این آر او نوں تخت بٹھایا تے
رفیق ڈوگر ـ 5 فروری ، 2010
بات یہ چل رہی تھی کہ عوام کو این آر او جمہوریت کے انڈے بچے زیادہ مہنگے پڑ رہے ہیں یا فارمی مرغیوں کے انڈے بچے زیادہ؟ سننے والے نے قہقہہ لگایا ”تو گویا اس جمہوریت نے کوئی انڈہ بھی دیا ہے“ سب جواب میں غوطہ زن ہو گئے۔ ” تو ہم دو سال سے جو ” کر کڑ “ سن رہے ہیں ایوانوں میں وہ کیا ہے؟“ قہقہہ لگانے والے سے انڈوں بچوں کی مہنگائی کا شکوہ کرنے والوں میں سے ایک نے پوچھا۔ اس کا جواب تھا ”این آر او جمہوریت نے بچے تو بہت دئیے ہیں مگر دو سال میں انڈہ ایک بھی نہیں دیا“ دوسرے نے حیرانی سے دوسرا سوال داغ دیا ”انڈہ ایک بھی نہیں دیا تو بچے اتنے کہاں سے آ گئے؟“ اس نے ایک اور قہقہہ لگایا ”تمہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ انڈے دینے والی جمہوریت نہیں بچے دینے والی جمہوریت ہے“ اپنے جواب کی مزید وضاحت کرنے یا ناسمجھوں کو سمجھانے کے لئے اس نے پوچھنا شروع کر دیا ہے۔ دیا ہے اس جمہوریت نے قانون کی حکمرانی کا انڈہ؟ آزاد اور خود مختار کسی پالیسی کا کوئی انڈہ؟ گڈ گورننس کا کوئی چھوٹا سا بھی انڈہ؟ ملک میں امن و امان کے قیام کا انڈہ؟ لوٹ کھسوٹ روکنے کا انڈہ؟ ملک کے عوام کو کوئی بھی سہولت پہنچانے کا کوئی انڈہ؟ روزگار کا کوئی انڈہ؟ اس کے این آر او جمہوریت کے انڈوں کے قحط کے بارے میں سولات کی بوچھاڑ میں کسی نے کہا” مگر اس نے ایک نظام تو دیا ہے“ اس نے مزید قہقہہ لگائے بغیر اضافہ کیا اور اس نظام نے اتنے زیادہ بچے دئیے ہیں کہ ان کے لئے دانے دنکے کا خرچہ پورا کرنے کے لئے دو سالوں میں ملک اور اس کے عوام مزید پندرہ ارب ڈالر کے مقروض ہو گئے ہیں۔ ہر فرد سات ہزار سات سو اکیاسی روپے پچیس پیسے کا مزید مقروض ہو گیا ہے۔ این آر او کرانے والوں کا کیونکہ اس کے بچوں کی پرورش ہمارا قومی فرض ہے اور اس فرض کی ادائیگی میں مجھ پر 7781 روپے 25 پیسے کے قرض کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ بچے تو آخر بچے ہیں کس کو پیارے نہیں ہوتے اپنے بچے اور اپنے بچوں کو کھلانے اور کھانا سکھانے کے لئے ہر مرغی کڑ کڑ کیا کرتی ہے۔ اتنے زیادہ بچوں کو کھلانے اور خود کھا کر انہیں کھانا سکھانے کے لئے کڑ کڑ بھی تو زیادہ ہی کرنا پڑتی ہے اور تم سمجھتے ہو کہ وہ یعنی این آر او جمہوریت انڈے دینے کے درد میں کڑکڑاتی ہے۔پھر ماں کے ساتھ بچے بھی تو مشق کڑ کڑاہٹ کر رہے ہوتے ہیں“۔ اس نے بتایا کہ ملک کے ہر بچے بوڑھے مرد و زن پر دو سال میں 7781 روپے پچیس پیسے کے اس بیرونی قرض میں اضافہ کی رپورٹ وزارت خزانہ نے اس جمہوریت کی کڑکڑانے والی پارلیمنٹ کو پیش کی تھی پچھلے دنوں۔:
جمہوریت آئی جو واشنگٹن سے تو آئی سب کے حصے میں
این آر او آیا تو کیا آیا؟مزے ہیں لارڈ زرداری کے
اس این آر او جمہوریت سے تو سید ابو استثنیٰ گیلانی کو بھی استثنیٰ حاصل ہے اسی لئے تو وہ مزوں والے اپنے لارڈ صاحب کے سامنے ع
میں نہیں سب تو ہی تو
کا وظیفہ کرتا اور پڑھتا رہتا ہے۔ بچے تو بے شمار دئیے ہیں اس جمہوریت نے مگر انڈہ ابھی تک کوئی ایک بھی نہیں دے سکی ایسا انڈہ جو صحت بڑھائے اور ملک اور اس کے عوام کو صحت مند بنائے۔ اس بحث اور سوال و جوابات سے تو یہی دکھائی دیتا ہے لہٰذا انڈوں کو بھول جائیں اور اس کڑ! کڑ! کرتی پھرتی جمہوریت اور اس کے پیارے بچوں کی سلامتی کی دعائیں کریں قرض لیں ان کو دانہ ڈالیں اور ” کھپے کھپے لارڈ زرداری“ کے نعرے لگائیں۔ کراچی میں معصوم اور بے گناہ شہری ٹارگٹ کلنگ میں مارے جا رہے ہیں۔ سندھ میں حکمران اتحاد کی تینوں جماعتیں وفاق میں بھی مل جل کر دانا دنکا چن رہی ہیں اور معصوموں کے قتل عام کا بھی ایک دوسرے کو الزام دے رہی ہیں دیا ہے اس بسیار خور انڈہ چور مرغی نے گڈ گورننس اور امن وامان کا کوئی انڈہ؟ ان کے بچے چوں چاں کرتے پھر رہے ہیں اور چوگ پر چوزوں کی بجائے گدِھوں کی مانند لڑ رہے ہیں۔ وجہ؟ لڑائی کس کی اور مارا کون جا رہا ہے؟ اگر گہرائی میں نہ بھی جائیں آنکھ پر سے جمہوریت کے گھپ اندھیر کی پڑی نقاب سرکا کر دیکھیں تو سب وہی ”این آر او آیا تو کیا آیا؟“ دکھائی دے گا این آر او شاہ کی ذات باتنازعات کا قیام دوام بنیاد ہے اس ساری لڑائی کی۔ جمہوریت آئی ہوتی تو بے چارے معصوم شہری نہ شاہ زوروں کی ٹارگٹ کلنگ میں اس طرح مارے جاتے اور نہ چینی چوروں کی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن سکتے تھے۔ یہ ٹارگٹ کلنگ کسی ایک شہر صوبے اور شعبے تک ہی تو محدود نہیں، نیچے سے لے کر اوپر تک کی عدالتوں میں بھی بے بس اور بے کس عوام انصاف کی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن رہے ہیں ان کی درخواستوں ضمانتوں کے لئے اہل انصاف کے پاس وقت ہی میسر نہیں آ رہا اور تصویر اور تشہیر کے ٹارگٹ ڈھونڈ ڈھونڈ کر تلاش کئے جاتے ہیں۔تشہیر اور تصویر فروغ انصاف اور کلنگ بے چارے عوام کی۔ تشہیر اور تصویر بی بی جی کی کلنگ جمہوریت کی اور ٹارگٹ این آر او شاہ کی نجات۔ اگر کسی سے کہیں کہ آپ کے دور میں عوام کو عذاب میں کیوں جھونک دیا گیا ہے جیبیں کاٹنے کا فن فروغ کیوں پا گیا ہے تو ہر کہیں سے جواب آئے گا ”کیا کریں یہ تو ہمیں وراثت میں ملا ہے سب کچھ۔ یہ سارا نظام شاہی اسی ”وراثت“ کی حفاظت اور وراثتی پیشوں کے دفاع کی زنجیروں کا ہی نام ہوگیا ہے ”جیبیں کیوں کاٹتے ہو؟“ ”وہ بھی تو کاٹتے ہیں“ یہ ہے مقابلہ حسن کارکردگی جس کی تشہیر اور تصویر پر قوم کے خون پسینے کی کمائی اور قرضوں کی رقوم بہائی جارہی ہیں۔ :
لَلّو دی للوانی کولوں فیض کسے نئیں پایا
این آر او نوں تخت بٹھایا تے ہر بے بس پھڑکایا
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں