LCWUL کے ڈیزائن اور وژیل آرٹس ڈیپارٹمنٹ کی نمائش

محمد مصدق ـ 6 مارچ ، 2010
اقبال نے کہا تھا
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے شعبہ ڈیزائن اور وژیل آرٹس کے بی ایف اے کے تھیسس کی ٹولنٹن مارکیٹ میں نمائش دیکھ کر یہ مصرعہ سچ لگا کیونکہ 2004ءمیں اپنے سفر کا آغاز کرنے والا شعبہ اتنا اچھا کام پیش کرے گا اس کی امید کم ہوتی ہے لیکن پاکستان کو یوتھ تخلیقی صلاحیتوں کی مالک ہے اور ذہانت کے میدان میں پاکستانیوں نے ہر جگہ اپنی ذہانت کو منوایا ہے۔
صوبائی وزیر شجاع مجتبٰی نے نمائش کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر میاں مصباح اور لاہور کالج یونیورسٹی کی و ائس چانسلر بشریٰ متین بھی موجود تھیں۔ ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ زمرد صفدر نے بتایا کہ طالبات کو خود محنت کرنے کی عادت ڈال دی ہے اس لئے وہ صرف آئیڈیاز اپنے اساتذہ سے ڈسکس کرتی ہیں باقی ساری محنت ان کی اپنی ہے نمائش کے دو حصے ہیں ایک میں بی ایف اے کی طالبات کا تھیسس رکھا گیا ہے اور دوسری طرف ٹولنٹن مارکیٹ کی تین گیلریوں میں باقی طالبات کا نیا اور پرانا کام موجود ہے اور دلچسپ بات ہے کہ کام کی اتنی پذیرائی ہوئی ہے کہ بہت سے فن پارے فروخت بھی ہوئے ہیں۔ زارا نعیم‘ منیبہ سعید‘ سیدہ ندا آصف‘ نادیہ یاسین اور رابعہ اشرف نے بتایا کہ تمام تصاویر کو ہم نے خود ڈسپلے کیا ہے۔ پہلے دن تو کام بہت مشکل لگا لیکن پھر طالبات اور اساتذہ نے یک جان ہو کر کام کیا جس کے نتیجہ میں اتنی خوبصورت نمائش وجود میں آئی ہے۔ بہت سی طالبات نے چند ماہ پہلے منی تھیسس کیا تھا جس کی نمائش کالج میں ہی ہوئی تھی۔ وہاں جن خامیوں کی نشاندھی کی گئی تھی وہ اس نمائش میں موجود نہیں تھیں۔ سدرہ نے جعلی ڈاکٹروں کی فنکاری‘ علاج نہیں بیماری کے موضوع کو منتخب کیا اور بہت اچھے طریقے سے بتایا کہ جعلی ڈاکٹر کس طرح انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں۔ ڈسپنسر ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں ڈاکٹر بن جاتا ہے جسے میں نے غیر انسانی چہرہ دے کر نمایاں کیا ہے اور آخر میں پیغام دیا ہے کہ گورنمنٹ ہسپتال میں مفت علاج کی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ عرش نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی کاوشوں کو نمایاں کیا ہے کہ وہ کس طرح دن رات پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھانے کے لئے کوشاں ہے TDAP کے نئے ڈائریکٹر جنرل پنجاب وحید رضا بھٹی کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ آکر اپنے ادارے کی کارکردگی ایک طالبہ کی نظر سے دیکھیں۔ ویسے پاکستانی پھلوں کی فوٹو گرافی اتنی خوبصورت ہے جیسے کسی مغربی فوٹو گرافر نے کی ہو جبکہ اس تھیسس نمائش کا کمال یہی ہے کہ سب کچھ طالبات نے خود کیا ہے۔ فرحین فاطمہ نے متبادل توانائی کے شعبہ کی نشاندھی کرتے ہوئے دکھایا ہے کہ اگر واپڈا بجلی نہیں دیتا تو نہ سہی اس کے متبادل شعبوں سے بھی بجلی حاصل کی ج اتی ہے۔ اس ضمن میں اس نے ریس کورس پارک سمیت بہت سے مقامات کے فن پارے تخلیق کئے جہاں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ سندس نواز نے عورتوں کے عالمی دن (8 مارچ) کے حوالے سے عورتوں پر تشدد کے خلاف بہت مثبت پیغام دیا ہے۔ فرح ظفر نے پرامن پاکستان کے موضوع پر بہت خوبصورت کام پیش کیا اور دنیا بھر کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان خوبصورت مقامات اور افراد کی سرزمین ہے اور اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مریم حسین پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں اس نے نمائش پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ تمام موضوع بہت احتیاط سے منتخب کئے گئے ہیں اور ہر کسی نے ایک سے بڑھ کر ایک کام کیا ہے“۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں