ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 5 فروری ، 2010
ڈاکٹر عافیہ کے لئے اسی فیصلے کی امید تھی مگر اصل فیصلے کا انتظار ہے۔ جس کی طرف عافیہ کی بلند حوصلہ ماں نے اشارہ کیا ہے کہ امریکہ کا زوال شروع ہوگیا ہے۔ میں اس عظیم ماں سے شرمندہ ہوں کہ زندہ ہوں۔ مجھ پر بھی جو گزری ہے وہ کسی ماں سے کہہ بھی نہیں سکتا۔ع
اینے پھٹ میرے جثے تے جینے تیرے وال نی مائے
(جتنے تیرے جسم پہ بال ہیں اتنے ہی زخم میری روح و بدن پر ہیں)
ایمان کی طاقت سے لبریز ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہاکہ اللہ کا اس فیصلے سے دنیا کو دکھانا مقصود تھا کہ امریکہ ظالم ہے۔ سب سے بڑا دہشت گرد وہ خود ہے۔ بے انصاف اور ظالم ہے۔ مولا علیؓ نے فرمایا کہ کوئی حکومت کفر کے ساتھ تو چل سکتی ہے ظلم کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ اب امریکی حکومت کا چل چلاو ہونے والا ہے۔ امریکہ کا نظام عدل ناقص اور متعصبانہ ہے۔ امریکہ میں امریکیوں کے لئے معیار اور قانون کچھ اور ہے دوسرے انسانوں کے لئے کچھ اور ہے۔ مسلمانوں کے لئے کچھ اور ہے افغانیوں کے لئے کچھ اور ہے پاکستانیوں کےلئے کچھ اور ہے۔ نائن الیون میں جن لوگوں کے نام آئے ان میں کوئی پاکستانی نہ تھا۔ پھر اب کیوں شامت صرف پاکستانیوں کی آئی ہوئی ہے۔ القاعدہ بھی امریکیوں کی خود ساختہ اصطلاح ہے یہ تو امریکہ ہی میں کوئی دہشت گرد گروپ ہے اور امریکی حکمران جانتے ہیں۔ عالم اسلام اور عالم انسانیت کو ذلت اور اذیت سے دوچار کرنے کے لئے اور اپنی دھاک بٹھانے کے لئے فراڈ کیا گیا ہے۔ اب امریکہ کا قومی نشان مجسمہ آزادی نہیں گوانتاناموبے جیل ہے۔
ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ اور ماں نے کہا کہ ہم ذہنی طور پر تیار تھے۔یہ فیصلہ نہ آتا تو لوگ امریکہ کے دھوکے میں آ جاتے کہ وہاں انصاف بھی ہوتا ہے اور پھر ہر آدمی کے نصیب میں دارو درسن تو نہیں ہوتے۔ قربانی کی کہانی میں خوش قسمت لوگوں کے نام ہوتے ہیں۔ میدان جنگ میں بھی شہادت کا درجہ کسی کسی کو ملتا ہے۔ جنرل کیانی کہتے ہیں کہ ہماری قربانیاں امریکہ اور نیٹو سے زیادہ ہیں پھر کہا ہے کہ ہم جہاد امریکہ کے لئے کر رہے ہیں پھر ہمارا کوئی فوجی جوان شہید ہو کے گھر لایا جاتا ہے تو مائیں بڑے فخر سے روتی ہیں۔ ان کے بین یہ ہوتے ہیں کہ مادر وطن کے لئے قربان ہونے والے بیٹے پر فخر ہے۔ اپنے جوانوں کے ساتھ ساتھ رہنے والے جنرل کیانی سے سوال ہے کہ کیا ہماری قربانیوں کا یہی جواب ہے جو ڈاکٹر عافیہ کے لئے ہمیں دیا گیا ہے۔ ہمارے حکام تو امریکہ کے غلام ہیں۔ آپ ہی کچھ کہو۔ عافیہ کے گھر والوں سے افسوس ہی کرو۔ اب تو ہمارے لئے کہیں بھی گوشہ عافیت نہیں ہے۔ ایک بہادر عورت ڈاکٹر عافیہ کی قربانیوں کا خیال آتے ہی ہم شرم سے پانی پانی ہو جاتے ہیں۔ ہم صرف بے بسی سے رونے والوں میں سے ہیں۔ خون بہانے والے سپاہیوں کے سالار کے لئے بڑی عزت ہے مگر ہماری عزت اب محفوظ نہیں ہے۔ امریکہ کے غم و غصے سے بچنے والوں اور خود کو بچانے والوں کی غیرت کہاں گئی۔ میں اپنے آپ کو غیرت مند سمجھتا ہوں مگر ندیم صاحب کا شعر یاد آیا ہے
حیراں ہوں کہ دار سے کیسے بچا ندیم
وہ شخص تو غریب و غیور انتہا کا تھا
پنجاب یونیورسٹی کی سینئر پروفیسر ڈاکٹر عفیرہ حامد کی بھابھی مسز امتیاز نے زارو قطار روتے ہوئے کہا کہ اجمل صاحب آپ میری طرف سے صدر جنرل پرویز مشرف کو مبارکباد پہنچا دیں کہ اپنے وطن کی جس بیٹی کو اس نے ظالموں کے ہاتھ بیچ دیا تھا اس پر پہلے امریکیوں نے تشدد کی انتہا کی اور پھر اسے مجرم ٹھہرایا۔ میں بھی رونے لگا کتنی ہی بیٹیاں بہنیں ہیں جن کے فون آتے رہے اور ہم روتے رہے۔ ڈاکٹر عافیہ مجرم ہے تو پھر محرم کون ہے۔ ہمارے درمیان کوئی محرم راز نہیں رہا تو ہم کمزور اور بے غیرت لوگوں کی طرح ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ مسز امتیاز نے مبارکباد دینے کے لئے صدر زرداری، مخدوم گیلانی، جنرل کیانی، نوازشریف، شہباز شریف، رحمان ملک، شاہ محمود قریشی کو بھی یاد کیا۔ ان میں سے کسی کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ایک مظلوم لڑکی شازیہ کے لئے شریف برادران دونوں اس کی ماں کے پاس گئے۔ انہوں نے کبھی عافیہ کی ماں کو دلاسہ نہیں دیا۔ انسانی حقوق والی این جی اوز کی عورتیں کہاں گئیں جو امریکہ کے لئے احتجاج کرتی ہیں۔ امریکہ کے خلاف بھی احتجاج کریں۔کوئی حکمران اور سیاستدان جرنیل جج اور دانشور نہیں جس نے سنجیدگی سے کوئی کوشش کی ہے۔ عافیہ کی ماں کہتی ہے کہ امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا تھا کہ میں عنقریب ڈاکٹر عافیہ کو لے کر پاکستان آ رہا ہوں۔ میرے لئے ڈنر تیار رکھو۔ اب تو خود حقانی صاحب کے لئے بھی پاکستان آنا دشوار ہوگیا ہے اور اس میں کوئی ذاتی مفاد اور عناد پوشیدہ ہے۔ امریکہ دوستی میں حسین حقانی بہت آگے ہے۔ امریکہ دوستی میں پاکستانی دشمنی کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ ہوتی ضرور ہے۔ ہمارے دوست رحمان ملک نے اس ضمن میں کہا تھا کہ قوم بہت جلد خوشخبری سنے گی تو خوشخبری یہی تھی؟ جس نے پاکستان میں سب کو رلا رلا دیا ہے۔ یہ پیغام ہے کہ امریکہ مسلمانوں اور پاکستانیوں کا دشمن ہے۔ عافیہ کی ماں نے کہا کہ آج تاریخی دن ہے۔ میں شاید عافیہ کی رہائی سے اتنی خوش نہ ہوتی۔ جتنی اس فیصلے سے خوش ہوں۔ یہ کیا خوشی ہے۔ شاید یہ سر خوشی ہے کہ اس کے بعد امریکہ کے لئے رسوائیاں اور پسپائیاں عام ہو جائیں گی۔ عافیہ نے امریکہ کا سیاہ چہرہ دنیا کو دکھا کے اس کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
ڈاکٹر عافیہ نے کہاکہ جیوری کچھ اور فیصلہ کرنے والی تھی عین وقت پر تاخیر ہوئی اور اسرائیل نے یہ فیصلہ کرا دیا ہے۔ عافیہ کی خدمت میں عرض ہے کہ اب امریکہ میں یہودی لابی اور ہندو لابی کی مشترکہ کوششوں سے فیصلے ہوتے ہیں۔ اسرائیل اور بھارت دونوں مل کر امریکہ کو بدنام کریں گے۔ نائن الیون اسرائیل نے کرایا ہے بعد میں بھارت بھی اس سازش میں داخل ہوگیا ہے۔ نو گیارہ کے بعد۔ نو دو گیارہ کا وقت آ گیا ہے۔ بوڑھی غمزدہ نڈھال ماں کہتی ہے کہ آج میری ساری بیماریاں دور ہوگئی ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ پر یہ مقدمہ امریکہ کبھی نہ چلاتا اپنی خفت مٹانے کے لئے یہ ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔ بگرام جیل میں اس پر تشدد کی حد کردی گئی۔ وہ تو بگرام جیل میں ایک برطانوی صحافی خاتون کے اس بیان کے بعد کہ مجھے وہاں ایک خاتون کی دلدوز چیخیں بے قرار کر گئیں۔ میڈیا نے زور ڈالا تو معلوم ہوا کہ وہ خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے تو پھر امریکہ کے لئے کوئی چارہ کار نہ تھا مگر امریکیوں پر کون مقدمہ چلائے گا کہ عافیہ کے ساتھ اغواءہونے والے دو بچوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ جنرل مشرف کے ساتھ صدر بش پر بھی مقدمہ چلایا جائے۔ اب صدر اوباما اور صدر زرداری بھی اس ظلم کے ذمہ دار ہیں۔ مخدوم گیلانی نے پارلیمنٹ میں بیان تو دیا کہ امریکہ عافیہ کو رہا کرے تو لوگ خوش ہو جائیں گے مگر کیا پاکستانی حکمرانوں اور سیاستدانوں کی فریادوں کے بعد ڈرون حملے بند ہوئے ہیں؟ امریکہ پاکستانیوں کو ان کے اپنے آنسوں میں غرق کرنا چاہتا ہے اس کے ساتھ ان کے خون کا دریا بھی ٹھاٹھیں مارنے لگا ہے۔ اتنا تو کرو کہ اب رچرڈ ہالبروک کو پاکستان میں نہ آنے دو۔ کاش ہمارے حکمرانوں کو پتہ ہوتا کہ امریکہ کتنا بزدل اور خوفزدہ ہے مگر اقتدار والے اور اقتدار کے انتظار والے اپنے مفادات کے لئے اپنی حمیت اور حیرت کا سودا بھی کرلیتے ہیں۔ ”قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند۔“ (انہوں نے قوم کو بیچ ڈالا اور بڑا سستا کر کے بیچا) ایک امریکی نے کہا تھا کہ پاکستانی چند ڈالروں کے لئے اپنی ماں بھی بیچ دیتے ہیں۔بیٹی ماں کی طرح محترم ہوتی ہے اور اپنی زمین بھی ماں کی طرح ہوتی ہے۔ ہم نے اپنی زمین بیچی اور اپنا ضمیر بھی بیچ دیا۔
حکمرانوں سیاستدانوں کو وارننگ ہے کہ امریکہ اندر سے کمزور ہے۔ اور اندر سے کمزور کی دوستی ایک ذلت ہے۔ امریکہ ایک نہتی ہڈیوں کا ڈھانچہ بنی ہوئی اکیلی لڑکی سے ڈرتا ہے وہ کس طرح امریکی فوجیوں پر بندوق چلا سکتی تھی۔ یہ کیا الزام ہے جو ان کی ظالمانہ بزدلی کا شاہکار ہے۔ حبیب جالب نے بے نظیر بھٹو کے لئے جو شعر کہا تھا اس کا ایک مصرع مجھے بار بار نجانے کیوں یاد آئے چلا جا رہا ہے۔ع
ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں