نااہلوں کا ہتھیار
رفیق ڈوگر ـ 4 جون ، 2009
دنیا کی ساری تاریخ کو چھان پھٹک کر دیکھ لیں ہر جگہ اور ہر کہیں تعصب کا جھنڈا ان ہی باکمال لوگوں کے ہاتھوں میں دکھائی دے گا جو قومی سطح پر قومی دھارے میں اپنا نام اور مقام پیدا کرنے کی صلاحیتوں سے محروم ہوں۔ عربوں نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف تعصب کا جھنڈا بلند کیا لارنس آف عریبیا اور برطانوی سامراج کی رہنمائی میں اس سلطنت کو تو تباہ کر دیا مگر کمایا کیا؟ ذلت اور رسوائی؟ کونسی بڑی حکومت قائم کی ہے عرب قومیت کے تعصب زدگان نے؟ کیا انجام ہوا شریف مکہ کے خاندان کا؟ کیا مقام بنایا ہے تاریخ عالم میں اس عرب تعصب کے فاتحین نے؟ جب تک سلطنت عثمانیہ قائم تھی ہو سکا تھا کوئی تخریب کار گروپ یروشلم اور فلسطین میں کبھی آباد؟ اگر عربی بولنے والے سب ایک ہیں تو معدنی قوت دولت اور تیل سے مالامال اس خطہ کو ایک متحد عرب سلطنت میں کیوں تبدیل نہیں کر سکے؟ جب سے انسان اس زمین پر آباد ہوا ہے وہ خطہ جس پر عربی بولنے والے آباد ہیں تہذیبوں کے درمیان بری اور بحری تجارتی راستوں پر قبضہ کی جنگوں کا مرکز و محور رہا ہے اور آج بھی ہے جس عالمی جنگ کے عذاب میں ہم پھنسے ہوئے ہیں اصل میں وہ بھی بری اور بحری تجارت کے راستوں پر قبضہ کی ہی جنگ ہے مگر وہ سوال کہ جن عربوں نے عرب تعصب کے زہر سے مسلم ملت کے جسم کو مفلوج کر دیا تھا سب مل کر اپنی ایک بھی مضبوط سلطنت کیوں قائم نہیں کر سکے؟ سلطنت عثمانیہ کے وقت تو آج کے درجنوں عرب ملک اور ریاستیں ایک ہی حکومت کے زیر انتظام ہوتے تھے پھر کیا ہوا؟ قرآن ایک‘ رسول‘ ایک اسلام ایک‘ زبان ایک اور محتاج و ناتواں حکمران درجنوں؟ یہی تو منصوبہ تھا جو عرب تعصب کا زہر پھیلا کر اس وقت کا عالمی سامراج برطانیہ اور اس کے یہودی ساتھی مکمل کرنا چاہتے تھے بلوچستان میں بیرونی سامراجیوں کی دلچسپی کی بڑی وجہ بھی اس کا بری اور بحری تجارتی محل وقوع ہے گزشتہ سال بھارتی بحریہ کے سربراہ نے گوادر کی بندرگاہ کو اپنے ملک کے مفادات کیلئے خطرہ قرار دیا تھا وہ بیان اب بھی اخبارات کی فائلوں میں موجود اور محفوظ ہے۔ کیا خطرہ ہو سکتا ہے اس دور دراز بندرگاہ سے بھارت کو جس کی نیوی اس علاقہ کے سمندروں کی حکمران ہے؟ خطرہ یہ ہے کہ اس بندرگاہ کے ذریعے چین کو مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک تک تجارت کا وہ محفوظ راستہ مل جائے گا جو زمانہ قدیم میں شاہراہ ریشم کہلاتا تھا چین کا مال تجارت بری راستہ سے ٹیکسلا تک آتا تھا وہاں سے افغانستان‘ ایران اور عراق سے گزر کر یورپی ممالک تک جایا کرتا تھا اور جب دنیا کی دو بڑی طاقتوں ایرانیوں اور یونانیوں کے درمیان باہمی جنگوں کی وجہ سے زمینی راستہ بند ہو جاتا تھا تو چین سے آیا مال تجارت بلوچستان کی بندرگاہوں تک لے جایا جاتا تھا اور وہاں سے کشتیوں پر یمن اور یمن کی بندرگاہوں سے وہ مال زمینی راستوں سے بحیرہ روم تک لے جایا جاتا تھا ان راستوں اور تجارتی مال اور اس تجارت سے وابستہ لوگوں کی تفصیل کافی طویل ہے۔ ہم نے الامینﷺ کی پہلی جلد میں ایسی ساری تفصیلات اور اس تجارت سے مکہ کے قریش کی حصہ داری کی پوری تفصیل دی ہے جسے دیکھ کر موجودہ عالمی جنگ کے مقاصد کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے فرق صرف یہ پڑا ہے کہ اس وقت یورپ کو چین کے مال کی اشد ضرورت ہوتی تھی اور اس کے حصول کیلئے وہ تجارتی راستے کھلے رکھنا چاہتے تھے۔ کتنی ضرورت ہوتی مغرب میں چینی اشیا کی؟ جب گوتھ حملہ آور اہلارک نے روم پر قبضہ کیا تو معلوم ہے اس نے اہلِ شہر سے تاوانِ جنگ کیا طلب کیا تھا؟ تیرہ سو ساٹھ کلوگرام کالی مرچ۔ مگر اب مغربی ممالک چین کے مال تجارت کے بیرونی ممالک تک جانے کے راستے روکنا چاہتے ہیں چین کی بندرگاہوں سے مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی بندگاہوں تک بحری راستوں کے گرد امریکہ اور بھارت نے اپنے بحری اڈے قائم کر لئے ہیں بحری راستہ طویل بھی ہے اور غیر محفوظ بھی ہو گیا ہے۔ بوقت ضرورت چین کیلئے ان ممالک تک مال تجارت لے جانے کا وہی قدیم راستہ رہ جاتا ہے جس پر قبضہ سکندر اعظم کا بھی اہم مقصد تھا اور وہ راستہ ہے بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ جس سے پاکستان کے بالائی علاقوں تک سڑکیں بنائی جا رہی ہیں۔ اسی وجہ سے چین اس بندگاہ کی تعمیر و ترقی میں اتنی دلچسپی رکھتا ہے اور اس کے اور ہمارے دشمن وہاں کے امن کو اپنے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں اور مختلف قسم کے تعصبات کو فروغ دے کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مگر وہ سرائیکی تعصب؟ پاکستان اور پنجاب کے حوالے سے بات کریں تو لیاقت علی پنجابی تھا؟ سکندر مرزا پنجابی تھا؟ مشتاق گورمانی پنجابی تھا؟ ایوب خاں اور یحییٰ خاں پنجابی تھے؟ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو پنجابی تھے؟ مصطفیٰ جتوئی اور محمد خاں جونیجو پنجابی تھے؟ پرویز مشرف اور شوکت عزیز پنجابی تھے؟ صدر آصف علی زرداری پنجابی ہیں؟ سرائیکی حوالے سے مشتاق احمد گورمانی‘ ذوالفقارعلی بھٹو‘ بینظیر بھٹو‘ فاروق احمد خاں لغاری‘ سردار شیربازخان مزاری‘ ملک غلام مصطفیٰ کھر‘ سید یوسف رضا گیلانی‘ شاہ محمود قریشی‘ ممتاز دولتانہ اور کافی حد تک فیروز خان نون سب ہی سرائیکی ہوتے تھے اس ملک اور صوبہ پر حکومت تو رہی ہی سرائیکی بولنے والوں کی ہے۔ اب بھی وہی ہیں۔ جس حوالے سے اہل تعصب ’’ٰپنجابی‘‘ کا حوالہ دیتے ہیں ضیاء الحق اور شریف برادران ہی بنتے ہیں پنجابی۔ کیونکہ اس پنجاب کے لوگوں نے کبھی تعصب کی عینک نہیں لگائی ورنہ شائد کوئی ایک ادھ ہی ملے پنجابی پٹھا۔ ایک بار خان عبدالولی خاں سے ہی بات ہو رہی تھی ہم نے کہا خاں صاحب آپ پنجاب سے اپنے سارے نئے پرانے پٹھان صوبہ سرحد لے جائیں ہم وہاں کوئی ایک پنجابی نہیں رہنے دیں گے سب واپس لے آئیں گے ان کا فوری جواب تھا ’’یہ نہیں ہو سکتا‘‘ تو ہم کسی تعصب کے فروغ کے حق میں نہیں کہ تاریخ عالم نے یہی بتایا ہے کہ تعصب نااہلوں کا ہتھیار ہے اور جس بھی کسی کے ہاتھ میں سوچ اور عمل میں یہ ہتھیار ہوں وہ قوموں کو تباہ ہی کیا کرتا ہے تعمیر کبھی نہیں کر سکا!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں