تازہ ترین:

امریکہ یہاں سے نکلے تو یہ جنگ ہماری ہے

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 4 جون ، 2009
حسین حقانی شاعر ہو گیا ہے۔ ہم تو سمجھے تھے کہ وہ سفیر ہو گیا ہے۔ پوری دنیا میں جو بھی امریکہ کا سفیر ہوتا ہے اسے سفیر اعلیٰ کہنا چاہئے جیسے ہم نے کہا تھا کہ لاہور شہر کا ناظم تو ناظم اعلیٰ ہوتا ہے مگر عامر محمود نے اعلیٰ اور ادنیٰ کا فرق ہی مٹا دیا۔ لاہور میں گورنر راج کے دوران اس کا راج پھر شروع ہوا تھا۔ اب سلمان تاثیر بھی ڈر کے گورنر ہاؤس میں بیٹھ گیا ہے۔ نجانے وہاں فرخ شاہ کیا کر رہا ہے۔ تو بے چارہ عامر محمود کیا کرے۔ اس حال میں آدمی صرف شاعری کر سکتا ہے مگر حسین حقانی پر تو یہ دن ابھی نہیں آئے اور اس نے شاعری شروع کر دی ہے۔ سلمان تاثیر نے تو بیان دینا ہی بند کر دئیے ہیں عامر نے دفتر آنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ حسین حقانی سے کئی معاملوں میں اختلاف ہوا مگر اعتراف بھی تو کرنا چاہئے۔ نظم جیسی بھی ہے اس کا انگریزی ترجمہ بھی شاعری میں کیا جائے اور صدر اوباما کو سنایا جائے۔ ہلیری اور ہالبروک بھی سن لیں اور خوش ہو جائیں۔ امریکہ کی جنگ کو پاکستانی سفیر کی طرف سے شاعری میں اپنی جنگ کہنا ان کو کیسے اچھا نہیں لگے گا اس نظم سے پہلے حسین حقانی نے یہ بات شاعرانہ نثر میں کہی ہے۔ رہی یہ بات کہ بھارت اپنے ایٹمی اثاثے تلف کر دے تو ہم بھی تیار ہیں‘‘ بھارت بے شک اپنے ایٹمی اثاثے تلف کر دے ہمیں خوشی ہو گی مگر ہم اپنے ایٹمی اثاثے تلف نہیں کریں گے۔ میں امریکہ نہیں جانا چاہتا۔ میں بھارت بھی نہیں جانا چاہتا۔ وجہ دونوں کے لئے ایک ہی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ حسین حقانی کو امریکہ کے بعد بھارت کا سفیر بنایا جا رہا ہے۔ وہ شاعر تو ہے کہ نہیں البتہ سفیر ضرور ہے۔ اسے برطانیہ کا سفیر بھی بنایا جا سکتا ہے۔
ملیحہ لودھی نے خاصا کام کیا ہے۔ پی جے میر نے بھی اس کی تعریف کی میر صاحب تو پرویز مشرف کی بھی تعریف کرتے ہیں۔ ٹونی بلیئر کی بیوی پاکستانی سفارت خانے آئی تو ہر ایک سے ملی اور اپنی گاڑی سے اتر کر بارش میں بھیگتی ہوئی ہر بندے سے ہاتھ ملایا۔ ملیحہ لودھی جس وقت بھی آتی ایک آدمی چھتری لے کے اس کے انتظار اور استقبال کے لئے کھڑا ہوتا۔ انگلستان میں پروٹوکول اور وی آئی پی کلچر نہیں مگر انگلستان میں پاکستانی سفارت خانے کے اندر تو سب کچھ ہے۔ پروٹو کول بھی اور وی آئی پی کلچر بھی۔ اور ان کلچرڈ افسران بھی۔ مجھے امریکی سفارت خانے کا پتہ نہیں اور حسین حقانی کے امریکی سفارتخانے کا تو بالکل پتہ نہیں میں جس حسین حقانی کو جانتا ہوں وہ زوردار بات کرنے والا ہے۔ اسے پاکستانی حکمران اور افسران کے ساتھ تو ’’پاکستانیت‘‘ کرنا پڑتی ہو گی۔ دفتر میں کسی کو اردو میں گالیاں وغیرہ دینا۔ ایسے میں وہ پنجابی بھی بول لیتا ہے۔ اتنی پنجابی تو صدر زرداری کو بھی آتی ہے۔ اس کے بعد ہی شیری رحمان نے استعفیٰ دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ وجہ کوئی اور بھی ہے یہ بھی وجہ ہے۔ رضا ربانی بھی صدر زرداری کی پنجابی ڈانٹ ڈپٹ کو سمجھتا ہے۔ اسے ’’خصی‘‘ کے معانی تو آتے ہیں صدر زرداری کو دکھ ہے کہ ان کے غلط کاموں کو صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا جا رہا۔ ربانی نے کہا کہ مجھے سینٹ کا چیئرمین کیوں نہیں بنایا جا رہا بلکہ براہ راست کہہ دیا کہ ایک غیر قانونی وزیر قانون فاروق نائیک کو کیوں بنایا جا رہا ہے۔ اس نے یہ کلمۂ حق صدر زرداری کے منہ پر احتیاطاً نہیں کہا تب رضا ربانی بھی وزیر شذیر تھا۔ بے احتیاطی یہ کی کہ وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ بعد میں شیری رحمان سے یہ بے احتیاطی شیئر بھی کی۔ مگر میڈیا کی ہلاشیری میں شیری رحمان شیر بن گئی بعد میں شیرنی بن گئی۔ مگر وقت گزر گیا تھا رضا ربانی نے بھی کچھ دیر کے بعد راضی برضائے ربانی بننے کی کوشش کی مگر زرداری کی زرد آری چل چکی تھی۔ فاروق نائیک کو مبارک باد بھی کام نہ آئی۔
اب دونوں بہت احتیاط کرنے لگے ہیں مگر دوبارہ وزارت ملنے کے ابھی آثار نظر نہیں آتے۔ سنا ہے کہ ڈاکٹر بابر اعوان نے بھی ان کی فرماں برداری کی گواہی دی ہے۔ امریکہ میں حسین حقانی کی سفارش پر وزیر اطلاعات کائرہ نے اجازت دے دی کہ شیری رحمان کو اطلاعات کا وزیر مملکت بنا دیا جائے۔ صدر زرداری کے امریکی دورے میں اپنے طور پر شیری رحمان بھی گئی ہوئی تھی۔ حسین حقانی نے اس موقع پر مرزا غالب کا یہ شعر بھی صدر زرداری کی عدم موجودگی میں ان کے وفد میں شامل صحافیوں کو سنایا؎
دل پھر طواف کوئے ’’ملامت‘‘ کو جائے ہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کئے ہوئے ہے
حسین حقانی کی اپنی نظم شاید امریکہ میں کسی نے نہیں سنی۔ اس کی اطلاع نامور صاحب اسلوب شاعر جلیل عالی نے راولپنڈی سے دی ہے کہ نظم بے وزن ہے اور ایک وزنی اخبار میں شائع ہوئی ہے۔ نظم کے کچھ بہتر مصرعے دیکھئے؎
ہر سمت جو دہشت طاری ہے
بربادی کی تیاری ہے
جاگو! یہ جنگ ہماری ہے
سوچنے والی بات یہ ہے کہ آخر نظم لکھنے کی ضرورت کیوں حسین حقانی کو محسوس ہوئی۔ جن لوگوں نے اس کو سفیر نہیں مانا وہ شاعر کیسے مان لیں گے؟ امریکہ میں کئی نامور شاعرات‘ پاکستان سے شاعری منگواتی ہیں۔ حقانی نے یہ شاعری کہاں سے سمگل کی ہے۔ وہ کالم تو لکھتے رہے ہیں۔ ارشاد حقانی سے اصلاح بھی لیتے رہے ہونگے۔ ہم مان لیں گے مگر شرط یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے نکل جائے ہم اسرائیل اور بھارت سے خود نبٹ لیں گے۔ امریکہ کہتا ہے کہ اے پاکستانی حکمرانو! اپنے لوگوں سے مذاکرات نہ کرو۔ جنگ کرو‘ یہ جنگ امریکہ کی نہیں تو وہ اس کے لئے زور کیوں دیتا ہے۔
سوات میں پاک فوج کو کچھ کامیابی ہونے لگی ہے تو امریکہ کو فکر پڑ گئی ہے اور بھارت اسرائیل بھی پریشان ہو گئے ہیں۔ وہاں جو ’’طالبان‘‘ پکڑے گئے ہیں وہ امریکہ اسرائیل اور بھارت کے ایجنٹ ہیں۔ ان کے پاس انہی کا دیا ہوا اسلحہ اور پیسہ ہے۔ اب پتہ چلا کہ یہ جنگ واقعی ہماری ہے۔ ہمارے مقابلے میں امریکہ ’’اسرائیل اور بھارت‘‘ ہے۔ حسین حقانی سے گزارش ہے کہ اب یہ واقعی ہماری جنگ ہے اور ہم امریکہ کو یہاں سے نکال کے دم لیں گے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں