انسانیت اور افسرانیت!
توفیق بٹ ـ 4 فروری ، 2010
میں تو ابھی تک حیران ہوں چیف سیکرٹری کی گاڑی سے ٹکرا کر جاں بحق ہونے والے کرنل تھے؟ فوج میں کرنل معمولی عہدہ نہیں ہوتا۔ اس رینک کا سویلین افسر کسی نہ کسی محکمے کا سیکرٹری، کسی ڈویژن کا کمشنر یا اسی نوعیت کے کسی اور عہدے پر تعینات ہوتا ہے۔ ” باوردی حکمرانوں“ کے دور میں تو سکینڈ لیفٹیننٹ مان نہیں ہوتا کرنل تو پھر بڑی توپ ہوتی ہے۔ کرنل اکرام اللہ خان ”کرنیلی“ سے ناجائز فائدہ اٹھائے بغیر ریٹائرڈ ہو گئے تو یقین کیجئے اس بات پر یقین ہی نہیں آتا۔ بطور کرنیل وطنِ عزیز کے لئے جو خدمات انہوں نے سرانجام دیں، خصوصاً 1965ءاور 1971 ءکی جنگوں میں جو کردار ادا کیا اخبارات میں اس کا تذکرہ پڑھ کر اور بھی حیرت ہوئی کہ ایسی خدمات سرانجام دینے والے تو اس کا ”صِلہ“ وصول کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے یہ کیسے کرنل تھے جن کے پاس گاڑی تک نہیں تھی؟ مجھے تو شک ہے حادثے کا شکار ہونے والا موٹرسائیکل بھی ان کا اپنا نہیں ہو گا کہ ایسے لوگوں کے پاس اپنا صرف ضمیر ہوتا ہے جس کی حفاظت کرتے ہوئے وہ عمر گزار دیتے ہیں۔ پاکستان شاید ایسے ہی چند لوگوں کی وجہ سے قائم ہے ورنہ لوٹ مار کرنے والوں کی اتنی بھرمار ہے کہ پاکستان کا قائم رہنا ایک معجزہ ہے۔ کرنل اکرام اللہ خان جیسے لوگ ایک تو ویسے ہی کم ہیں اوپر سے ہمیں دکھائی بھی کم ہی دیتے ہیں۔ دکھائی دیں بھی تو ہم منہ موڑ لیتے ہیں،یہ سوچتے ہوئے کہ جو شخص اپنی ذات کو فائدہ نہیں پہنچا سکا ہمیں کیا پہنچائے گا؟
ویسے تو جس افسر کی گاڑی سے ٹکرا کر کرنل صاحب جاں بحق ہوئے ایک زمانے میں ان کی شہرت بھی کرنل صاحب جیسی ہی ہوا کرتی تھی تب ان کے پاس ایک پرانی سی گاڑی تھی جسے ”فوکسی“ کہا جاتا تھا۔ بڑی دھوم تھی کہ ایک بڑا افسر اس دور میں بھی چھوٹی گاڑی استعمال کرتا ہے جس دور میں چھوٹے چھوٹے افسر بھی بڑی بڑی گاڑیاں استعمال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ پھر وہ چیف سیکرٹری ہو گئے اور ویسے ہی ہو گئے جیسے ان سے پہلے بہت سے چیف سیکرٹری تھے۔ اخبارات میں اکثر ان کے بارے میں ”حیران کن سٹوریاں“ شائع ہوتی ہیں جن پر یقین کرنے کو اس لئے جی نہیں چاہتا کہ وہ ”میرٹ اور انصاف پسند خادم پنجاب“ کا حسن انتخاب ہیں اور ظاہر ہے ان کا ”حسن انتخاب“ غلط کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم تو اس پر بھی حیران تھے روزانہ اپنے دفتر میں کھلی کچہری لگا کر مظلوم عوام کی داد رسی کرنے کا تاثر بذریعہ میڈیا عام کروانے والے محترم افسر اتنے سنگدل کیسے ہو سکتے ہیں کہ ایک بوڑھے کو شدید زخمی حالت میں سڑک پر تڑپتا چھوڑ کر فرار ہو جائیں ایسے افسر سے تو ہم یہ توقع کرتے تھے زخمی کو اپنی گاڑی میں ڈال کر خود ہسپتال لے جائیں گے اپنی نگرانی میں اس کا علاج کروائیں گے اور اس وقت تک وہاں رہیں گے جب تک ان کے عزیز واقارب نہیں آ جاتے۔ سنا ہے کہ انہیں وزیراعظم سے ملنے کی جلدی تھی۔ ایک قیمتی جان بچانا ضروری تھا یا وزیراعظم سے ملنا؟ اس کا فیصلہ افسر محترم پر چھوڑ دیا جائے تو ان کاجواب یقیناً یہی ہو گا کہ وزیراعظم سے ملنا ضروری تھا، اس لئے کہ ہمارے اکثر افسران حکمرانوں سے نہ ملیں، انہیں پروٹوکول نہ دیں یا حسب توفیق ان کی خوشامد نہ کریں تو انہیں اپنی سیٹیں خطرے میں محسوس ہونے لگتی ہیں۔ ویسے جتنی مضبوطی اور طاقتوری سے محترم چیف سیکرٹری ”نوکری “ کر رہے تھے وزیراعظم سے نہ بھی ملتے تو انہیں کس نے پوچھنا تھا؟ اور اگر وہ وزیراعظم کو اپنی غیر حاضری کا سبب بتا بھی دیتے تو میرے خیال میں وزیراعظم ان سے ناراض ہونے کے بجائے خوش ہی ہوتے، اتنے کہ انہیں گریڈ 23 میں ترقی سے بھی نوازا جا سکتا تھا۔ اب آپ پوچھیں گے گریڈ 23 تو ہوتا ہی نہیں پھر اس میں ترقی کیسے ہو سکتی ہے؟ تو جناب عرض ہے وزیراعظم جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے، انڈہ دے یا بچہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔ اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت وہ تھوک کے حساب سے افسران کو بائیسواں گریڈ عطا فرما سکتے ہیں تو ایک آدھ افسر کو 23 واں گریڈ عطا فرمانا کون سا مشکل ہے؟
چیف سیکرٹری کی گاڑی سے ٹکرا کر جاں بحق ہونے والے کرنل اکرام اللہ خان کے چھوٹے صاحبزادے اعظم اکرام ایک تعلیمی ادارے میں بطور استاد فرائض ادا کرتے ہیں۔ خود کرنل صاحب بھی فوج سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد مختلف تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کے فرائض ہی سرانجام دے رہے تھے جو وہ آخری دم تک دیتے رہے۔ صاحبزادے فرماتے ہیں ”ہم ان سے کہتے تھے“ اس عمر میں آپ کا کام کرنا ہمیں اچھا نہیں لگتا ” وہ فرماتے“ مسلمان کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتا وہ محنت کر کے کھانے کے عادی تھے اور گھر کے زیادہ تر اخراجات آج بھی انہی کی محنت کی کمائی سے پورے ہوتے تھے.... میں نے عرض کیا آپ کے والد فوج کے بڑے افسر تھے آپ نے کوئی بڑا عہدہ کیوں نہیں حاصل کر لیا کہ ہمارے اکثر جرنیل اور کرنیل ریٹائرمنٹ سے پہلے پہلے اپنی اولادوں کو کسی نہ کسی اعلیٰ عہدے پر بٹھا دیتے ہیں یا ان کے لئے کسی ایسی مل، فیکٹری یا کاروبار کا بندوبست کر دیتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ فکرِ معاش سے مکمل طور پر آزاد ہو جائیں۔ آپ کے لئے نری ”استادی“ کا انتخاب کیا گیا؟ فرمایا والدِ محترم سفارش کے سخت خلاف تھے اکثر فرماتے ”صلاحیت اور محنت کے بل بوتے پر زندگی گزارنے کا اپنا ہی لطف ہوتا ہے۔ ایک سادہ اور پاکیزہ زندگی سے خود بھی لطف اندوز ہوتے رہے اور ہمیں بھی ہمیشہ ایسی ہی زندگی گزارنے کی تلقین کی۔“ .... تو جناب اتنی سادہ اور درویش صفت شخصیت کے لواحقین سے امید کی جا سکتی ہے کہ باپ کی موت کو سیاست بازی کی نذر کر دیں؟ جی نہیں.... ان کی چیخ و پکار اس لئے جائز ہے کہ افسران سائیکل اور موٹرسائیکل سواروں کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔ جناب نوازشریف اپنے حکمران بھائی کے ساتھ مرحوم کے لواحقین سے تعزیت کرنے تشریف لے گئے تو ایک ایسا پسندیدہ عمل ہے جس سے لواحقین کا غم یقیناً غلط ہوا ہو گا ورنہ وہ یہی سمجھتے تھے اور پولیس کے رویے سے انہیں یقین بھی تھا کہ حکومت پنجاب ایک ”چہیتے افسر“ کو انسانیت سے زیادہ اہم سمجھتی ہے۔ جناب نوازشریف کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر انصاف کا عمل شروع کیا ہے تو اسے انجام تک پہنچائیں اور انجام ایسا ہو کہ افسران آئندہ سائیکل اور موٹر سائیکل سواروں کو بھی انسان سمجھنا شروع کر دیں اور کبھی کوئی ”بھیڑ بکری“ ان کی گاڑی تلے آ کر کچلی جائے تو اسے سڑک پر تڑپتا چھوڑ کر فرار ہونے کی جرات نہ کریں۔ اس قوم کو بہت سے ایسے چیف سیکرٹری مل جائیں گے جو اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ ایسا کرنل ہر گز نہیں ملے گا دوران سروس جس نے ناجائز تو کیا جائزہ فائدہ بھی نہ اٹھایا ہو۔ ایسے لوگ معاشرے کا حسن اور سرمایہ ہوتے ہیں اس حسن اور سرمائے سے محرومی پر پورا معاشرہ سوگوار ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں