سیلاب، عذاب، ثواب اور احباب!

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 2 ستمبر ، 2010
اس سے مجھے اتفاق نہیں کہ سیلاب زدگان کے لئے لوگ اس طرح نہیں نکلے جیسے زلزلہ زدگان کیلئے نکلے تھے، معاشرے میں سفاک اور بے درد کلوٹے بھی ہیں اور دل زدگان بھی ہیں۔ صوفیہ بیدار کہہ رہی تھی کہ ہمارے تو اندر زلزلے آتے رہتے ہیں ، یہ سچ ہے کہ ہم تو وہ لوگ ہیں جو اپنے آنسووں میں ڈوب جاتے ہیں مگر غرق نہیں ہوتے
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
اس بار ادیبوں شاعروں نے زیادہ سرگرمی دکھائی ہے شاعر حسین مجروح تو پاگلوں کی طرح بھاگا پھرتاہے۔ عطاءالحق قاسمی نے آغاز کیا۔ اصغر ندیم سید اور وصی شاہ نے اس کا ساتھ دیا۔ الحمرا آرٹس کونسل کی طرف سے مشاعرہ ہوا۔ برادرم زلفی کی بھاگ دوڑ بھی قابل ذکر ہے بڑا مشاعرہ ہوا شاعروں نے بڑے جذبے سے شاعری سنائی۔ اہتمام عطا الحق قاسمی کا تھا۔ امید ہے کہ 25 لاکھ تک چیف منسٹر کے فنڈ میں جمع کرایا جائے گا۔
پنجابی ادبی انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے پنجابی شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ طارق آفریدی کی ہدایت پر ڈاکٹر صغریٰ صدف اور خاقان حیدر عباسی نے دن رات ایک کر رکھاہے۔ پنجابی کمپلیکس کی طرف سے پچاس لاکھ کے فنڈز اور اشیائے ضرورت شعیب بن عزیز کے کہنے کے مطابق چیف منسٹر فنڈ میں جمع کرائے جا رہے ہیں۔ آرٹس کونسل اور پنجابی انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے یہ خدمت قابل تعریف ہے اس سے پہلے شعرو ادب کے علاقے کے لوگ اس مستعدی سے سامنے نہیں آئے تھے۔ 65ءکی جنگ ستمبر کے میدان میں ایک نیا جوش و خروش ہے۔ پی ٹی وی پر پنجابی کے کئی نعتیہ مشاعرے ہوئے ان کا معیار اردو نعتیہ مشاعرے سے کہیںاعلیٰ تھا جب بھی کسی شاعر پروڈیوسر کو یہ کام سونپا جاتا ہے تو کام خراب ہوتا ہے ۔ پی ٹی وی سیلاب زدگان کے لئے بھی خاص پروگرام کرا رہا ہے مشاعرے کے لئے ممتاز شاعر ناصر زیدی کی کمپیئرنگ اچھی تھی۔
آنکھوں کے بڑے ڈاکٹر اسد اسلم کی دردمندی اور ہنرمندی غریبوں اور خوش نصیبوں کے لئے یکساں قابل قدر ہے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور میوہسپتال کے اشتراک سے سیلاب زدگان کے لئے مسلسل ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھجوائی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر زاہد ہرموقع پر خود ہسپتال میں موجود ہوتے ہیں اب تک 70 ڈاکٹر سیلاب زدہ علاقوں کی طرف جا چکے ہیں جن میں کئی سینئرڈاکٹروں سمیت پروفیسر ڈاکٹر ارشاد اور ڈاکٹر گوندل بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر پروفیسر اسد اسلم کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ہو گئے ہیں ان سے امید ہے کہ میو ہسپتال کے آئی انسٹی ٹیوٹ کی طرح میڈیکل یونیورسٹی کے لئے بھی وہ اسی لگن سے کام کریں گے۔ ڈاکٹر جاوید اکرم نے علامہ اقبال میڈیکل کالج کو ایک بہترین ادارہ بنا دیا ہے ۔ کے ای میڈیکل یونیورسٹی کے لئے وائس چانسلر کا انتخاب ہونے والا ہے کوئی دل والا ڈاکٹر پروفیسر آنا چاہیے ۔ڈاکٹر جاوید اکرم اور ڈاکٹر محمد حسن خود بھی سیلاب زدہ بستیوں میں جا چکے ہیں۔ مظفر گڑھ میں دو ہسپتال بھی عارضی طور پر قائم کئے گئے ہیں۔ ایک ارب روپے کی دوائیں تقسیم کی جا چکی ہیں۔ آرتھو پیڈک ڈاکٹر ضیا باجوہ نے اپنے ڈاکٹر بیٹے کو ایک ٹرک کے ساتھ بھیجا ہے وہ خود بھی جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر جاوید اکرم نے تجویز پیش کی ہے کہ پینے اور نہانے کے لئے ٹیوب ویل لگائے جائیں تاکہ لوگوں کو صاف پانی مل سکے۔ سیکرٹری صحت فواد حسن فواد بیورو کریٹ ہیں مگر وہ پوری طرح اس مصیبت کی گھڑی میں شریک ہیں۔ ادیبوں کی طرح ڈاکٹروں نے بھی اس بار پورے جذبے سے اپنے ہونے کا ثبوت دیا ہے۔
میں نے سکاوٹنگ کی اہمیت کے حوالے سے دکھ کا اظہار کیا تھا کہ وہ سیلاب زدگان کے لئے بہتر خدمات انجام دے سکتے تھے مگر بہت کم نظر آئے ہیں اس پر مجھے کئی لوگوں نے رابطہ کرکے کہا کہ اس تنظیم کو پوری طرح سرگرم ہونا چاہیے۔ کچھ لوگوں نے نوائے وقت کے دفتر آ کے بتایا کہ سکاوٹ مختلف جگہوں پر کام کر رہے ہیں اور ان کا کام نظر بھی آ رہا ہے ۔ ایک بزرگ ریٹائرڈ سکاوٹ کی طرف سے جو اعتراضات تھے ان کی بھی تردید کی گئی ہے کہ ان کی معلومات پوری طرح ٹھیک نہیں ہیں۔ سکاوٹنگ زندہ ہے اور کام بھی ہو رہا ہے سیلاب زدگان کی امداد و بحالی کے لئے اس تنظیم کی کاوشیں قابل تحسین ہیں مگر اسے پہلے کی طرح مستعد ہونا چاہیے تعلیمی اداروں میں بھی یہ روایت زندہ کرنا چاہیے۔
نعمان قادر بڑے جذبے والا نوجوان ہے مذہبی روایات کا پاسدار ہے۔ پچھلے دس سال سے اُمید فاونڈیشن کے پلیٹ فارم سے محروم اور مایوس لوگوں کے لئے امید کے چراغ جلا رہا ہے۔ سیلاب زدگان کو اپنے ادارے میں پناہ دے کر خدمت خلق کر رہا ہے اس نے اپنا رابطہ نمبر بھی لکھا ہے 0331-4403420 ۔ چیئرمین اُمید فاونڈیشن نعمان قادرکا تعلق لیہ سے ہے وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے لئے خاص منصوبہ بندی سے کام کر رہا ہے۔ مجھے برادرم اور نگزیب برکی نے بتایا کہ وہ لاہور سے لیہ تک سڑک کے ذریعے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے ساتھ گئے ہیں۔ سلمان تاثیر نے بھی فون پر مجھ سے بات کی اور کہا ہم اپنے لوگوں کے لئے دل و جاںسے حاضر ہیں ہمیں امید ہے کہ کچھ دنوں تک معاملات بہتر ہو جائیں گے۔ چیئرمین متروکہ املاک بورڈ آصف ہاشمی نے ایک کروڑ سے زیادہ فنڈز وزیراعظم کو پیش کئے ہیں۔
میانوالی کے دورے پر شہبازشریف کئی دفعہ جا چکے ہیں۔ ایم پی اے علی حیدر نور نیازی بھی ان کے ساتھ ہوتے ہیں لوگوں کی دلجوئی اور دلداری ہو رہی ہے۔ میانوالی سے ممتاز صحافی محمود الحسن نے بتایا ہے کہ اسلام آباد سے ایس کے نیازی نے کئی ٹرک میانوالی میں صاحبزادہ عبدالمالک کی معرفت بھجوائے ہیں۔ ڈاکٹر شیرافگن نیازی بھی جنرل مشرف کی طرف سے بھجوائے گئے فنڈز سے کام شروع کرنے والے ہیں۔ عبید نور ہسپتال کی طرف سے ڈاکٹر قیصر نے نامور محبوب گلوکار عطاءاللہ خیلوی کو بلوا کے تقریب کی ۔ وہ بازار میں جھولی پھیلا کر ایک ایک دکان پر گیا اور تقریباً بارہ لاکھ روپے اکٹھے کئے۔ میانوالی کے لوگ اپنے عالمی شہرت کے فنکار لالے دی جان عطاءاللہ سے پیار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر قیصر نے راشن اور امداد خود عیسیٰ خیل کے سیلاب زدگان تک پہنچائی ہے۔
بھانویں وسیں توں ولائت
اساں کرنی نہیں رعائت
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں