میمو گیٹ ماموں گیٹ بن گیا؟
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 2 فروری ، 2012
میں نے بہت پہلے لکھ دیا تھا کہ حسین حقانی اور منصور اعجاز دونوں صدر زرداری کے دوست ہیں۔ دونوں امریکی ایجنٹ ہیں۔ دونوں نے امریکہ میں رہنا ہے تو ہم اس مقدمے میں سے کیا نکالنا چاہتے ہیں۔ منصور اعجاز نے تو پاک فوج آئی ایس آئی اور نوازشریف کے خلاف بھی باتیں کی ہیں۔ اس نے تو یہ بھی کہا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کی باعزت رہائی میں حکومت پاکستان آئی ایس آئی اور پنجاب حکومت نے ایک جیسا کردار ادا کیا ہے۔ اس کے بارے میں نوازشریف بذات خود بنفس نفیس سپریم کورٹ گئے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ منصور اعجاز سچا ہے۔ وہ اپنے وکیل بھی خود تھے۔ اس دن سپریم کورٹ نے ان کے دلائل سے متاثر ہو کر فوری طور پر جو کچھ کہا تو اب نوازشریف کو سیاست چھوڑ کر وکالت اختیار کر لینا چاہئے۔ جنرل کیانی اور جنرل پاشا نے اپنے جوابات میں یہ ثابت کیا کہ میمو گیٹ ایک حقیقت ہے جو بعد میں تلخ حقیقت بن گئی ہے۔ وزیراعظم گیلانی کو یہ ہمت بھی ہوئی کہ اس نے دونوں جرنیلوں کے اس عدالتی اقدام کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ پھر حسب معمول بلکہ ”حسب معمولی“ یہ بات واپس لے لی۔ مگر ایسی بات کہنے کی جرات پہلے کبھی آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کے خلاف کسی کو نہ ہوئی تھی۔ ججوں نے تو مارشل لا کو بھی آئینی قرار دیا۔ یہ تذلیل گستاخی یا بدتمیزی بھی میمو گیٹ سازش کا شاخسانہ ہے اور یہ کبھی برداشت نہ کی جائے گی۔ اس حوالے سے ممتاز اور دلیر صحافی روزنامہ نیشن کے ایڈیٹر جناب سلیم بخاری سے بھی بات ہوئی۔ ہم دونوں دل کی بھڑاس نکالتے رہے مگر ہماری پیاس بجھی نہیں۔ ابتدائی طور پر اس معاملے میں چار نام آئے۔ حسین حقانی‘ منصور اعجاز‘ صدر زرداری اور مائیک مولن‘ حسین حقانی کہنے کو تو امریکہ میں پاکستانی سفیر تھا مگر لوگ اسے امریکی سفیر سمجھتے تھے۔ اس نے پاکستان میں امریکی سفیر سے زیادہ امریکی مفادات کا خیال رکھا۔ امریکی مفادات کا مطلب پاکستان کے خلاف سازشیں ہوتا ہے۔ منصور اعجاز ایک بدنام انسان ہے۔ اس نے کئی مسلمان ملکوں کو امریکہ کے نرغے بلکہ جپھے میں لانے کیلئے بہت کامیاب یعنی منفی خدمات سرانجام دی ہیں۔ وہ میمو گیٹ سازش کے حوالے سے مسلسل کہتا رہا ہے کہ میں امریکی مفادات کی پاسداری کروں گا۔ ایک لفظ اس نے پاکستان کیلئے ایسا استعمال نہیں کیا جسے غیر دوستانہ کے علاوہ کچھ نہ کہا جا سکے۔ پہلے اپنی گواہی کو ایک سچائی ثابت کیا اور پھر گواہی کو جگ ہنسائی بنا دیا۔ اس معاملے میں اس کے سیاسی وکیل اکرم شیخ نے معاملے کو الجھانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ پیپلز پارٹی والے تو بیان دینے پر مجبور تھے۔ اکرم شیخ کو کیا مجبوری تھی۔ کیا اسے فیس کے پیسے پورے نہیں ملے تھے۔ وکیل اپنے موکل کا کیس عدالتوں میں لڑتے تھے اب عدالتوں کے باہر انہوں نے میڈیا عدالتیں لگا لی ہیں۔ عدالتی ٹرائل تو تھا ہی۔ اب عدالتوں اور میڈیا عدالتوں میں فرق مٹتا جا رہا ہے۔ منصور اعجاز کا پروٹوکول اور سکیورٹی کیلئے امریکی صدر سے بھی زیادہ کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ اکرم شیخ کا یہ بیان بہت مضحکہ خیز تھا کہ منصور کی سکیورٹی کیلئے ایک بٹالین فوج کی ضرورت ہے۔ اس کہانی کے پیچھے بھی امریکہ پوری طرح موجود رہا ہے تاکہ پاک فوج‘ آئی ایس آئی اور سپریم کورٹ کو ذلیل کیا جائے اور وہ اس مقصد میں بہت حد تک کامیاب رہا۔ اس مقدمے کا فیصلہ یہ ہوا ہے کہ منصور اعجاز آیا نہیں اور حسین حقانی چلا گیا ہے۔ کہا گیا کہ حسین حقانی اپنے ملک واپس چلا گیا ہے۔ یہاں تو وہ سفارتی دورے پر آیا تھا جو عدالتی دورہ بن گیا۔ یہ بھی سنا ہے کہ امریکہ سے کہا گیا ہم نے آپ کے جاسوس اور قاتل ریمنڈ ڈیوس کو باعزت رخصت کیا۔ آپ ہمارے حسین حقانی کو نہیں بچا سکتے جبکہ یہ ہم سے آپ کا زیادہ ہے۔
عاصمہ جہانگیر نے ایک ”وکالتی راز“ کو افشا کیا کہ سپریم کورٹ میں جانے والے سب لوگ پچھتائیں گے۔ کچھ لوگ اپنے پچھتاوے کو چھپانے کیلئے لندن چلے گئے۔ میں تو حیران ہوں کہ نواز شریف کو کیا سوجھی۔ یہ معاملہ تو آرمی اور پیپلز پارٹی کے درمیان تھا۔ وہ کیوں درمیان میں کود پڑے۔ مجھے یقین ہے کہ کسی طرف سے ہدایت آئی اور وہ سیدھے سپریم کورٹ میں چلے گئے۔ اس معاملے کو سیاسی طور پر عسکری قیادت اور سیاسی قیادت کی کسی مفاہمت سے حل کیا جا سکتا تھا۔ اس میں سپریم کورٹ کو کیوں لایا گیا۔ یہ میری پہلی شرمندگی تھی کہ سپریم کورٹ نے طارق کھوسہ کو کمیشن کا سربراہ بنایا اور اس نے صاف انکار کر دیا۔ جبکہ اس کے لئے دوسری پارٹی کو تحفظات تھے۔ اس سے پہلے پارلیمانی کمیٹی بنا دی گئی تھی جس کے سربراہ رضا ربانی ہیں۔ ان سے اختلاف بھی ہے مگر اعتراف بھی ہے وہ دوسروں سے نسبتاً بہتر ہیں۔ بہرحال طارق کھوسہ اچھے ہیں کہ وہ بیوروکریٹ تھے اور پولیس افسر بھی تھے۔ پاکستان کے لئے اس امریکی سازش کیس کے مدعی پاکستان کے ایک محب وطن بڑے سیاستدان دو بار وزیراعظم اور ”ممکنہ اگلے“ وزیراعظم نواز شریف تھے مگر انہوں نے اپنا وکیل مقرر نہ کیا۔ مجبوراً بے چارے اکرم شیخ کو منصور اعجاز کا وکیل بننا پڑا۔ یہ بھی وکالتی تاریخ کا بے مثال واقعہ ہے کہ وہ ایک گواہ کے وکیل بن گئے اور اس کے پاکستان آنے کے لئے صدر دروازہ بھی بن گئے جو بند کر دیا گیا تھا اور الزام یہ لگایا گیا کہ یہ دروازہ صدر زرداری نے بند کروایا ہے۔ ہم نے تو یہ سن رکھا ہے کہ مدعی سست گواہ چست۔ یہاں تو گواہ مدعی سے بھی زیادہ سست ثابت ہوا۔ مدعی نواز شریف لندن چلے گئے اور تب واپس آے جب مقدمے کا ”فیصلہ“ ہو گیا۔ سپریم کورٹ نے خود حسین حقانی کو پاکستان سے جانے کی اجازت دے دی۔ سپریم کورٹ نے یہ ”فیصلہ“ کرنا تھا تو پھر یہ فیصلہ کیوں کیا تھا کہ حسین حقانی بیرون ملک نہیں جا سکتے۔ منصور اعجاز نے کہا کہ میں نے حسین حقانی کی رہائی کے لئے تجویز دی تھی۔ اس میں کیا راز ہے اور حسین حقانی سے کیا ضروری بات منصور اعجاز نے کرنا ہے۔ منصور اعجاز نے انہی دنوں میں آئی ایس آئی کے خلاف مضمون لکھا ہے۔ اس نے امریکی سی آئی اے کے خلاف کبھی نہیں لکھا۔ بھارتی ”را“ کے خلاف کبھی نہیں لکھا۔ جتنے مظالم عالم انسانیت، عالم اسلام پر سی آئی اے نے توڑے ہیں وہ منصور اعجاز بھی شمار نہیں کر سکتا۔ اس نے کشمیر کے لئے جنگ بندی کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ اس نے اسرائیل کو تسلیم کر لینے کیلئے بھی بڑا زور لگایا تھا۔ مشرف کو بھی یہ مشورہ منصور اعجاز نے دیا ہوگا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر لے۔
ایک عام شہری اور چیف جسٹس کے جانثار کے طور پر یہ پوچھنے کا حق تو مجھے ہے کہ سپریم کورٹ نے حسین حقانی کو بیرون ملک یعنی امریکہ جانے کی اجازت کیوں دی؟ یہ بھی بتا دیا جائے کہ کیا یہ کیس بلکہ سازش کیس ختم کر دیا گیا ہے یا ابھی کوئی فیصلہ آنے والا ہے؟ یہ بھی بتا دیا جائے کہ کیا اس پر عمل درآمد بھی ہوگا؟ میرے خیال میں یہ توہین عدالت ہے مگر اس کا نوٹس کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ میں جنرل کیانی اور جنرل پاشا کو پسند کرنے کے باوجود یہ کہہ رہا ہوں کہ اتنی تذلیل کبھی پاک فوج کی نہیں ہوئی جو اس دور میں ہوئی ہے۔ جنرل کیانی بہت بڑے جمہوریت پسند ہیں مگر وہ کس قسم کی جمہوریت کو پسند کرتے ہیں؟ جو لوگ کہتے ہیں کہ اداروں میں تصادم نہیں ہونے دیا جائے گا تو یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ تصادم کی کونسی قسم ہے؟ سنا ہے کہ فوج اتنی تذلیل کو برداشت نہیں کرے گی۔ جنرل جہانگیر کرامت کی تذلیل میں خود اس کا اپنا بھی حصہ تھا مگر اس کا بدلہ جنرل مشرف کے لئے سارے کور کمانڈرز نے لیا۔ اس کا فائدہ جس طرح جنرل مشرف نے اٹھایا وہ پوری پاک فوج کے لئے ایک ذلت بن گیا۔ جنرل کیانی نے اس ذلت کو عزت میں بدل کے دکھا دیا اور سیاست کی حمایت کی جسے جمہوریت کہا گیا مگر اب جنرل کیانی کی تذلیل کا بدلہ کون لے گا؟ مجھے یقین ہے کہ فوج مارشل نہیں لگائے گی، اسے مارشل لاءلگانا بھی نہیں چاہئے۔ فوجی حکمران اور سیاسی حکمران میں کوئی فرق بھی نہیں دکھائی دیا۔ دونوں کو امریکہ نے اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا۔ اب کیا ہوگا؟ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ آجکل ایک اور اصطلاح استعمال ہو رہی ہے اور وہ عدالتی مارشل لاءہے۔ وکلاءسول سوسائٹی اور لوگوں نے تو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو نجات دہندہ سمجھا تھا۔ عدالتی قیادت، سیاسی قیادت اور عسکری قیادت سے لوگ مایوس ہیں۔ وہ تو قیادت سے بھی مایوس ہیں ابھی امریکی مقاصد پورے نہیں ہوئے۔ امریکی طوطا چشم ہیں اور ہم میاں مٹھو ہیں۔!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں