عافیہ صدیقی اور امریکی انصاف۔۔۔!

طیبہ ضیاء ـ 5 فروری ، 2010
بلآخروہی ہوا جس کی توقع تھی ۔عافیہ کو مجرم قرار دے دیا گیا۔۔۔عافیہ جیت گئی اور امریکی عدالت ہار گئی۔عافیہ نے چھ سال کی قید و بند برداشت کی ۔ڈیڑھ برس کی عدالتی کارروائی کا سامناکیا ۔لیکن نہ کبھی جھکی،نہ روئی،نہ گڑ گڑائی ،نہ گھبرائی اور نہ ہی کبھی ڈگمگائی۔۔۔عافیہ کا ایمان جیت گیا اور عدالت کا کفر ہار گیا۔۔۔امریکی عدالت میں ایک مظلوم اور طاقتور کے درمیان مقابلہ تھا۔طاقتور نے دھاندلی کی۔۔۔بے ایمانی کی۔۔۔بے انصافی کی۔۔۔مگر اس مظلوم اور کمزور لڑکی کے ایمان کو شکست نہ دے سکا۔۔۔ جب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کا آغاز ہو ا ہے نیند روٹھ گئی ہے۔سوچتی تھی کہ ایک قلم کی جنبش سے ایک بے گناہ کی زندگی کا فیصلہ لکھ دیا جائےگا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کا فیصلہ ہوتے ہی وقت چینل کے دفتر سے فون آنے لگے ۔صدمے کا اظہار جذبات میں بھیگ چکا تھا۔اب لکھنے کےلئے کچھ نہیں رہا۔۔۔چھ برس کی دردناک کہانی کا انجام تمام ہوا۔۔۔مقدمہ اپیل کی صورت اختیار کر چکا ہے جوکہ آخری ضرب ثابت ہو گا۔فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ عافیہ کو مجرم ثابت کر دیا گیاہے۔عافیہ کا چہرہ اور عدالتی کارروائی دن رات آنکھوں کے سامنے گھومتی رہتی ہے۔ڈیڑھ برس اس مقدمے کی کارروائیوں اور ظلم کے خلاف مظاہروں میں شامل رہی۔ مقدمے کی کاروائی چھ برس بعد شروع ہوئی جسے الجھانے کی کوشش کی جا تی رہی ۔ سولہ روزہ عدالتی کاروائی کے بعدعافیہ کی بے گناہی کاگمان یقین میں بدل گیااور اسکی رہائی کی امید بندھی مگر امریکہ کی توہین آڑے آ گئی کہ اگر یہ مسلمان لڑکی بے گناہ ثابت ہو گئی تو پوری دنیا امریکہ پر لعن طعن کرے گی ۔پیشی کے آخری روز جج نے جیوری کے کان میں یہ بات ڈال دی تھی کہ ڈاکٹر صدیقی کے حق میں فیصلہ ہونے سے امریکی ایجنسیاں جھوٹی ثابت ہو نگی۔ عقل مندوں کے لئے اشارہ کافی تھا۔جیوری تذبذب کا شکار ہو گئی۔امریکی عدالت میں فیصلہ فرد واحد نہیں کرتا۔جیوری کے فیصلے کو آخری فیصلہ قرار دیا جاتا ہے۔آخری پیشی کے روز فیصلے کا انتظار تھا۔ تین روز گذر گئے مگرفیصلہ نہ آیا۔جیوری سر جوڑے فیصلے کا رخ بدلنے میں مصروف رہی۔امریکہ کی آن انصاف پر غالب رہی۔ تمام شواہد کمزور تھے۔فیصلہ ایک انصاف پسند ملک کی عدالت میں سنایا جانا تھا۔امریکہ انسانی حقوق کا علمبردار ہے۔آزاد عدلیہ کا دعویدار ہے۔سب کےلئے ایک جیسے قانون کا پرچار کرتا ہے۔ تمام شواہد بے بنیاد اور من گھڑت ثابت ہوئے ہیں۔جج برمن اپنی کھلی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہاتھا کہ استغاثہ کا کیس کمزور پڑ چکا ہے لیکن مسلمانوں کےلئے بے ایمانی ،بد نیتی اور تعصب قائم رہا۔معاملے کو سیاسی رنگ دیاجا رہا تھا۔ جیوری میں اتفاق رائے نہ ہو نے کی صورت میں مقدمہ حکومت کے پاس چلا جاتا ہے اور عدالت بھی شاید یہی چاہتی تھی کہ سیاسی ایشو سیاستدانوں کے حوالے کر دیا جائے۔
عافیہ کو آسانی کے ساتھ گھر کیسے بھیج دیا جاتا۔۔۔؟ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکلاءٹیم کے سربراہ چارلس سفٹ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ہم وکلاءکی رائے تھی کہ عافیہ صدیقی عدالت میں بیان نہ دے مگر اس نے ہمارے مشورے کے باوجود بیان دے کر استغاثہ کو فائدہ پہنچادیاہے جبکہ استغاثہ کے پاس ٹھوس شواہد موجود نہ تھے۔ڈاکٹر صدیقی نے ہم سے مکمل تعاون نہیں کیا اور نہ ہی اسے امریکی عدالت پر اعتماد ہے۔پیر کی شام نیویارک کی عدالت میں جج رچرڈ برمن نے جیوری کو دو گھنٹے ہدایت دیتے ہوئے کہا تھاکہ جب تک 12 ارکان پر مشتمل جیوری بنچ عافیہ صدیقی کو متفقہ طور پر مجرم ثابت نہیں کر دیتا امریکی نظام قانون کے تحت ڈاکٹر عافیہ بے گناہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک ا س مقدمے کا فیصلہ نہیں کر لیتے کسی سے اس موضوع پر بات نہیں کریں گے البتہ مقدمے میں دی گئی شہادتوں اور گواہیوں کو دوبارہ دیکھنے اور سننے کی درخواست کر سکتے ہیں۔جج نے مزید کہا کہ اگر جیوری بنچ متفقہ طور پر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا تو حکومت انکے خلاف دوبارہ کارروائی کرسکے گی۔جج سزا کا فیصلہ بھی عنقریب سنا دے گا۔ عمر قید ہو سکتی ہے۔وکلاءصفائی کی جانب سے اپیل کا حق استعمال کیا جائے مگر متعصب عدالت سے انصاف کی امید کا سفر اب ختم ہوا۔۔۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر الزام ہے کہ انہوں نے افغانستان کے صوبے غزنی میں جولائی 2008 میں ایک ایم فور رائفل سے امریکی اہلکاروں پر گولیاں چلائی تھیں۔جس کے جواب میں ایک امریکی فوجی نے نو ملی میٹر کے پستول سے عافیہ کے پیٹ میں گولی مار دی تھی۔گذشتہ ہفتے عدالت میں بیان دیتے ہوئے ڈاکٹر صدیقی کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی گولی نہیں چلائی تھی بلکہ جب وہ افغان نیشنل پولیس کے ہیڈ کوارٹر کے ایک کمرے میں پردے کے پیچھے سے جھانک رہی تھی تو اس پر گولیاں چلائی گئیں اور وہ زخمی ہو گئی۔ وکلاءصفائی نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملاکہ جس کمرے میں ڈاکٹر صدیقی زیر حراست تھی وہاں کوئی فائرنگ کی گئی تھی ۔کمرے میں کہیںگولیوں کے نشانات نہیں مل سکے۔وکیل صفائی نے میڈیا سے کہا کہ استغاثہ کے گواہوں کے پاس حقائق کو چھپانے کی وجہ ہے کہ غیر مسلح ڈاکٹر صدیقی کو گولی مارنے پر ان سب کو نوکری سے نکالا جا سکتا ہے۔ چھ برس بعد فیصلہ آ چکا ہے۔۔۔امریکی پاکستانی کمیونٹی میں غم و غصہ پایا جارہا ہے۔۔۔جو پاکستان اپنی بیٹی کو نہ بچا سکا وہ سترہ کروڑ عوام کو تحفظ دے گا؟
وہ پاکستان کو بچائے گا ۔۔۔؟ باتیں بہت ہیں مگر لکھنے کی سکت نہیں رہی۔۔۔ عافیہ تم جیت گئی اور طاقتور ہار گئے۔۔۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں