پاکستان مسلم لیگ کا نیا زمانہ؟

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 2 فروری ، 2010
مانسہرہ اور سوات میں شکست فاش کے بعد مسلم لیگ ن کے پریشان حال لوگ خود کو چھپاتے پھرتے ہیں۔ وہ جو مسلم لیگ ق کے ختم ہونے کی باتیں کرتے تھے۔ مسلم لیگوں کے اتحاد کی باتیں کرتے پھرتے ہیں۔ دھاندلی نہ ہوتی تو مسلم لیگ ق جیت جاتی۔ دھاندلی کا الزام بھی مسلم لیگ ن نے لگایا ہے جبکہ مسلم لیگ ق اس سے آگے ہے۔ چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی کی یہ بات درست ہے کہ پیپلز پارٹی کے بعد وفاقی جماعت مسلم لیگ ق ہے۔ چاروں صوبوں میں مسلم لیگ ق کی نمائندگی ہے مانسہرہ میں مولانا فضل الرحمن نے 2002ءکے انتخابی حربے کو استعمال کیا ہے کہ میں مانسہرہ پر ڈرون حملے نہیں ہونے دوں گا۔ اس تقریر اور پارلیمنٹ میں قرارداد کی ایک جیسی حیثیت ہے۔ پانچ سال سرحد پر حکومت کرنے کے باوجود مولانا نے کیا کارنامہ کیا صوبہ سرحد میں امریکی مداخلت بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ جے یو آئی کے لائق محمد اعظم سواتی کے رشتہ دار ہیں اور وہ پارلیمنٹ کا امیر ترین سنیٹر ہے۔ اس انتخاب میں بھی پیسہ بہت چلا ہے۔ ورنہ لائق محمد صرف نام کا لائق ہے۔ شریف برادران بھی کم امیر نہیں۔ اور وہ سیاست میں پیسے کی اہمیت اور استعمال کو خوب جانتے ہیں مگر....؟ مانسہرہ کی سیٹ مسلم لیگ ن کی تھی۔ اس میں امیدوار کی اپنی حیثیت کا دخل بھی ہوتا ہے جبکہ ن کی قیادت کسی اور کی حیثیت مانتی ہی نہیں۔ مرحوم فیض احمد خان ایم کیو ایم کے برادرم نوید خان اور کیپٹن صفدر کے بقول بہت اچھے انسان اور سیاستدان تھے۔ یہ سیٹ ہارنا مسلم لیگ ن کیلئے اس موقع پر ایک وارننگ ہے۔ یہ جماعت صرف پنجاب تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور پنجاب پر بھی اس کی گرفت کمزور ہوگئی۔ پنجاب مسلم لیگ کا گڑھ ہے تو مسلم لیگ ن بھی مسلم لیگ ہے پنجاب میں فیصلہ کن معرکہ شیخ رشید کے حلقے میں لگے گا اور یہاں شیخ صاحب اپنی کامیابی کے داعی ہیں۔ مسلم لیگ ق نے اس کی حمایت کی ہے۔ مسلم لیگ ن کی اتحادی پیپلز پارٹی غیر جانبدار بھی رہی تو جیالے شیخ صاحب کو ووٹ دیں گے۔ یہ ن لیگ کیلئے بڑا امتحان ہے شاید آخری امتحان ہے۔مانسہرہ میں جیتے ہوئے امیدوار کے 36660ووٹوں کے مقابلے میں مسلم لیگ ق کے 31762 ووٹ ہیں مسلم لیگ ن تیسرے نمبر پر اور پیپلز پارٹی چوتھے نمبر پر ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ مسلم لیگ ق کے ساتھ پیپلز پارٹی کا اتحاد ہوتا تو ان کا مشترکہ امیدوار جیت جاتا اور اگر مسلم لیگ ن کا اتحاد ہوتا تو پھر بھی جیت ان کی ہوتی۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے اتحاد سے دونوں جماعتوں کونقصان پہنچا ہے۔ گورنر راج کے بعد پیپلز پارٹی نے بہت کوشش کی کہ مسلم لیگ ق کے ساتھ اتحاد ہو جائے مگر بعدازوقت کی ترکیب کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ یہ وقت پر ہوتا تو ملک میں انتشار بھی نہ ہوتا اور سیاسی مسائل عوامی مسائل پر حاوی بھی نہ ہوتے۔ اب دونوں اتحادی پارٹیاں صرف حکومتیں بنانے اور بچانے کا کام کر رہی ہیں عوامی مسائل پر صرف مسلم لیگ ق کے لیڈر بولتے ہیں۔ ساری چیزوں کی قیمتوں کا موازنہ کریں تو آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں چوہدری شجاعت نے کہا کہ اگر مسلم لیگوں کا اتحاد ہوا ہوتا تو آج نوازشریف صدر ہوتا اور اس میں تیسری بار کی شرط بھی نہ ہوتی۔ سیاستدان پھر ناکام نہ ہوتے نہ عام لوگوں کی توہین ہوتی۔ اس کی تائید مشاہد حسین نے بھی کی۔ وہ جب مسلم لیگ ق کی طرف سے صدارتی امیدوار تھے تو اسحاق ڈار ان سے ملے کہ مسلم لیگ کا ایک امیدوار ہونا چاہئے۔ مشاہد حسین نے کہا کہ پہلے مسلم لیگ تو ایک ہو۔ میں جسٹس (ر) صدیقی کے حق میں دست بردار ہونے کیلئے تیار ہوں۔ شرط صرف یہ ہے کہ شریف برادران چوہدری برادران سے صلح کرلیں۔ اس نے دوسرے دن بتایا کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا تو مشاہد نے کہا کہ پھر یہ وقت کبھی نہیں آئے گا۔ اسحاق ڈار نے پوچھا کہ اس کا طریقہ کیا ہے۔ مشاہد نے کہا کہ بڑا آسان ہے۔ نوازشریف گاڑی میں بیٹھیں اور چوہدری ہاﺅس چلے جائیں۔ وہاں ان کے استقبال کیلئے چوہدری شجاعت موجود ہونگے۔ دونوں بھائی ایکدوسرے کو جپھی ڈالیں یعنی بغلگیر ہوں اور خوب روئیں۔ یہ رونا بڑا ضروری ہے اب نہ روئے تو پھر آگے چل کر بہت رونا پڑے گا۔ چوہدری شجاعت تیار تھے چنانچہ اب رونا شریفوں کے خاندان میں پڑا ہوا ہے۔ رونا اور رولا ایک ہوگیا ہے۔ اب مانسہرہ میں بھی دونوں ہار گئے ہیں۔ مگر مشاہد حسین نے کہا کہ ہم اس طرح نہیں ہارے کہ ہم نے دونوں بڑی جماعتوں کو ہرا دیا ہے۔بڑی جماعت تو پھر مسلم لیگ ق ہوئی۔ یہی بات چوہدری شجاعت نے چیف جسٹس کی پہلی بحالی پر صدر جنرل پرویز مشرف سے کہی تھی۔ انہوں نے یہ بات مان لی ہوتی تو شاید آج بھی وہ صدر ہوتے۔ مگر قدرت جابر ظالم کرپٹ اور نالائق لوگوں سے ایسی غلطیاں کراتی ہے کہ توہین آمیز ناکامی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔
سوات میں بھی وہ دونوں مسلم لیگ ق سے ہار گئے ہیں۔ وہاں اے این پی نے اپنی سیٹ برقرار رکھی ہے۔ دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ق ہے اور تیسرے نمبر پر عمران خان کی جماعت ہے۔ مسلم لیگ ن کے پاس امیدوار ہی نہ تھا اور پیپلزپارٹی کا بھی کہیں دور دور تک پتہ نہیں۔ سلیم سیف اللہ جو مسلم لیگ ق کا ہمخیال گروپ بنا کے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بناکے الگ ہوئے تھے۔ خواب و خیال ہوکے رہ گئے ہیں۔ جسے کسی نے مسلم لیگ کشمالہ گروپ کا نام دیا ہے۔ سلیم سیف اللہ سرحد کے صدر ہیں۔ سلیم سیف اللہ کے گھر شہبازشریف گئے تھے پھر بھی وہ سنبھل نہیں سکے۔بے چاری کشمالہ طارق ایک میٹنگ میں کبیر علی واسطی سے بے عزتی کرا کے روتی ہوئی باہر نکلی تھی۔ حیرت ہے کہ اس پر ہمایوں اختر خان نے بھی واسطی صاحب کو کچھ نہیں کہا۔ شہبازشریف مانسہرہ میں ایک دن کیلئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ ن سرحد اور پنجاب کے لوگوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔ کیپٹن صفدر اکیلے ہی انتخابی مہم چلاتا رہا۔ کچھ گھر کے لوگ اپنے ہی امیدوار کو ہرانے میں لگے رہے کیونکہ وہ نوازشریف کے داماد کا بھائی ہے۔ شہبازشریف نے مانسہرہ میں انتخابی تقریر کی بجائے انقلابی تقریر کی۔ انقلاب تقریروں سے نہیں آتے۔ وہ انقلاب کیلئے تقریر نہیں کرتے قومی انقلاب کیلئے تقریر کرتے ہیں۔ وہ حبیب جالب کی نظم جلسوں میں گاکے سناتے ہیں اور سماں باندھ دیتے ہیں۔ ”دیپ جس کا محلات ہی میں جلے“۔ حبیب جالب کا بیٹا کہہ رہا تھا کہ پاکستان میں سب سے بڑا محل کس کا ہے؟ ان کی اپنی جماعت کے انقلابی لیڈر جاوید ہاشمی نے کئی بار کہا ہے کہ صدر زرداری اور گیلانی کے ساتھ ساتھ شہبازشریف کا بھی احتساب ہونا چاہئے نجانے اس نے نوازشریف کا نام کیوں نہیں لیا۔ نوازشریف ابھی اقتدار کے انتظار میں ہے مگر وہ پنجاب حکومت میں تو برابر کا شریک ہے۔
کاش یہ لوگ نظریہ پاکستان کے محافظ مجاہد صحافت مجید نظامی کی کوششوں کی قدرکرتے۔ صرف وہی مسلم لیگوں کا اتحاد کرواسکتے ہیں۔ پاکستان کی خالق جماعت کیلئے مجید نظامی ہمیشہ بے قرار رہتے ہیں اس ضمن میں چوہدری پرویز الٰہی کی یہ بات دل ہلا دیتی ہے۔ ”اگر 1970ءمیں مسلم لیگ جیت گئی ہوتی تو پاکستان نہ ٹوٹتا“ اس سے پہلے مسلم لیگ ٹوٹ گئی تھی پھر سیاسی جرنیلوں اور سیاستدانوں نے مسلم لیگ کو اقتدار کا کھلونا بنا لیا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں