شکریہ ڈاکٹر عافیہ !

سعید آسی ـ 5 فروری ، 2010
گزشتہ ماہ ایک نامعلوم موبائل نمبر سے مجھے اپنے موبائل فون پر ایک ایس ایم ایس موصول ہوا‘ جس کے مندرجات تھے ”قیدی نمبر 650 ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک پاکستانی پی ایچ ڈی خاتون جس نے دنیا کے مختلف اداروں سے نیورالوجی میں 144 اعزازی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹ حاصل کئے ہیں اور جو ہارورڈ یونیورسٹی سے اعزازی پوزیشن میں پی ایچ ڈی کرنے والی پوری دنیا کی واحد خاتون نیورالوجسٹ ہیں‘ جو حافظ قرآن‘ عالم دین ہیں اور امریکہ کا کوئی ایک بھی باشندہ اہلیت و صلاحیت میں انکے پائے کا نہیں۔ امریکہ میں اپنی قید کے دوران مردوں کے جسمانی‘ ذہنی اور جنسی تشدد کے نتیجہ میں آج اپنی یادداشت بھی کھو چکی ہیں لیکن ہم مسلمان اتنے مردہ ہیں کہ یہ ایس ایم ایس بھی بس ہمارے میل باکس ہی میں پڑا رہے گا تاوقتیکہ اسے حذف نہ کردیا جائے۔ اٹھو اور حّوا کی بیٹی پر ڈھائے جانے والے ان مظالم کیخلاف سراپا احتجاج بن جاﺅ‘ اگر یہ نہیں کر سکتے تو کم از کم عافیہ کیلئے دستِ دعا ہی اٹھا لو۔“
یہ ایس ایم ایس مجھے رات کے وقت موصول ہوا اور میں نے اپنے ضمیر کی خلش دور کرنے اور دل کا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے فوری طور پر یہ ایس ایم ایس اپنے دوستوں کو منتقل کر دیا‘ اس سے دو تین روز قبل ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی کی کراچی سے ٹیلی فون کال بھی موصول ہو چکی تھی جو اپنی بہن کے ساتھ ساتھ اسکے لاپتہ بچوں کیلئے بھی فکرمند تھیں۔ قوم تو یقیناً بے حس نہیں ہے‘ اسکے ہر ذمہ دار فرد سے جو بھی بن پڑا اور جس بھی فورم پر موقع ملا‘ اس نے ڈاکٹر عافیہ کیلئے ضرور آواز بلند کی۔ اگر بے حسی ہوتی تو گوانتاناموبے کے عقوبت خانوں کے دیگر قیدیوں کی طرح ڈاکٹر عافیہ بھی گمنامی کی دلدل میں دھکیلی جا چکی ہوتی اور آج اس کیخلاف امریکی جیوری نے انصاف کے نام پر جس گھناﺅنے تعصب کا مظاہرہ کیا ہے‘ اس سے بھی دنیا آگاہ نہ ہو پاتی اور خواتین کے حقوق کا چیمپئن کہلانے والے امریکی غلیظ معاشرے کا خواتین کی بے حرمتی کے حوالے سے بدنما چہرہ بھی مکرو ریا کی دبیز تہوں میں لپٹا چھپا ہی رہتا۔ آج اگر اس متعفن امریکی چہرے پر تھُو تھُو ہو رہی ہے تو اس میں ڈاکٹر عافیہ کی مظلومیت اور کسمپرسی سے آگاہ رکھنے کیلئے میڈیا کے متحرک کردار کی وجہ سے پیدا ہونے والی شعور کی آگاہی کا ہی عمل دخل ہے۔
بے حسی تو ہمارے اس ایمان اور غیرت فروش حکمران طبقہ کی ہے جس کے سرخیل جرنیلی آمر مشرف نے پلید نجاست میں لتھڑے حقیر امریکی ڈالروں کے عوض اپنے ہی وطن عزیز کے بے گناہ معصوم شہریوں کو دبوچ دبوچ اور گھسیٹ گھسیٹ کر امریکی منحوسوں کے حوالے کیا اور ان پر انسانیت سے گرے ہوئے مظالم کی انتہا کرنے کی کھلی چھوٹ دی۔ ڈاکٹر عافیہ بھی تو معصوم و گمنام انہی پاکستانی شہریوں میں شامل تھی‘ جو امریکی بھیڑیوں کے آگے نرم غذا بنا کر پھینکی گئی۔
تصور کیجئے! اگر برطانوی خاتون صحافی حیّان ریڈلی جو کابل میں طالبان کی قید بھگتنے کے دوران ان کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر دین اسلام کا مطالعہ کرکے حلقہ¿ اسلام میں داخل ہو گئی تھی‘ برطانیہ میں پریس کانفرنس کرکے امریکی درندوں کے ظلم و بربریت کو سہنے والی قیدی نمبر 650 کیلئے دہائی نہ دیتی‘ مسلمانوں کو متوجہ نہ کرتی اور پاکستانی حکمرانوں کو کوسنے دے کر نہ جھنجوڑتی تو آج کس کو خبر ہونی تھی کہ حوِّا کی یہ بیٹی کسمپرسی میں مغربی ملعونوں کے سفلی جذبات کی بھینٹ چڑھ کر اپنے نازک جسم پر کتنی صعوبتیں‘ کتنے صدمے‘ کتنے زخم سہہ گئی ہے۔
جب میڈیا میں اسکی بے بسی کی داستانیں اور بے چارگی کی تصویریں آنا شروع ہوئیں تو انسانیت سے گرا ہوا بھیانک امریکی چہرہ ہی بے نقاب نہیں ہوا‘ قید کوڑوں کی صعوبتیں برداشت کرنے اور دار پر لٹکتے ہوئے بھی کلمہ¿ طیبہ کا ورد کرنے اور اسلام سے دامن گیر رہنے والے مسلمانوں کے جذبے کی سرشاری بھی اجاگر ہوئی اور انسانیت کی فلاح اور پوری کائنات انسانی کیلئے رحمت و برکت کا باعث بننے والے دین اسلام پر عقیدہ اور بھی مستحکم ہوا۔ دنیا کو یہ موازنہ کرنے کا بھی موقع ملا کہ اسلام کے ودیعت کردہ جس خُلق‘ حرمتِ خاتون کے جس جذبے اور آنکھ کی شرم کے جس عملی مظاہرے کی بنیاد پر وہ برطانوی خاتون صحافی جو طالبان کے مظالم کو اجاگر کرنے کی نیت سے کابل گئی تھی‘ انہی طالبان کی قید کے دوران‘ اتنی متاثر ہوئی کہ دین اسلام کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے انہی ”ظالم“ طالبان کے آگے دو زانو ہو کر کلمہ پڑھ لیا اور پھر خود کو ترویج و تبلیغ دین کیلئے وقف کر دیا اور اسکے برعکس ملحدوں‘ منافقوں‘ کافروں اور دین اسلام کو ملیامیٹ کرنے کی نیت رکھنے والے طاغوتی صہیونیوں کے ننگِ انسانیت مظالم اور ہر طرح کے جبری ہتھکنڈے بھی اسلام کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کے عقیدے اور جذبے میں ہلکی سی دراڑ بھی پیدا نہیں کر سکے تو پھر اسلام کی حقانیت چار دانگ عالم میں سر چڑھ کر کیوں نہیں بولے گی؟
ڈاکٹر عافیہ کا کیس بے شک مکر و فریب کا کیس ہے‘ دین اسلام کے خلاف ملحدوں کے تعصبات کی منہ بولتی تصویر ہے‘ جھوٹ ہی جھوٹ ہے‘ ڈھٹائی ہی ڈھٹائی ہے‘ خوش فہمیاں تھیں کہ کیس کی سماعت کے دوران ڈاکٹر عافیہ کی بے گناہی اور مظلومیت ثابت ہو چکی ہے اور خود استغاثہ کے امریکی وکیل اعتراف کر چکے ہیں کہ جس پستول سے ڈاکٹر عافیہ کی جانب سے گولیاں چلائی گئی ظاہر کی گئی ہیں‘ اس پر موجود فنگر پرنٹ ڈاکٹر عافیہ کے ثابت نہیں ہو سکے۔ ڈاکٹر عافیہ کے اغواءکی داستان بھی مسلمہ ہے اور یہ بھی طے شدہ امر ہے کہ اس پر طالبانائزیشن اور امریکی فوجیوں پر دہشت گردی کا جو بھی کیس بنایا گیا ہے‘ وہ سب کہانی اسکی تحویل کے دوران تیار ہوئی ہے۔ اس پر ڈھائے جانے والے ننگِ انسانیت مظالم بھی امریکی جیوری خود ملاحظہ کر چکی ہے اس لئے انصاف کا بول بالا ہو گا اور ڈاکٹر عافیہ سرخرو ہو کر امریکی بھیڑیوں کے چنگل سے آزاد ہو جائیں گی مگر مجھے ایسی کوئی خوش فہمی نہیں تھی کیونکہ جس کیس کی بنیاد ہی بے انصافی پر رکھی گئی ہو‘ اس میں انصاف کے بول بالا کے تصور کے تحت بے انصافوں سے انصاف کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے۔ بے شک امریکی ججوں نے ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ دین اسلام کے حوالے سے اپنے تعصب کے اظہار میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اور اسکی ناکردہ گناہی گناہوں کے کھاتے میں ڈال دی ہے۔ بے شک اسے اب مزید صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑیگا‘ مگر اس نے ظالم کفر کے مقابلے میں دین اسلام کی حقانیت تسلیم کرانے کا کیس جیت لیا ہے۔ امریکی ملحدوں‘ منکروں‘ منافقوں کے ہاتھوں اس کی شکست، شکست نہیں‘ جیت ہے اور ایسی جیت جس کا اسلام دشمنوں کے پاس کوئی توڑ بھی موجود نہیں۔ ہمیں اسلام اور پاکستان کی اس بیٹی پر فخر ہے‘ ہم نادم ہیں تو اپنے حریص ‘ بھوکے لالچی حکمران طبقہ پر‘ ان کی بے حسی پر۔ مگر ڈاکٹر عافیہ نے اپنی ثابت قدمی سے ہماری ساری ندامتوں کے داغ دھو دیئے ہیں‘ شکریہ ڈاکٹر عافیہ! کہ آپ نے کفر کے آگے ہمیں شرمندہ نہیں ہونے دیا۔ ! !
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں