اور اب پیش خدمت ہے این آر او ! !

آفتاب اقبال ـ 4 جون ، 2009
جس دن سے جج بحال ہوئے ہیں‘ آصف علی علی زرداری صاحب کو عدالت عظمی کی طرف سے خطرے کی پہلی گھنٹی آج سنائی دی ہے جب فاضل عدالت نے ایک کیس کی سماعت کے دوران یہ کہتے ہوئے بہت سے بے فکر اخباب کو دہلا کر رکھ دیا ہے کہ ’’این آر او کا معاملہ ابھی عدالت میں زیر التوا ہے اس لئے کسی کو بھی ریلیف نہیں دی جا سکتی‘‘۔ یہ سنسنی خیر مگر انتہائی صحتمند بات اس وقت سامنے آئی جب کرپشن کے الزام میں سزا ہونے والے ایک سابق ڈی ایس پی کے وکیل نے این آر او کی بنیاد پر نظرثانی کی اپیل عدالت عظمی کے روبرو کی۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ این آر او جیسے بے ہودہ صدارتی آرڈر کے خلاف ویسے تو کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں میں خون کا لاوا بری طرح کھول رہا ہے مگر روئیداد خان اور اقبال حیدر نے اس کے خلاف رٹ بھی دائر کر رکھی ہے جو ابھی تک وہیں کی وہیں پڑی ہے۔
تاریخ کا مطالعہ اور حالات کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ کرپشن کے خلاف جاری ہر کوشش کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اس بدنام زمانہ قانون جیسی چیزیں ہی ثابت ہوتی چلی آئی ہیں جنہیں کبھی این آر او کا نام دیا گیا تو کبھی کچھ اور۔ ریلیف کے نام پر اس عام معافی کا فائدہ بظاہر تو بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو ہوا مگر اس بہتی گنگا میں ہاتھ منہ سر پیر و دیگر اعضا ہزاروں اقتصادی مجرموں نے دھوئے جن کے ذمے کھربوں کا عوامی پیسہ واجب الادا تھا۔
صدر آصف علی زرداری اور ان کے انتہائی قریب پائے جانے والے چند نہایت قریبی ساتھی جو کہ انہی کی طرح این آر او یافتہ ہیں‘ پچھلے چند گھنٹوں سے بے حد مضطرب اور پریشان ہیں۔ پہلا اور نہایت قومی گمان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بظاہر اس مردہ موضوع کو بار دیگر زندہ کرنے کا واحد مقصد صدر آصف علی زرداری کو کینڈے میں رکھنا ہے جنہوں نے اس وقت بی بی کے قتل سے پیدا ہونے والی نازک صوبائی صورتحال اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ اپنے حد سے زیادہ اچھے تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پوری سٹیبلشمنٹ کو آگے لگا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے ساتھ معاملہ بندی ہو‘ چین کے ساتھ تعلقات کا ازسرنو جائزہ ہو یا ایران کے ساتھ نئے اقتصادی معاہدات کا مسئلہ ہو‘ زرداری صاحب ماسوائے اپنی پانچ چار رکنی کچن کابینہ کے‘ کسی کو اعتماد میں لینا تو درکنار مطلع کرنے کی زحمت بھی قبول نہیں کرتے۔
موصوف کا یہ کہنا کہ بھارت سے پاکستان کو قطعاً کوئی خطرہ نہیں‘ ایک محیر العقول بات ہے۔ اب بندہ پوچھے کہ بھائی صاحب‘ آپ کو کیا معلوم کہ بین الاقوامی تعلقات کس چڑیا کا نام ہے۔ آپ نے اس موضوع پر کس کس کو پڑھ رکھا ہے یا آپ کہاں کے آغا شاہی ہیں؟ عین ممکن ہے کہ اس موضوع پر آپ نے اپنے عظیم سسر تک کی کسی کتاب کے ساتھ ’’چھیڑ خانی‘‘ کرنے کی زحمت گوارا نہ کی ہو۔ آپ سے زیادہ شاید پوری دنیا میں اور کوئی نہ جانتا ہو کہ بھارت اس وقت ہمارا پانی غصب کرکے ہمارے بچوں کے ساتھ کیا سلوک کرنے جا رہا ہے مگر کیا مجال جو آپ کی کنج دہن سے اس موضوع پر کبھی ایک فقرہ بھی نکلا ہو۔ آج سے تقریباً ایک سال پہلے ہم آپ کی جس بات سے بے حد متاثر ہو کر آپ کی شان میں قصیدہ گوئی کے مرتکب ہوا کرتے تھے تو اس کی وجہ صرف اور صرف ہمت حوصلے اور بہادری کی وہ باتیں تھیں جو آپ ہم سمیت بے شمار دیگر دوستوں کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ اور اس میں کوئی شک والی بات بھی نہیں کہ آپ پیدائشی بہادر آدمی ہیں اور بی بی مرحومہ کا شوہر ہونے کے علاوہ یہ آپ کی واحد خوبی ہے۔ مگر افسوس کہ بھارت کے ساتھ پانی کے مسئلے پر آپ نے جو بزدلانہ رویہ اختیار کیا ہے اس نے تو مشرف جیسے خصی حکمران کو بھی شرمندہ کرکے رکھ دیا ہے۔ ابھی بھی وقت ہے قبلہ صدر صاحب‘ پانی کے معاملے میں کچھ نہ کچھ ضرور کر لیں ورنہ مشرف والا ملبہ بھی ہماری چشم تصور آپ کے اوپر ہی گرتا دیکھ رہی ہے۔
یہ درست ہے کہ این آر او کے تحت حکومت پاکستان کی طرف سے جاری ہونے والے چند ابتدائی خطوط نے آصف علی زردایر اور ان کی کچن کابینہ میں شامل چند احباب کو بہت بڑی ریلیف کی اور آپ لوگوں نے غیر ملکی بنکوں میں پڑے اپنے اپنے منجمد اثاثے ایک گھنٹے کے اندر نکلوا کر سکھ کا سانس لیا مگر بات یہاں پر ختم ختم نہیں ہو جاتی بلکہ شروع ہوتی ہے۔
زرداری صاحب کو سمجھداری سے کام لیتے ہوئے صرف لانگ مارچ کی مثال سے ہی سبق حاصل کر لینا چاہئے کہ ہماری سٹیبلشمنٹ بلا کی سفاک ہے اور جب یہ کسی کے خلاف چلنے کی ٹھان لے تو پھر اسے روکنا مشکل نہیں ناممکن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے کس مہارت کے ساتھ آپ کا اپنا ساتھی اور دوست وزیراعظم آدھے گھنٹے کی ’’جدوجہد‘‘ کے بعد آپ سے میلوں دور لاکھڑا کیا۔ یہی دوری لانگ مارچ والے واقعے کا موجب بنی جس نے آپ کے سیاسی مستقبل پر ایک بہت سوالیہ نشان ڈال دیا۔
آج جب کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بھی اپنے لائو لشکر کے ساتھ آن موجود ہیں‘ آپ بھلا کس برتے پر سٹیبلشمنٹ کے ساتھ پنگا لے سکتے ہیں۔ آپ کو زور یا بدیر سترہویں ترمیم کو ختم کرنا پڑے گا۔ ایسا کرکے آپ نواز شریف کو قومی حکومت میں شامل کر سکتے ہیں۔ مگر اس کے لئے اب آپ کے پاس چوائش نہایت محدود ہو چکی ہے اور وقت بھی تیزی کے ساتھ گھٹتا چلا جا رہا ہے۔ امریکہ تو آپ کو دو سال دے چکا ہے مگر دیکھنا یہ ہو گا کہ یہاں والے دوست اس پر تیار ہیں یا نہیں۔ امید ہے کہ آپ تھوڑے کہے کو زیادہ سمجھیں گے ! !
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں