کالا باغ ڈیم پر قومی ریفرنڈم

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 1 ستمبر ، 2010
کالا باغ ڈیم کیلئے اس سے بڑا موقعہ کوئی نہیں ہے۔ ہر طرف سے کالا باغ ڈیم کے حق میں آوازیں آرہی ہیں۔ مجاہد صحافت مجید نظامی نے حسب روایت نوائے وقت میں کالا باغ ڈیم پر ”قومی ریفرنڈم“ کے نام سے ایک سلسلہ کا آغاز کیا ہے جو ہر روز شائع ہورہا ہے۔ اس کے ساتھ ایک فارم بھی ہے جس میں خواتین و حضرات اس ریفرنڈم کے حق یا مخالفت میں اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہ ریفرنڈم تحریک پاکستان میں قائداعظمؒ کی طرف سے صوبہ سرحد کیلئے ریفرنڈم سے کم اہم نہیں ہے۔ اس ریفرنڈم میں بھی پاکستان سے محبت کرنے والوں کو کامیابی ہوگی۔ یہ تو نوائے وقت کی قومی تحریک ہے۔ لہٰذا اس طرف تمام محب وطن پاکستانیوں کو خصوصی توجہ کرنا چاہئے۔ جلد ہی اس ریفرنڈم کے نتائج سے بھی قوم کو آگاہ کیا جائیگا۔ اسکے بعد پارلیمنٹ، حکومت اور اپوزیشن کو رجوع کرنا پڑیگا۔
نواز شریف نے حزب اقتدار میں ہوتے ہوئے خیبر پختونخواہ کی مخالفت کی، حزب اختلاف میں اسکی حمایت کی۔ حمایت اور مخالفت کس کے اشارے پر کی گئی۔؟ نوائے وقت میں مجید نظامی کی ہدایت کے مطابق خیبر پختونخواہ کو ”خیبر پی کے“ لکھا جا رہا ہے۔ نوازشریف نے اس موقع پر کالا باغ ڈیم کیلئے گفتگو کو بے وقت قرار دیا ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ نوائے وقت میں ”کالا باغ ڈیم پر قومی ریفرنڈم“ کیلئے مجید نظامی کی دردمندانہ تحریر پڑھ لیں۔مجیدنظامی نے بجاطور پر لکھا ہے ”حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں نے کالاباغ ڈیم کی اہمیت و افادیت کو مزید اُجاگر کر دیا ہے اور تمام آبی ماہرین میں اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ اگر کالاباغ ڈیم تعمیر ہو چکا ہوتا تو بالخصوص خیبر پی کے میں سیلاب کی اتنی تباہ کاریاں نہ ہوتیں جتنا اب اس صوبے کے عوام کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے“ آگے چل کر مزید لکھتے ہیں۔ ”قومی ترقی کے ضامن کالاباغ ڈیم کو بدقسمتی سے مخصوص مفادات کے تحت متنازع بنا کر سیاست کی نذر کر دیا گیا ہے....!“
پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی وزیراعظم پاکستان کی طرف سے کالا باغ ڈیم کی حمایت کا اعلان بہت خوش آئند ہے۔ اس کے مقابلے میں صوبہ سرحد کے امیر جماعت اسلامی پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ وہ صرف پنجاب کے وزیراعظم لگتے ہیں۔ اس سلسلے میں برادرم سراج الحق کا کیا تبصرہ ہے۔ میں اس کیلئے قاضی حسین احمد، سید منور حسن اور لیاقت بلوچ، فرید احمد پراچہ اور انور نیازی سے شکایت کرتا ہوں۔ سب سے بامعنی بات چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی کی ہے۔ سیلاب کے سامنے کوئی پٹھان، سندھی، پنجابی اور بلوچ نہ تھا۔ پاکستانی بھی خوامخواہ کی ضد (پختونخواہ کی ضد) چھوڑ دیں اور کالا باغ ڈیم بنائیں“۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے بار بار کالا باغ ڈیم کی حمایت کی ہے۔ سیاستدان این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کی طرح اس کیلئے بھی متفق ہوجائیں۔ راجہ ریاض نے تو کالا باغ ڈیم کی مخالفت کیلئے بھارتی لابی کو ذمہ دار کہا ہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان، رحمن ملک اور پیپلز پارٹی کے وہ لوگ جو پاکستان کا درد رکھتے ہیں، مسلسل کالا باغ ڈیم کی اہمیت پر بات کررہے ہیں۔ برادر کالم نگار فاروق انصاری نے یقین ظاہر کیا ہے کہ ”صدر زرداری کالا باغ ڈیم بنائیں گے“ پیپلز پارٹی میں کالا باغ ڈیم کی حمایت صدر زرداری کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ وہ یہ ڈیم بنائیں تو لوگ حیران ہوں گے اور اسکے بعد خوش بھی ہوجائیں گے۔ یہ معرکہ آرائی پاکستان کے ارتقاءاور بقاءکیلئے ضروری ہے۔ یہ صدر زرداری کیلئے بھی بہت ضروری ہے۔ اسکے بعد انکے مستقل اور عادی مخالفین پریشان ہوجائیں گے۔ وہ قومی تاریخ میں ایک بلند مقام حاصل کر لیں گے۔ ہمارے ہاں عجب سیاست ہے کہ حمایت کرنے والے اور مخالفت کرنے والے دونوں سمجھتے ہیں کہ ہم سچائی پر ہیں مگر کچھ اقدام ایسے ہوتے ہیں کہ دونوں دم بخود رہ جاتے ہیں۔ میری صدر زرداری سے گزارش ہے کہ وہ یہ کارنامہ کر ہی دیں۔ جو کام صدر ایوب، بھٹو مرحوم، جنرل ضیائ، بے نظیر بھٹو، نوازشریف اور جنرل مشرف سے نہ ہوسکا
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
خدائے دو جہاں سے بھی التجا ہے کہ وہ کسی حکمران کو تو توفیق دے۔ صدر زرداری کو ہی توفیق دے کہ وہ یہ کام کرجائیں اور یہ یقیناً ایک بڑا کام ہے۔ خدا نے انہیں صدر پاکستان بنایا ہے۔ یہ بات ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہوگی۔ وہ خدا کے شکرگزار بندے بن جائیں اور ملک کیلئے کچھ ایسا کر جائیں جو ان کے جانے کے بعد انہیں زندہ رکھے۔ ہمارے فوجی حکمران اپنے اقتدار کیلئے ریفرنڈم کرا سکتے تھے تو کالا باغ ڈیم کیلئے کیوں نہیں کراسکتے تھے۔ کیا ان کی ذات پر سب سیاستدانوں کا اتفاق تھا کہ اس معاملے میں اتفاق رائے کو ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ نوائے وقت کے قومی ریفرنڈم کو فیصلہ کن سمجھ لیں۔
واپڈا کے سابق چیئرمین اور صوبہ سرحد کے سابق نگران وزیراعلیٰ پختون انجینئر شمس الملک نے پہلے بھی اور اب بھی کہا ہے ”کالا باغ ڈیم سے نوشہرہ کو خطرہ نہیں۔ اب کس نے نوشہرہ کو ڈبویا ہے۔ کالا باغ ڈیم کے مخالفین کا منہ کالا ہوگیا ہے۔ اے این پی کے منفی پروپیگنڈے کی سزا سارے صوبوں کو ملی ہے۔ منصوبہ ختم کرانے کی سیاست کیلئے رشوت لینے والے آرام سے اسلام آباد، پشاور، کراچی اور لاہور بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر تربیلا ڈیم نہ ہوتا تو سکھر بیراج ٹوٹ جاتا اور سندھ مزید تباہ ہوجاتا۔ اب بھی سندھ، بلوچستان کی تباہی کے بعد پیسے کی سیاست اور کرپشن کا کاروبار ختم کرکے ملک کو بیچنے کا ارادہ ترک کریں اور کالا باغ ڈیم بنائیں“۔ انجینئر شمس الملک کی بات ولی خان مان گیا تھا مگر حکومت ٹوٹ گئی۔ اب اسفند یار ولی اپنے باپ کا مخالف ہوگیا ہے۔ روس کی بجائے امریکہ کا غلام بن گیا ہے اور امریکہ بھی کالا باغ ڈیم کا مخالف ہے۔ بھارت بھی اب روس کی بجائے امریکہ کا دوست بنا ہوا ہے۔ پاکستان مخالف لابی بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکی سفارتخانے کی کوششوں سے ہی صوبہ سرحد کا نام تبدیل کردیا گیا ہے۔ آج کل اسفند یار ولی غائب ہے۔ سارے تالپور اس سے بڑھ کر ہیں۔ مجھے ہزارہ کے بابا حیدر زمان نے بتایا کہ میں نے صوبے کے نام اور کالا باغ ڈیم پر ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تو بشیر بلور نے کہا کہ اب ریفرنڈم اس پر ہوگا کہ ہم افغانستان کے ساتھ رہیں گے یا پاکستان کے ساتھ....؟ قائداعظمؒ نے بھی یہی ریفرنڈم کرایا تھا جس میں باچا خان کے لاڈلے ہار گئے تھے۔ اب وہ ریفرنڈم کے بغیر جیت گئے ہیں۔!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں