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر عافیہ کے اغوا جیسے گھناﺅنے ظلم میں گو کہ سابق وزیر داخلہ فیصل صالح حیات ملوث تھا مگر حاکم وقت جنرل پرویز مشرف کا نام بولا اور لکھا جاتا تھا۔زرداری حکومت میں چھوٹے چوروں کو سرِ عام چھترو ل مارے جاتے ہیں جبکہ بڑے ڈاکو محلات کے مزے لوٹتے ہیں۔ پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ ہیڈ آف سٹیٹ کو عدالتی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔کیایہ آئین قائد اعظم ؒ کی مملکت اسلامیہ کاہے ۔۔۔؟پاکستان کے گورنر جنرل یعنی سربراہِ مملکت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ 1948 میں کوئٹہ میں مقیم تھے۔انہی دنوں ایک شہری نے بلوچستان کے جوڈیشل کمشنر اے آر خان کو درخواست دی کہ اسکا مقدمہ دوسری عدالت میں منتقل کر دیا جائے ۔اس سے قبل کہ اے آر خان کوئی فیصلہ کرتے انہیں اے جی جی کا سفارشی فون آ یا کہ مقدمہ دوسری عدالت میں منتقل نہ کیا جائے۔جوڈیشل کمشنر نے اے جی جی کو عدالتی امور میں مداخلت کے الزام کا نوٹس بھجوا دیا اور اس کی ایک نقل گورنر جنرل کو بھی بھجوا دی گئی ۔اے جی جی کے پاس آئی جی پولیس کے اختیارات بھی تھے وہ عدالت میں پیش نہ ہوا جس پراے آر خان نے گرفتاری کا سمن بھیج دیااور اس کی نقل بھی گورنر جنرل کو بھیجوا دی ۔ معاملہ کی سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے اے جی جی گورنر جنرل کی خدمت میں پیش ہوا اور جوڈیشل کمشنر کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔قائد اعظم ؒ نے فرمایا ”سارا معاملہ میرے علم میں ہے۔آپ عدالت میں پیش ہو جاتے اور معافی نامہ داخل کرا دیتے توعدالت معاف کر دیتی ۔اب نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہیں“۔یہ سن کراے جی جی نے عدالت میں پیش ہو کر معافی نامہ داخل کرا دیا۔عدالت سے معافی ملنے پر گورنر جنرل کے پاس جا کر انہیں یہ خبر سنائی۔یہ سن کر قائد اعظمؒ نے فرمایا” گو کہ میں گورنر جنرل ہوں۔بلوچستان انتظامیہ کا سربراہ اعلیٰ ہوں اس کے باوجود چھوٹی عدالت کا بھی احترام کرتا ہوں۔عدالتوں کی پاسداری سے مملکت کا نظام قائم رہ سکتاہے“۔ یہ تھی پاکستان کے پہلے سربراہ کی سوچ اور نظریہ ۔1956 میں گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر کے صدر کا عہدہ متعارف کرایا گیا۔1973 کے آئین کی رو سے صدر مملکت کو عدالتی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے اور موصوف آئین کی اس غیر اسلامی شق کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں۔امریکہ کے آئین میں عوام کو مقتدر اعلیٰ قرار دیا گیا ہے۔امریکہ کے آئین کے مطابق صدر سے لے کر حکومت کا ہر رکن عوام کے ماتحت ہے۔امریکی آئین بنانے والوں نے استثنیٰ پر مباحثے کئے اور یہ طے پایا تھاکہ کوئی شخص قانون سے بالا تر نہیں خواہ وہ ہیڈ آف سٹیٹ ہی کیوں نہ ہو مگر بعد میں آنے والوں نے ”نظریہ ضرورت “ کے تحت آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے استثنیٰ کا فارمولہ ایجاد کر لیا اور آج امریکی صدر کو بھی” ایک حد تک“ استثنیٰ حاصل ہے البتہ مستعفی ہو نے کی” شرم‘ اور غیرت“ ان میں آج بھی موجود ہے۔صدر پاکستان کے معیار کے جرائم اور کرپشن کی لسٹ اگر امریکی صدر پر ثابت ہو جائے تو وہ عہدہ سے مستعفی ہونے میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں کرے گا ۔ امریکہ میں آج بھی عوام مقتدر اعلیٰ ہیں۔ قانونی یا اخلاقی جرم میں ملوث ہیڈ آف سٹیٹ کو کانگریس بر طرف کر نے کا اختیار رکھتی ہے نیز اس پر عدالت میں مقدمہ بھی چلایا جا سکتاہے۔سابق صدور رچرڈ نکسن اور بل کلنٹن کی مثالیں موجود ہیں ۔۔۔امریکہ میںسر عام چھترول اور اغوا برائے تاوان کا رواج ابھی قائم نہیں ہوا اور نہ ہی ”بڑے ڈاکو“ آزادانہ گھوم سکتے ہیں!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں