حکمراں‘ قوم کے دکھ درد کو کب جانتے ہیں
راستے عیش کے جتنے ہیں وہ سب جانتے ہیں
ان کو ہر طرح سے ہے کیش کمانا آتا
ہیرا پھیری کے الٹ پھیر کے ڈھب جانتے ہیں
کیوں کریں حفظ تقدم وہ تباہی کا جناب
وہ تو آفت کو کمائی کا سبب جانتے ہیں
بانٹنا مال غنیمت ہو تو لڑ پڑتے ہیں
اور مل بانٹ کے کھا لینا ہے کب جانتے ہیں
سامنے لوگوں کے ہے ان کی کمائی لٹتی!
لوگ خاموش ہیں حالانکہ کہ وہ سب جانتے ہیں
قوم جیسی ہے تو ہیں ویسے مسلط حاکم
چور جتنے بھی ہیں موروں کا کسب جانتے ہیں
”میچ فکسنگ“ کہاں آسانی سے ہو پاتی ہے
اس میں پوشیدہ مراحل کو بھی سب جانتے ہیں
اسے معلوم تھا سب ”وینا ملک“ کہتی ہے
پردہ پوشی کا تھا اب تک جو سبب جانتے ہیں
دیں گواہی وہ جو آگاہ ہر اک راز سے ہیں
کھل نہیں پائیں گے کچھ لوگوں کے لب‘ جانتے ہیں
حسن جاناں پہ فدا ہو کے خفا ہو جانا
ہے سبب اس کا بھی کیا حسن طلب جانتے ہیں
وہ جو انگار جمع کرتے ہیں پائیں گے عذاب
کیوں دبی آگ کو وہ رحمت رب جانتے ہیں
نذر سیلاب زدہ کر دیں جہنم کی آگ
وہ جو انجام سے انجان تھے اب جانتے ہیں