مایوسی سرائیکی حکمرانوں کی کارکردگی سے
رفیق ڈوگر ـ 3 جون ، 2009
اگر یہ خبر درست ہے کہ دفاعی پیداوار کے وفاقی وزیر نے ملک کے مستقبل سے مایوسی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ ’’حالات اس موڑ پر پہنچ چکے ہیں کہ شاید آئندہ الیکشن کرانے کی نوبت ہی نہ آئے۔‘‘ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا شخص ملک کے دفاع سے متعلقہ شعبے کا وزیر رہنے کے قابل ہے؟ پریس کانفرنس کے دوران جب ان سے اس کی وضاحت کرنے کو کہا گیا تو فرمایا کہ ’’حالات مایوس کن ہیں میں خود پاکستان سے باہر منتقل ہو جانا چاہتا ہوں‘‘ ایک وفاقی وزیر کی طرف سے اس بیان اور اعلان کے بعد انہیں اس وزارت کا قلمدان سونپنے والے سے جو ہمارے صدر مکرم بھی ہیں اور چیف کمانڈر بھی ہوتے ہیں کیا یہ نہیں پوچھا جا سکتا کہ آپ کس مرض کی دوا ہیں۔ آپ کے وزیر آپ کے ملک کے مستقبل کے بارے میں مایوس ہوں تو یہ تو آپ سے مایوسی کا اظہار ہے کہ آپ نے ایک ایٹمی قوت کے حامل ملک کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ آپ کے وزیر دفاعی پیداوار نہ صرف ملک کے مستقبل سے مایوس ہیں بلکہ ملک سے باہر منتقل ہو جانے کے لئے سامان باندھے بیٹھے ہیں پھر تو ملک کو بچانے کے لئے اس قوم کو اور بھی بہت سوں کا سامان بندھوانا ہو گا۔ اس وزیر سے معلوم نہیں کسی نے یہ کیوں نہ پوچھا کہ قبلہ پھر دیر کیسی؟ جا کیوں نہیں رہے آپ؟ کیا وزارت سے پیداوار کا انتظار ہے؟ سرائیکی صوبہ بننا چاہئے یا نہ بننا چاہئے یہ تو تب سوچا جائے جب ملک کا نظام بہتر طور پر چلانے کے لئے ایسے فیصلے کرنا ہوں جب اس تحریک کے علمبردار ملک کے مستقبل سے ہی مایوس ہیں تو پھر ان کے مطالبے اور تحریک کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔ جو بھی کوئی اس ملک کی کسی وفاقی وزارت کا حلف اٹھاتا ہے وہ ملک سے وفاداری اور اس کی حفاظت کا حلف لیتا ہے اور اگر اس حلف سے بے وفائی کرتا ہے تو قومی جرم کا ارتکاب کرتا ہے کیا ایسا کوئی مجرم اس ملک کا ایک لمحہ کے لئے بھی وزیر رہنے کا حقدار ہے؟ اس کی کسی اسمبلی کا رکن ہو سکتا ہے؟ کیا عدالت عالیہ اس کے بارے میں خود نوٹس لے کر کوئی فیصلہ کرے گی تاکہ آئندہ ایسے کسی منصب پہ فائز کوئی شخص ایسی مایوسی پھیلانے کا قومی جرم نہ کر سکے؟ کیا صدر مکرم خود اس کا نوٹس لیں گے؟ کیا ملک کی وفاداری کا حلف لینے والے ارکان پارلیمنٹ میں سے کوئی اپنا یہ قومی فرض پورا کرے گا؟ قومی اسمبلی میں قوم سے اپنی وفاداری کے اظہار کے لئے یہ سوال اٹھائے گا کہ ایسا کوئی مایوس خاں جتوئی اس ملک کا وزیر ہو سکتا ہے؟ آصف علی زرداری کے اس پیداواری وزیر نے اس مایوسی کا اظہار کسی بند کمرے میں نہیں بھری پریس کانفرنس میں کیا تھا اس کے خلاف ایکشن بھی کھلا ہونا چاہئے تاکہ سب کو ثبوت مل جائے صدر مکرم کے اپنے اس ملک کے وفادار ہونے کا۔ کیا اس ماہر پیداوار سے پوچھا جا سکتا ہے کہ پنجاب سے مراد کیا ہے؟ پانچ پانی ہے پنجاب کا مطلب۔ یعنی وہ علاقہ جس میں پانچ دریا بہتے ہیں جیسے سندھ سے مراد وہ علاقہ ہے دریائے سندھ جس کے درمیان سے بہتا ہے۔ موجودہ انتظامی حوالے سے جس صوبے کا نام پنجاب ہے اس میں نسلی حوالے سے بلوچستان سے زیادہ نہیں تو اس کے برابر بلوچ آباد ہیں اس کے سرائیکی علاقہ سے تعلق رکھنے والے اس ملک اور صوبہ پر سب سے زیادہ حکمران رہے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کے سسر کی جمہوریت نوازی کی بدولت جب قائداعظمؒ کا پاکستان ٹوٹ گیا تھا اور وہ شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ ’’ادھر ہم ادھر تم‘‘ کی کامیابی کی منزل پر فائز ہو گیا تھا اس وقت سرائیکی تحریک نے اپنے سرائیکی عوام کے علاقوں کا جو نقشہ تقسیم کیا تھا اس میں لاڑکانہ بھی شامل تھا گویا بھٹو خاندان مستند سرائیکی ہے اس میں بلوچستان کا کچھ حصہ بھی سرائیکی دکھایا گیا تھا۔
صدر مکرم کی پی پی پی کی وزارت عظمٰی کے دوران اردو اکیڈمی بہاولپور کے شائع کردہ ’’دیوانِ فرید‘‘ کی رونمائی کے لئے وزیراعظم کے سسر اور صدر زرداری کے والد محترم حاکم علی زرداری نے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میں انہوں نے سرائیکیوں پر پنجابیوں کے مظالم کی بڑی دردناک صدارتی تقریر کی تھی وہ تقریر کر چکے تو مقررین میں سے ایک نے وہی دیوان کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا جس کے ’’اظہار تشکر‘‘ کے عنوان کے تحت اردو اکادمیٔ بہاولپور کے معتمد خاص شاہد حسن رضوی نے حکومت پنجاب کا شکریہ ادا کیا تھا جس کی دی رقم سے وہ دیوان فرید اشاعت کے مراحل طے کرتا کرتا حاکم علی زرداری تک پہنچا تھا۔ حاکم علی زرداری نے اس صدارتی تقریر میں نوازشریف کی حکومت پنجاب کے سرائیکیوں پر مظالم کے دکھ میں خون کے آنسوئوں سے لبریز تقریر کی تھی اس مقرر نے وہ اظہار تشکر سامعین کو بھی پڑھ کر سنا دیا تھا۔ حاکم علی زرداری نے اپنے کو سندھی کی بجائے سرائیکی بتایا تھا اس حوالے سے اس وقت ملک کے صدر‘ وزیراعظم‘ وزیر خارجہ‘ سپیکر قومی اسمبلی سب سرائیکی ہیں لیکن جو تعصب کے مرض میں اندھے ہو رہے ہوں انہیں کچھ بھی دکھائی نہیں دیا کرتا اس انتظامی خطہ میں جس کا نام دریائوں کی وجہ سے پنجاب ہے۔ صوبہ سرحد سے زیادہ نہیں تو اس کی تعداد کے برابر پٹھان رہتے ہیں۔ نئے پرانے۔ کراچی کے برابر اردو بولنے والے ہوں گے۔ آزادکشمیر کی آبادی کے برابر کشمیری ہوں گے تو وہ ہیں کون جن کے خلاف صدر مکرم کی رہنمائی میں تعصب کی یہ مہم چلائی جا رہی ہے؟ پنجاب کے دو صوبے بنا دئیے جائیں یا چار اس پر بات ہو سکتی ہے مگر کیا صرف پنجاب کے ہی؟ اور کیا کسی زبان کی بنیاد پر کوئی صوبہ ہے پہلے؟ ہے تو وہ کونسا ہے؟ کیا اتنا تعصب پھیلانے والا متعصب مریض کسی ملک کا وزیر ہو سکتا ہے؟ وہ بھی دفاع کے شعبے کا اس ملک کے دفاع کے شعبے کا جس کے مستقبل سے وہ مایوس ہو اور ملک سے چلے جانے کے لئے سامان باندھے بیٹھا ہو؟ تو دیر کس چیز کی ہے؟ مزید پیداوار کی؟ آپ کے سرائیکی سرپرست کے بہت سے محل ہیں باہر وہ آپ کو وزارت دے سکتے ہیں تو کوئی محل بھی دے سکتے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب بھی پیپلز پارٹی کی حکومت آتی ہے اس سرائیکی تعصب کی سرپرست کیوں ہوتی ہے؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں