پابندیاں اور فتوے۔۔۔؟
طیبہ ضیاء ـ 2 ستمبر ، 2010
جب کسی کا کسی پر زور نہیں چلتا تو وہ اسلام پر غصہ نکال لیتا ہے۔جب حلا ل و حرام ،جائز وناجائز ثابت کرنے کی جرات نہیں ہوتی تو فتووں سے انا کو تسکین پہنچا لیتا ہے۔ سیر سپاٹے۔۔۔عیش و مستی۔۔۔اسراف۔۔۔ کوئی پابندی نہ فتویٰ۔۔۔؟ ملک میں زلزلہ آ جائے یا سیلاب۔۔۔ نفلی حج اور عمروں کے خلاف فتویٰ صادر ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں افطار پارٹیاں جاری ہیں۔ شادیوں کی مکمل تیاریاں ہیں۔تقریبات پر فضول خرچیاں جوں کی توں جاری ہیں۔ خریداریاں کم ہوتی ہیں اور نہ ہی ہزاروں خواہشوں کو لگام دی جا سکتی ہے۔ عرس شریف۔۔۔ گیارہویں شریف۔۔۔میلاد شریف۔۔۔ ختم شریف۔۔۔ تمام طرح کی مذہبی و دنیاوی تقریبات اور اجتماعات پر دل کھول کر خرچ ہو تا ہے۔۔۔۔ کوئی فتویٰ ہے نہ پابندی۔۔۔؟ البتہ۔۔۔ ”نفلی حج اور عمرے پر جانے کی بجائے وہ رقم سیلاب فنڈز میں جمع کرانی چاہئے“۔۔۔ بات خوبصورت ہے مگرصرف حج اور عمرہ ہی کیوں۔۔۔؟جس کا بلاوا آجائے وہ تو جا کر ہی رہتاہے۔ اسے کوئی سیلاب روک سکتا اور نہ زلزلہ۔۔۔جو اللہ کے گھر جانے کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ اللہ کی راہ میں دینے کی توفیق بھی رکھتا ہے۔کوئی زبردستی کسی کی جیب سے امداد نہیں نکلوا سکتا ۔آج نفلی حج اور عمروں کا رخ سیلاب کی جانب موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے توکل عید قرباں ” چھری تلے “ہو گی۔جانور قربان کرنے کی بجائے وہ رقم سیلاب فنڈ میں جمع کرا نا چاہئے۔۔۔؟بے شمارجانور سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں اورجو بچ گئے ہیں ان کی قیمتیں ساتویں آسمان پر ہونگی لہذا قربانی کا جواز بھی جاتا رہے گا ۔۔ ۔ ایک امریکی مسلمان نے پاکستانی علماءکے فتویٰ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ میں سیلاب کے لئے عطیات دے چکا ہوں، اب اگر عمرے پر جانے کا ارادہ ملتوی کرتا ہوں تو ضروری نہیں کہ وہ رقم بھی عطیہ کر سکوں کہ میں ایک گناہگار بندہ ہوں کوئی عالم نہیں۔۔۔!راہ خدا میں وہی مال ہوتاہے جو خوشی سے دیا جائے اور خوشی سے دینے کے لئے اللہ کے ساتھ تعلق درکار ہے فتویٰ نہیں۔اللہ اپنے بندوں کے سجدے اور مال قبول فرمالیںوگرنہ ڈالروں کے پہاڑ بھی لگا دئے جائیں تو آفات بے قابوہیں۔ جب تک اندر کے حال درست نہیں ہوتے باہر کے حال بد سے بدتر ہوتے چلے جائیں گے۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔۔۔ سی این این امریکی چینل کے نمائندے ڈاکٹر سنجے گپتا کی جانب سے جو سیلاب زدگان کی خصوصی رپورٹنگ کے سلسلے میں آجکل پاکستان آیا ہواہے سی این این پرمتاثرین سیلاب کی فلمیں اور تصاویر دکھائی جارہی ہیں۔ ڈاکٹر سنجے گپتا متاثرین کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کر رہاہے۔وبائی امراض کے بارے میں فکر مندی کا اظہار کر رہاہے۔امداد سے متعلقہ بے ایمانیوں کو بھی ہائی لائٹ کر رہاہے۔لوگ امریکہ سے جا کر کام کر رہے ہیں ۔فلمیں بنا رہے ہیں۔ تصاویر دکھا رہے ہیں۔ہیلری کلنٹن نے فنڈ ریزنگ کے لئے ویب سائٹ بنا رکھی ہے جس پر پانچ یا دس ڈالر جمع کرائیں تو قطرہ قطرہ دریا اور پھر سمندر بن سکتا ہے۔لیکن۔۔۔ نیویارک میں پاکستانی سفارتخانے کے پاس اپنی تصاویر کے علاوہ کچھ موجود نہیں ہوتا۔ ان کے پاس تو قومی ترانہ بھی بر وقت دستیاب نہیں ہو تا۔صدر پاکستان سٹیج پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں اور تقریر کر نے کے بعد رخصت بھی ہو جاتے ہیں مگر قومی ترانہ نہیں بجایا جاتا کہ ”سی ڈی“ دستیاب نہیں تھی۔ انتظامیہ بوکھلائی رہتی ہے مگر جہاں اپنی صورت اور آواز کی پروجیکشن کا موقع مل جائے تو آصف زرداری بن جاتے ہیں۔ ایک ہندو امریکہ سے پاکستان جا کر سیلاب زدگان کی جو منظر کشی کر رہاہے اسے دیکھ کر نیویارک میں پاکستانی سفارتخانے والوں کو سیلاب کے پانی میں ڈوب مرنا چاہئے ۔گزشتہ کالم میں بھی اس افسوسناک واقعہ کا ذکر کر چکی ہوں۔ اس واقعہ نے پاکستانی کمیونٹی کے دل پر چھریاں چلا دی ہیں۔ نیویارک کے ٹائمز سکوائر کے علاقے میں ایک بلند وبالا عمارت پر نصب بڑی سکرین پر سیلاب کی تباہ کاریوں کی فلم دکھانے کی بجائے قونصل جنرل نے اپنی تصاویر چلوادیں ۔اس سکرین پر شام چار سے پانچ بجے کے دوران چلائے جانے والے اشتہار کا کرایہ پانچ ہزار ڈالر فی گھنٹہ ہے جبکہ سیلاب زدگان کی خاطر فنڈ ریزنگ کے لئے پاکستان کو ایک گھنٹہ کا یہ قیمتی وقت مفت دیا گیاتھا۔وہ ایک گھنٹہ جو کبھی واپس نہیں آسکتااور جس کے دوران پاکستان کی دردناک تصویر کشی کی جا سکتی تھی ،لاکھو ں ڈالر اکٹھے کئے جا سکتے تھے، قونصل جنرل نے خود نمائی اور سیلف پروموشن میں برباد کر دیا۔ خودپاکستانی اپنے قونصل جنرل کے نام اور صورت سے آشنا نہیں ہیں ، گوروں کو کیا دلچسپی ہے ؟کاش وہ ایک گھنٹہ ڈاکٹر سنجے گپتا یا ہیلری کلنٹن کو دے دیا جاتا تو وہ اس کا جائز اور موثراستعمال کر سکتے تھے۔مین ہٹن کے جس مقام پر یہ سکرین نصب ہے وہاں لوگ ہجوم کی صورت میں جمع ہوتے ہیں اور سکرین اس علاقے کی شمع محفل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اگر اس ایک گھنٹے کے دوران سی این این کے سنجے گپتا کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں پر مبنی فلم دکھائی جاتی تو پاکستان کےلئے فنڈز اور ہمدردیاں اکٹھی کی جا سکتی تھیں مگر پاکستان ہمدردیوں سے بھی محروم ہو تا جا رہاہے۔۔۔اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔۔۔! ایک ذمہ دار امریکی عہدیدار نے کہا کہ ہم لوگ احمق ہیں جنہوں نے ایک گھنٹہ کسی اشتہار والی کمپنی کو دینے کی بجائے پاکستانیوں کو مفت میں دے کر ضائع کر دیا۔ پاکستان کو ڈاکٹر سنجے گپتا کی ہمدردیاں زیادہ عزیز ہیں جو اپنے چینل کے توسط سے پوری دنیا کو دکھا رہاہے وگرنہ پاکستان اب شاید ہمدردیوں کے لائق بھی نہیں رہا اوراس کا سبب اس کے اپنے ہیں وہ خواہ سفارتکار ہوں، کھلاڑی ہوں،سیالکوٹی ہوں،سندھی ہوں،بلوچی ہوں ، ،لاہوری ہوں ، پشوری ہوں۔۔۔ہر کوئی بے حسی کے سیلاب میں بہا چلا جا رہاہے ۔۔۔ہم کہتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کو استعمال کر رہاہے۔۔۔مگر یہ دیکھ کر کہ پاکستانی خود استعمال ہورہے ہیں۔۔۔ آنسو لہو بن کر چھلکنے لگتے ہیں۔۔۔اور پلکوں کو راکھ بنا دیتے ہیں۔۔۔ اور راکھ سے چار سو اندھیرے ہی اندھیرے دکھائی دیتے ہیں!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں