وہ ردعمل تھا یہ ردی عمل ہے
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 4 فروری ، 2009
عراق میں امریکی صدر بش پر جوتا بازی کا بدلہ چینی وزیراعظم پر لندن میں جوتا پھینکنے کی صورت میں لیا گیا ہے۔ اس میں بھارت بھی بری طرح شامل ہے۔ اس علاقے میں امریکہ بھارت کو چین کا مدمقابل بنانا چاہتا ہے۔ بھارت امریکہ کی باتوں میں آکے سب کچھ کر رہا ہے۔ یہ اس کی تباہی کا سامان ہو رہا ہے۔ امریکہ دنیا میں چین کو اپنا مدمقابل سمجھتا ہے۔ ڈرتا وہ عالم اسلام سے بھی ہے۔ مگر مسلمان عوام کی نفرت کے باوجود مسلمان حکام امریکہ کے غلام ہیں۔ امریکہ ویسے انہیں جوتیاں مارتا رہتا ہے اور وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے ہیں۔ وہ اس کا بدلہ اپنے عوام کی جوتیاں مار کے لیتے ہیں۔
چینی وزیراعظم کیمرج یونیورسٹی لندن میں اقتصادی صورتحال کے حوالے سے خطاب کر رہے تھے۔ آج کل امریکہ میں اقتصادی بحران آیا ہوا ہے۔ اس کا غصہ بھی انہیں چین پر ہے۔ ایٹمی طاقت ہونے کے حوالے سے تو وہ مقابلے پر ہے۔ اب اقتصادی طاقت ہونے کی صورت میں بھی میدان میں ہے اور آگے نکلا جا رہا ہے۔ سوویت یونین کو پاکستان افغانستان اور عالم اسلام کے لوگوں سے امریکہ نے شکست دلائی اور اسے روس بنایا۔ سوویت یونین میں اقتصادی بحران اس کا بڑا سبب تھا۔ امریکہ چین کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنا چاہتا ہے مگر یہ نہ ہو سکے گا۔ پاک افغان سرحد پر امریکہ کی رسوائی اور پسپائی دنیا والوں پر ظاہر ہونے لگی ہے۔ ڈر ہے کہ امریکہ بھارت کو چین کے مقابلے میں لائے گا۔ یہ بھی نہیں ہو سکے گا۔ بھارت تو پاکستان کا مدمقابل نہیں بن سکا۔ پاکستانی حکمرانوں کی کمزوریوں اور مجبوریوں کے باوجود بھارت کچھ نہیں کر سکا تو چین کے مقابلے میں کیا کرلے گا۔
صدر بش کو جوتا مارنے والے بہادر صحافی منتظر زیدی کیلئے ساری دنیا منتظر ہے۔ وہ ہیرو ہے اور محبوب ہے۔ اس کے دلیرانہ اقدام سے ایک دلیرانہ فضا بھی پیدا ہوئی ہے۔ اس رسوائی کیلئے اس بھونڈے انداز میں نقالی کرنا مزید رسوا ہونے کی بات ہے۔ اب امریکہ کو کسی طرح کی رسوائی اور بے عزتی کی پروا نہیں۔
نجانے وہ کتنی ایجنسیوں کا آدمی ہے۔ امریکی بھارتی برطانوی اور اسرائیلی سازشوں نے مل کر یہ ڈرامہ تخلیق کیا ہے۔ عراقی صحافی نے تو عالم اسلام کی نفرت کی نمائندگی اور ترجمانی کی۔ یہ کس نفرت کی نمائندگی ہے۔ اس کا نام بھی سامنے نہیں آرہا۔ اس نے جوتا پھینکا جو لوگوں کے سر پر جا لگا۔ اس نے لوگوں سے کہا کہ آپ اس جھوٹ کو کس طرح سن رہے ہیں۔ یونیورسٹی نے چینی آمر کو یہاں بلا کر ماحول کو پراگندہ کیا ہے۔ اس نے سیٹی بجائی کسی نے اس کی بات کی طرف دھیان نہ دیا۔ کوئی اس سے پوچھے کہ صدر بش سے بڑا جھوٹا جابر اور آمر کوئی ہو گا۔ لندن میں پاکستانی آمر ’’صدر جنرل‘‘ پرویز مشرف آتا رہا ہے۔ اس کی طرف تو کسی نے جوتا نہیں پھینکا۔ امریکیوں نے بندوقیں تان کے لوگوں کو منع کیا۔ پاکستانیوں کے ساتھ اب امریکہ کی اجازت سے بھارت یہ بھی کرے گا۔ لہٰذا ہمارے سیاسی اور فوجی آمر اور جابر حکمرانوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی بے تحاشا اور غیر ضروری سیکورٹی میں یہ احتیاط بھی رکھیں کہ کوئی جوتیاں نہ پھینکے۔ یہ تو اب احتجاج کی ایک شکل ہے پہلے جلوسیوں اور احتجاجیوں یعنی مظاہرین کے ہاتھوں میں جھنڈے ہوتے تھے۔ بینرز ہوتے تھے۔ اب جوتیاں ہوتی ہیں۔ جوتیوں کے ہار لوگ ہاتھوں میں لئے سڑکوں پر پھریں گے اور جن لوگوں کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالنے کا رواج تھا انہیں جوتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے۔ شاید ایسا وقت بھی آجائے کہ حکمران اپنی گردن خود جوتیوں کا ہار پہننے کیلئے جھکا دیں۔ سر جھکانے والوں کیلئے یہ کام بھی کوئی مشکل نہیں ہو گا۔
چینی وزیراعظم کے ساتھ یہ واقعہ ہوا ہے تو بھارت کیلئے اب آسانی ہے کہ وہ پاکستان پر الزام لگا دے کہ چینی وزیراعظم پر جوتا پھینکنے کی سازش پاکستان میں دہشت گردوں نے تیار کی ہے۔ پاکستان اس معاملے میں بھی خاموشی اختیار کرے گا۔ جو کچھ بھارت پاکستان کے ساتھ کر رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں حکومت پاکستان کا رویہ ایک کمی کمین والا ہے۔ امریکہ کے بعد اب بھارت کی ہدایات پر پاکستان میں عمل ہو گا۔ جبکہ چین اور دنیا والے جانتے ہیں کہ یہ ساری کارروائی بھارت نے کروائی ہے اور اسے امریکہ کی امداد اور آشیرباد حاصل ہے۔
چینی وزیراعظم کے ساتھ اس واقعے کے بعد جوتا پھینکنے والے نوجوان کے ہمراہ تبت کے حوالے سے چین کی پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ تبت کے لوگوں کو چین سے آزادی حاصل کرنے کے بہانے تحریک چلائی جا رہی ہے اور پروپیگنڈا مہم جاری ہے۔ تبت کا جلاوطن لیڈر دلائی لامہ بھارت میں مسلسل مقیم ہے اور عیش کر رہا ہے۔ بھارت والے تبت والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا جو علاقہ چین میں ہے اسے آزاد کرالو۔ تم بھارت میں جس علاقے میں موجود ہو۔ وہ تمہیں تحفے میں میں دے دیا جائیگا۔
ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے بھی چین کے ساتھ بھارت دوستی کا ڈھونگ رچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے بھارت کو کسی تنقید کی پرواہ نہیں۔ کشمیر کی طرف سے بھی چین کی سرحد بھارت کے ساتھ ملتی ہے۔
چین نے جس طرح ایک سو برس کے بعد بغیر لڑے ہانگ کانگ لے لیا۔ وہ تائیوان اور تبت کیلئے بھی یہی پالیسی اپنائے ہوئے ہے مگر کوئی چینی وزیراعظم کی طرف جوتا پھینکے اور اسے بھی کسی مصلحت کی پالیسی کی نذر کر دیا جائے تو یہ بات بہت تکلیف دہ ہے۔ یہ واقعہ خدانخواستہ پاکستانی حکمران کے ساتھ پیش آیا ہوتا بھارت اسے ممبئی حملوں کے ساتھ جوڑ دیتا اور ہماری حکومت حسب معمول بزدلی کا مظاہرہ کرتی تو سمجھ میں آنے والی بات ہے مگر چین اس واقعے کو یونہی نہیں چھوڑے گا۔ اس میں امریکہ اور بھارت تو شامل ہیں۔ تھوڑا بہت برطانیہ کا حصہ بھی اس میں ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں