قوم اور ملک کے جو لوگ وفادار نہیں!
وہ تو چھوٹی سی رعایت کے بھی حقدار نہیں
ہم میں حقدار رعایت کا بھلا ہے بھی کون
رکھ کے سر سجدے میں جو کہہ دے گناہ گار نہیں
سبھی اک بار کریں چاک گریباں اپنا
ہم میں کوئی بھی پیمبر نہیں اوتار نہیں
جس کا بس چلتا ہے اور جتنا جہاں چلتا ہے
وہ یہ کہتا ہے کہ ’اتنے میں‘ کوئی عار نہیں
حج بھی کرتے ہیں ادا کرتے ہیں پنج وقت نماز
پھر بھی اللہ کے بندوں سے سرکار نہیں
روزہ رکھتے ہیں جو گوداموں میں بھر کے گندم
جانتے ہیں کہ عبادت کا یہ معیار نہیں
چھپ کے اللہ سے بخشش کی دعا مانگتے ہیں
برملا جرم کے اقرار کو تیار نہیں
سوچتا ہو گا خدا ایسی دعائیں سُن کر
میں ہوں سب جانتا، لیکن یہ خبردار نہیں
کیسے خوش ہوتا ہوں میں کاش سمجھتا انساں
میرا ہو کر مرے بندوں کا یہ غمخوار نہیں
صاف رکھتا نہیں نیت کو نہاتا ہے روز
ذہنی بیداری کا ہرگز یہ طلبگار نہیں
روح بیمار ہے دیکھو تو تنومند ہے یہ
چارہ کر سکتا ہے بزدل ہے یہ لاچار نہیں
قوم اور ملک سے یہ خاک نبھائے گا وفا
بے وفا ایسا ہے خود اپنا وفادار نہیں