پیپلز پارٹی اگلا الیکشن نہیں لڑے گی؟
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 3 فروری ، 2012
اگر پیپلز پارٹی کا ارادہ اگلا الیکشن لڑنے کا ہوتا تو یہ نہ ہوتا جو ہو رہا ہے۔ یہ الیکشن کا سال ہے مگر ان دنوں تو عوام کو ریلیف دینا چاہئے تھا۔ مگر الُٹا عوام کو مسلسل تکلیف میں رکھا جا رہا ہے۔ ”وزیراعظم“ کی صدارت میں کابینہ کا جو اجلاس ہوا ہے۔ اس میں اتحادی جماعتوں کے وزراءنے شدید احتجاج کیا ہے۔ ق لیگ کے وقاص اکرم نے تو واضح الفاظ میں کہا کہ ہم نے الیکشن بھی تو لڑنا ہے تو پیپلز پارٹی کے کئی وزرا نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔ وہ دل ہی دل میں کہہ رہے تھے کہ تم کس الیکشن کی بات کر رہے ہو، الیکشن تو ہوتا ہی نہیں ہے۔ کسی نے الیکشنوں کی بات کی تو ہم خود روک لیں گے۔ صدر زرداری کی قیادت میں ہم نے سارے سیاستدانوں کو چاروں شانے چت کیا ہے۔ پہلے نمبر پر دوسری بڑی پارٹی کے نوازشریف ہیں۔ ہم نے ہر موقع پر اُسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے۔ میمو گیٹ کیس میں وہ مدعی تھا تو اب اس مقدمے کا کیا بنا۔ ہم نے یعنی صدر زرداری نے ایک تیر سے چار شکار کئے ہیں۔ تیر ہمارا انتخابی نشان ہے۔ ہمارا انقلابی نشان ہے بس ایک اور شہادت کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ہم تیار ہیں۔ وزیراعظم گیلانی پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے۔ نوازشریف، جنرل کیانی، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور اکرم شیخ۔ اکرم شیخ کے اندر یہ چاروں موجود ہیں وہ ان تینوں کا وکیل ہے۔ چوتھا خود ہے بلکہ خود بخود ہے۔ ایم کیو ایم کے بابر غوری نے شیخ وقاص اکرم کی پوری تائید کی مگر اے این پی کا کوئی وزیر نہیں بولا۔ وہ صوبہ سرحد کا نام خیبر پختون خوا (خیبر پی کے) رکھوانے پر پیپلز پارٹی یعنی صدر زرداری کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتے۔ نام تو پختون خوا رکھا جانا تھا۔ خیبر کی ”سیاسی پخ“ نوازشریف نے لگوائی مگر اس کا یہ گناہ نہ ہزارے والوں نے معاف کیا ہے اور نہ پاکستان دوست کبھی معاف کریں گے۔ میرا تو یہ بھی خیال ہے کہ نوازشریف نے بھی آئندہ الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کر رکھا ہے ورنہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ کچھ اورہی کر رہے ہیں۔ آجکل نوازشریف کوئی بات مجید نظامی کی بھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ان کو اللہ یہ توفیق دیتا تو وہ بار بار صدر زرداری سے سیاسی مات نہ کھاتے۔ میمو گیٹ کے انجام پر ہم ان سے اظہار افسوس بھی نہیں کر سکتے۔
مدعی لاکھ ”بھلا“ چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
مگر ہمارے سیاستدان اور حکمران جرنیل اور جج نجانے کس کو خدا سمجھتے ہیں۔ وہ اس تمنا میں مبتلا ہیں کہ خدا کو کیا منظور نہیں ہے؟ شاید آجکل ہمارے ہر طرح کے حکومتی حلقوں اور ہر طرح کے اپوزیشن حلقوں کو صرف امریکہ کی خوشنودی منظور ہے۔
پٹرول کی قیمتوں کو بڑھانے کا یہ کون سا موقعہ تھا مگر میمو گیٹ کیس میں کامیابی کا کچھ تو جشن منانا چاہئے تھا۔ پہلے اس کام کے لئے راجہ پرویز اشرف کو رکھا ہوا تھا۔ آجکل یہ ڈیوٹی ڈاکٹر عاصم ادا کر رہے ہیں۔ ایک ایم بی بی ایس کو وزیر پٹرولیم لگانا بذات خود ایک سیاسی ”معرکہ“ ہے۔ وہ دبئی میں بھی صدر زرداری کے ساتھ تھا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ صدر میری وجہ سے صحت مند ہوئے ہیں۔ انہیں پاکستان لانے میں بحریہ ٹاﺅن والے ملک ریاض کے بعد ڈاکٹر عاصم کی کاوشیں شامل حال بلکہ شامل مستقبل ہیں۔ پنجاب میں آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم کے تحت شاندار گھر بھی ملک ریاض نے تعمیر کروا کے دئیے ہیں۔ دبئی سے صدر زرداری کی واپسی میں نوازشریف کو ملوث کرنے کی کامیاب کوشش بھی کی گئی ہے۔ اس کے لئے وزیراعظم گیلانی کی ”ذمہ دارانہ“ مفاہمتوں کا عمل دخل بھی ہے۔ نوازشریف پھر دھوکے میں آ گئے اور جرنیلوں کے خلاف بات کی۔ وزیراعظم گیلانی نے بات بنائی کہ ہم پر آرمی چیف کو معزول کرنے کے لئے زور دیا جا رہا ہے۔
سابق وزیر لوڈ شیڈنگ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پٹرول مہنگا ہو گیا ہے تو لوگ پیدل چلیں۔ راجہ صاحب پہل کریں۔ ان کی تو کار کا دروازہ بھی ڈرائیور کھولتا ہے۔ شوگر مہنگی ہوئی تو کسی صوبائی وزیر نے کہا تھا کہ شوگر کھانا صحت کے لئے اچھا نہیں۔ شوگر کھانا چھوڑ دیں۔ یہ بے روادارانہ سیاست کی انتہا ہے مگر بات ٹھیک ہے اگر عوام یہ تہیہ کر لیں کہ وہ شوگر کا استعمال چند مہینوں کے لئے چھوڑ دیں اور گاڑیاں چھوڑ کے پیدل چلنا شروع کریں تو پھر دیکھیں گے کہ کس طرح پٹرول شوگر اور دوسری چیزوں کی قیمتیں مہنگی کی جاتی ہیں۔ اب تو قیمت ہی جمع قیامت ہو گئی ہے اور ہر روز ایک نئی ”قیامت“ ٹوٹتی ہے۔ جب کسی چیز کی طلب ہی ختم ہو جاتی ہے تو اسے کس طرح بیچا جا سکتا ہے وہ تو مفت میں بھی کوئی نہیں لیتا۔ یہ تو ایک بات تھی راجہ پرویز اشرف بجلی کی مصنوعی لوڈ شیڈنگ کا ڈھونگ رچا کے رینٹل پاور پلانٹس خریدنے میں کامیاب ہوا۔ اُسے کروڑوں کا فائدہ ہوا جس میں وزیراعظم گیلانی اور دوسرے بھی شریک تھے۔ ایک بہت بڑے انجینئر نے مہر بخاری کے پروگرام میں وزیر سے کہا کہ منگلا ڈیم کچھ مدت کے لئے میرے سپرد کرو میں سات ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر کے دکھا دوں گا۔ آپ پوری طرح وسائل کو استعمال ہی نہیں کرتے۔ کرپشن اور پریشانی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ نجانے یہ حکومت والے کرنا کیا چاہتے ہیں۔ میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اب سیاست کو خیرباد کہا جا رہا ہے۔ ان کو یقین ہے کہ یہ کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونگے۔ یہ آخری موقعہ ہے۔ جسے وہ پہلے موقعے کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔ آپ اس بات سے اندازہ کریں کہ ”اوگرا“ نے وزارت پٹرولیم کو جو سمری بھیجی ہے اس میں اضافہ نہ کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس کے باوجود ڈاکٹر عاصم نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر عاصم تو کمپاﺅڈر بھی شکل سے نہیں لگتا۔ یہ بھی تحقیق کرنا چاہئے کہ پنجاب میں دواﺅں سے جو اموات ہوئی ہیں اس میں اس سیاسی ڈاکٹر کا عمل دخل تو نہیں اور شہباز شریف نے جس مرکزی اعلیٰ شخصیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ کیا وہ ڈاکٹر عاصم تو نہیں مگر اسے اعلیٰ شخصیت کسی صورت نہیں کہا جا سکتا۔ وزیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس نہیں لیا جائے گا تو کابینہ میٹنگ میں جو کمیٹی بنائی گئی ہے اس کا کام کیا ہو گا۔؟!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں