زرداری‘ گیلانی اور نواز شریف !

آفتاب اقبال ـ 3 جون ، 2009
ہمارا دوست عزیزی ناہنجار محض منحوس ہی نہیں بے حد خبیث بھی ہے۔ آج کل صبح شام اس کا موضوع سخن بس ایک ہی ہے کہ جمہوریت کو درپیش خطرات لگاتار بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ہمیشہ کی طرح آج بھی سوا سال کی مدت پوری کرتے ہی جمہوریت بیچاری ہانپنے اور کانپنے لگی ہے‘ بلکہ شاہراہ دستور پر چلتے چلتے اس بدنصیب کی ٹانگیں لگ چکی ہیں اور یہ کسی بھی دن کھانستی‘ پھنکارتی‘ اکھڑی سانسیں سنوارتی کسی بڑے سے برگد تلے جا بیٹھے گی۔ بہرحال‘ عزیزی ہی کی ایک اور اطلاع یہ بھی ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی تاحال پرفارمنس پر امریکی انتظامیہ اس قدر خوش و خرم ہے کہ ان کی صدارت کو اگلے دو سال کیلئے بلاشرکت غیرے تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے چنانچہ صدارتی کیمپ کی طرف سے اب تسلی رکھنی چاہئے۔ ویسے ماسوائے نواز لیگ کے ساتھ معاملہ بندی کے‘ آصف علی زرداری کی کارکردگی تقریباً ہر میدان میں خاصی تسلی بخش رہی ہے‘ امریکہ کی نظر میں پاکستان کا امیج بہتر کرنے میں حسین حقانی اور آصف زرداری کا بہت بڑا ہاتھ ہے‘ پرویز مشرف و ہمنوا کی پھیلائی دو نمبریت کا اثر بڑی تیزی کے ساتھ زائل ہو رہا ہے اور امریکہ ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ نہ صرف ہمدردی بلکہ اس کا اعتبار بھی کرنے لگا ہے‘ یہ اعتبار بحال کروانے میں زرداری صاحب کا کردار تاریخی نوعیت کا ہے اور یہ بات بذات خود کسی معجزے سے کم نہیں کہ زرداری صاحب اب دوسرے کا اعتماد بحال کرواتے پھرتے ہیں۔ سوات آپریشن کا فیصلہ انتہائی مشکل اور خطرناک تھا۔ یہ فیصلہ صرف زرداری جیسا شخص ہی کر سکتا تھا چنانچہ تقدیر نے ایک بار پھر موصوف کو ٹھیک وقت پر ٹھیک جگہ لا کھڑا کیا اور اس کا کریڈٹ تاریخ ہمیشہ اس انتہائی متنازعہ شخص کو دیتی ہی رہے گی‘ ہمیں یقین ہے کہ اگر آج بھی یہاں ’’مشرف عزیز‘‘ یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور حکومت قائم ہوتی تو سوات مالاکنڈ والا گند ایک بار پھر قالین کے نیچے سرکا دیتی اور واشنگٹن کو کسی نئے فراڈ کے ساتھ سمجھا بجھا دیتی مگر زرداری نے قائدانہ صلاحیتوں کے مکمل فقدان کے باوجود اپنے پتے بہت اچھے انداز میں کھیل کر اپنے کروڑوں ناقدین کو جھلاہٹ کے ساتھ ساتھ حیرت میں بھی مبتلا کر ڈالا ہے۔
تاہم لانگ مارچ کے بعد صدر آصف علی زرداری کو اب ایک اور دریا کا سامنا ہے کیونکہ مسائل کا ایک بڑا ریلا سترہویں ترمیم کی شکل میں ایوان صدر کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھتا نظر آتا ہے۔ پیپلز پارٹی کا سلسلہ مخول شخول جو پچھلے سوا سال سے جاری و ساری ہے‘ اس کی لاتعداد کڑیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بی بی مرحومہ کا پچیس سالہ تقریری و تحریری ریکارڈ گواہی دیتا ہے کہ وہ ہمیشہ پارلیمانی جمہوریت کے حق میں بات کرتی تھیں اور اپنے عظیم والد کے سیاسی نظریات کی روشنی میں اسی کو ہی وفاق کی مضبوطی قرار دیتی تھیں۔ زرداری صاحب بھی شروع شروع میں پارلیمانی جمہوریت ہی کی بات کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ صدارت سنبھالتے ہی چند اہم ترین امور طے کرکے بوقت ضرورت سترہویں ترمیم سے نجات حاصل کر لیں گے اور پھر اسی لمحے وزارت عظمی کا حلف اٹھا کر حاسدین کو ایک بار پھر چاروں شانے چت کر دیں گے مگر سید یوسف رضا گیلانی ان کی زندگی کا سب سے بڑا دھچکا ثابت ہوئے۔ بی بی کی موت سے بھی زیادہ بڑا دھچکا !
وزیراعظم نے فقط ایک ماہ کے اندر اندر ہی نہ صرف صدر زرداری کی خواہش اور عزائم کو پوری طرح سمجھ لیا بلکہ پہلے دستیاب موقع کو ہی غنیمت جان کر صدر پاکستان اور شریک چیئرمین پیپلز پارٹی کو وارننگ دے دی کہ سائیں‘ خبردار‘ میرے پیر پر پیر رکھنے کی کوشش ہرگز مت کرنا کیونکہ یہ جو کچھ اچانک بیٹھے بٹھائے تمہاری بنجر اور ویران جھولی میں آن گرا اور تمہیں زرداری سے صدر مملکت آصف علی زرداری بنا گیا‘ اسی طرح خوش بختی کا یہ کوٹہ میرے مقدر کا ہے جس نے مجھے قیدی نمبر تین سو تیرہ سے وزیراعظم پاکستان بنا دیا ہے چنانچہ اب اگر آپ قسمت کے اس چکر کے ساتھ پنگا لینے کی کوشش کریں گے تو یہ ہم میں سے کسی کے لئے‘ خصوصاً آپ کے لئے‘ اچھا نہ ہو گا۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ یہ موقع وہ تھا جب صدر مملکت کابل تشریف فرما تھے اور پیچھے سے جنرل (ر) محمود علی درانی نے اجمل قصاب بارے ایک سچا بیان دے کر یہاں کی بعض شتر بے مہار قوتوں کو پریشان کر دیا تھا ۔
اب سترہویں ترمیم اور صدارتی اختیارات کے خاتمے کا نعرہ مستانہ بلند ہونے کو ہے۔ اس حوالے سے نواز شریف کو مختلف حلقوں کی جانب سے سٹیٹس کو قائم رکھتے ہوئے وزارت عظمی کا حلف اٹھانے کی آفر بھی ہو چکی ہے مگر نواز شریف اتنے بھی بھولے بھالے نہیں کہ اگلے دو چار سال زرداری کی ’’سائیڈ کک‘‘ کے طور پر گزار لیں۔ وہ قومی حکومت میں مشروط شمولیت کا کوئی خفیہ سا اشارہ بعض امریکی اور پاکستانی دوستوں کو دے چکے ہیں اور شرط یہی ہے کہ سترہویں ترمیم ختم کرکے وزیراعظم کو بااختیار بنایا جائے۔
لطف کی بات یہ ہے کہ بی بی کے نظریات اور سیاسی تصورات کے برعکس آج صدارتی میڈیا اور دانشور اٹھتے بیٹھتے صدارتی نظام کی فضیلت بیان کرتے سنائی دیتے ہیں مگر افسوس کہ ان احباب کی دیگر قصہ خوانیوں کی طرح اس میں بھی قطعاًٰ تاثیر نہیں ہے۔ چند روز تک یہ سلسلہ شروع ہونے کو ہے۔ اگر قومی حکومت قائم ہو گئی اور زرداری چند اختیارات سے دستبرداری اختیار کر گئے تو پھر یوسف رضا گیلانی کی جگہ نواز شریف وزیراعظم کے روپ میں نظر آ سکتے ہیں‘ اور اگر یہ بیل منڈے نہ چڑھی تو پھر اسی بنگلہ دیشی ماڈل کا تذکرہ بار دیگر شروع ہو جائے گا۔ خطرہ پھر بھی گیلانی کو ہو گا‘ زرداری کو نہیں ! !
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں