حکمرانی عذاب کی ایک اور قسط!

توفیق بٹ ـ 3 فروری ، 2010
گزشتہ کالم میں بھی یہی عرض کیا تھا عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والی ”سیاسی قوتیں“ ووٹ کی تھوڑی بہت لاج ضرور رکھتی ہیں۔ عوام کے ساتھ ایسا سلوک ہر گز نہیں کرتیں جس کی بنیاد پر عوام کو جمہوریت اور سیاست سے نفرت ہونے لگے۔ اتنی شدید کہ وہ بدترین آمریت کو بھی جمہوریت سے بہتر محسوس کرنے لگیں۔ سابقہ جرنیل حکمران کے گناہ بلاشبہ ناقابل معافی ہیں یہاں کوئی عدالت اسے سزا دینے کی جرات نہیں رکھتی تو ایک عدالت اللہ کی بھی ہے۔ جہاں کسی قسم کی ”وردی“ اثر انداز نہیں ہوتی۔ ایک سے بڑھ کر ایک سانحہ اس کے دور میں ہوا، یوں محسوس ہوتا تھا اقتداراس کا سلامت رہا تو پاکستان پر ایسے ایسے عذاب نازل ہوں گے جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی تسلیم کرے نہ کرے یہ حقیقت ہے اب عوام اس کے بدترین کارناموں پر لعنت بھیجتے ہیں تو موجودہ بے وردی حکمرانوں کی ”خصوصی مہربانیوں“ سے اسے یاد بھی کرتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے اقتدار کے دو سال گزر جانے کے باوجود بے وردی حکمران عوام کو کوئی ایسا ریلیف نہیں دے سکے جس پر وہ ”باوردی حکمران“ سے بہتر دکھائی دیتے!
ہم لکھنے والے اس آرزو میں مبتلا ہوتے ہیں کہ سیاسی حکومتوں کو اپنی آئینی مدت ہر حال میں پوری کرنا چاہئے۔ مگر سیاسی حکومتیں عوام دشمنی پر اتر آئیں، اس حد تک کہ زندگی موت سے زیادہ خوفناک دکھائی دینے لگے تو پھر عوام لکھنے والوں کی اس ”جمہوری خواہش“ کا احترام کیسے کریں گے؟۔ کل ایک قاری نے مجھے ایس ایم ایس کیا۔ اس نے سابقہ باوردی حکمران اور موجودہ بے وردی حکمرانوں کے ادوار کی قیمتوں پر تحقیق کی تھی۔ اس کا خیال تھا قلم کار بھی حکمرانوں کی طرح امیر کبیر ہوتے ہیں اور انہیں قیمتیں بڑھنے کا شاید اندازہ نہیں ہوتا لہٰذا اپنی تحقیق سے مجھے آگاہ کرکے اپنی طرف سے اس نے میری معلومات میں اضافہ کیا یا پھر شاید وہ مجھے شرمندہ کرنا چاہتا تھا کہ ہم بعض اوقات انتہائی غیر ضروری موضوعات میں الجھ جاتے ہیں اور ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ عوام کے اصل مسائل پر بھی کچھ لکھنا ہے۔ عوام کو شاید اندازہ نہیں کہ قلم کار بھی انہی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں جن سے عوام ہوتے ہیں۔ سبھی کے پاس لاتعداد بنگلے، گاڑیاں، نوکر چاکر اور فارم ہاﺅسز نہیں ہوتے۔ سبھی ”خفیہ ایجنسیوں“ سے رابطے اور تعلق کی بنیاد پر زندگی سہل بنانے کے ہنر سے آشنا نہیں ہوتے۔ سچ لکھنے والے قلم کاروں کو بھی حکمرانی عذاب اسی طرح برداشت کرنا پڑتے ہیں جیسے عوام کو کرنا پڑتے ہیں اور بار بار کرنا پڑتے ہیں!
جرنیلی عذاب نازل ہو تو ایک امید سی ہوتی ہے کہ اقتدار منتخب نمائندوں کے پاس آیا تو عوام کے دن پھر جائیں گے۔ اب تو یہ امید بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دم توڑ گئی کہ اقتدار منتخب نمائندوں کے پاس کئی بار آیا مگر عوام کے دن پھر بھی نہ پھر سکے۔ دن صرف حکمرانوں کے پھرے اور بار بار پھرے۔ اقتدار اور سیاست میں آنے سے پہلے کوئی لکھ پتی تھا تو اقتدار میں آنے کے بعد کروڑ پتی ہوگیا۔ کروڑ پتی تھا تو ارب پتی ہوگیا۔ ارب پتی تھا تو کھرب پتی ہوگیا اور کھرب پتی تھا تو پاکستان کے تیسرے نمبر کا بڑا دولت مند بن گیا یا پھر دوسرے بڑے نمبر کا۔ کسی کے پاس ایک فیکٹری تھی تو ایک سو دس ہوگئیں، کوئی سو ایکڑ کا مالک تھا تو سو مربعوں کا مالک بن گیا۔ کسی کی دو ملیں تھیں تو دو سو دس ہوگئیں۔ اور عوام؟؟؟۔ کسی کے پاس ایک لاکھ تھا تو اب ایک ہزار بھی نہیں ایک ہزار تھا تو اب ایک سو بھی نہیں۔ کسی کی دوکان تھی تو اب ریڑھی بھی نہیں۔ ریڑھی تھی تو چھابہ بھی نہیں.... تو جناب یہ ہیں اس جمہوریت کے ثمرات جس کا انتظار نو برسوں تک عوام اس امید پر کرتے رہے کہ اس کے بعد ان کے سارے مسائل پلک جھپکتے حل ہوجائیں گے۔ پاکستان میں کون سا حکمران ہے جس نے لوٹ مار نہیں کی، عوام کا حق نہیں مارا اور اپنے لئے اتنی آسانیاں پیدا نہیں کیں کہ ان کی آنے والی کئی نسلیں سونے کے نوالے بھی کھائیں تو ان کے خزانوں میں رتی بھر کمی واقع نہیں ہوسکتی؟۔ دوسری طرف عوام ہیں۔ ”حکمرانی عذاب“ سہہ سہہ کر اتنے لاغر کمزور اور بے بس ہو چکے ہیں کہ اب احتجاج کی سکت بھی نہیں رکھتے۔ ان کی اس کمزوری کا حکمران فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس وقت تک اٹھاتے رہیں گے جب تک یہ کمزوری ”طاقت“ میں نہیں بدل جاتی۔ اپنے حقوق کیلئے عوام جس روز سڑکوں پرنکل آئے، جس روز انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ اس ملک کے وسائل پر قابضین کی گردن دبوچنا ہے۔ اس ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے والوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالتا ہے ان سے برس ہا برس کی لوٹ مار کے حساب لینے ہیں.... یقین کیجئے اس روز قیمتیں یوں گرنا شروع ہو جائیں گی جیسے غریب لاچار اور مجبور عوام کے سر پربرس ہا برس سے آسمان گر رہا ہے!
کس قدر افسوس کا مقام ہے ابھی لوگ بجلی کے جھٹکوں سے سنبھل نہیں پائے تھے کہ ان پر”پیٹرول“ چھڑک دیا گیا۔ کئی سال پہلے عوام کے ”منتخب حکمرانوں“ نے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی تو ہم اس لئے خوفزدہ ہوگئے تھے کہ حکمرانوں کی ”نوسر بازیوں“ سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ کسی چیز کی قیمت ایک بار کم کریں تو دس بار ضرور بڑھاتے ہیں۔ سو اب اگر کسی چیز کی قیمت کم ہو تو خوف آنے لگتا ہے۔ ایک زمانہ تھا عوام کے مسائل کے حوالے سے اپوزیشن کا کردار بڑا طاقتور اور مﺅثر ہوتا تھا۔ حکمرانوں کو ڈر ہوتا تھا عوام دشمن فیصلے کئے تو اپوزیشن ان کے راستے کی بڑی دیوار ہوگی۔ موجودہ اپوزیشن اتنی ”مجبور“ ہے دیوار تو کیا حکمرانوں کے عوام دشمن فیصلوں کے آگے روڑہ تک اٹکانے کی جرا¿ت نہیں کرتی۔ اب جیسے حکمران ہیں ویسی اپوزیشن۔ حکمرانی اور اپوزیشنی میں رتی بھر فرق نہیں رہا۔ اپوزیشن حکمرانوں کے ساتھ جتنی فرینڈلی اور عوام کے ساتھ جتنی ”ان فرینڈلی“ آج ہے اس سے قبل کبھی نہ تھی۔ ظاہر ہے جب اپوزیشن راہنماﺅں کے ”ذاتی مسائل“ ان کی مرضی اور خواہشات کے مطابق حل ہوتے رہیں گے تو عوام کے مسائل حل ہوں نہ ہوں انہیں فرق کیا پڑتا ہے؟ ویسے بھی اپوزیشن کا مطالبہ صرف جج بحال کرنے کا تھا۔ اسے معلوم تھا ججوں کی بحالی کے بعد اس کے سارے ذاتی مسائل خودبخود حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ شاید اسی لئے ہی فرمایا گیا تھا”زرداری صاحب آپ ججوں کو بحال کردیں اس کے بعد ہم آپ سے کوئی مطالبہ نہیں کریں گے۔“ سو ججوں کی بحالی کے بعد عوام کی بے حالی پر وہ اب کیا مطالبہ کریں؟ مگر صوبے کے اقتدار کی خاطر مرکز کو عوام دشمن فیصلے کرنے کی کھلی چھٹی عنایت فرمانے والی اپوزیشن یاد رکھے عوام کی نظروں میں اس کی پوزیشن بھی تیزی سے گرتی جا رہی ہے۔ اتنی کہ عوام اب حکمرانوں اور اپوزیشن کو ایک ہی نظر سے دیکھنے لگے ہیں!
ہم تو اس پر بھی خوفزدہ ہیں کہیںپیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کا عدلیہ نوٹس نہ لے لے کہ اس سے قبل چینی کی قیمتیں بڑھنے کا نوٹس لیا گیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا چینی چالیس روپے سے اسّی روپے کلو ہوگئی اور ملتی بھی نہیں۔ اب اگر پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کا بھی نوٹس لے لیا گیا تو ممکن ہے آج پیٹرول 72 روپے لیٹر ہے تو کل ایک سو بہتر روپے لیٹر ہو اور اس کے بعد ملنا بھی بند ہوجائے۔ سی این جی پہلے ہی بند ہو چکی ہے حالانکہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے عدلیہ نے اس کا نوٹس بھی نہیں لیاتھا۔ اس صورتحال کے باوجود سرکار کا یہ نعرہ مستانہ جاری رہے گا کہ ”ہم عدلیہ کا بڑا احترام کرتے ہیں۔“ کاش عدلیہ بھی سرکار کا ویسا ہی ”احترام“ کرنا شروع کردے جیسا سرکار کرتی ہے!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں